طلبہ تنظیموں کی آزادی

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  پير 20 نومبر 2017
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

ایک دور تھا کہ جب طلبہ تنظیموں کی سرگرمیاں جامعات کی جان ہوا کرتی تھیں، ڈائیلاگ یا بحث و مباحثوں کا دور دورہ ہوتا تھا، طلبہ باوجود نظریاتی اختلاف کے آپس میں دوستیاں بھی رکھتے تھے۔ اس دور میں بے شمار ایسی شخصیات ابھر کر سامنے آئیں کہ جنھوں نے ملکی سیاست میں بہت سرگرم اور اہم حصہ لیا۔ گویا طلبہ کی یہ سرگرمیاں ان میں چھپی ہوئی صلاحیت کو نکھار رہی تھیں اور طلبہ کی ایک ایسی تعداد تیار ہورہی تھی کہ جو ملکی سیاست میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ مگر یہ صرف اس دور کی بات ہے جو آج سے کئی دہائیوں پہلے کا دور تھا۔ اب کالجز اور جامعات کا کلچر، رنگ ڈھنگ سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ کے حوالے سے راقم کا تقریباً بیس سال کا مشاہدہ ہے جب کہ تدریس کے حوالے سے جامعہ کراچی سمیت کراچی کی مختلف جامعات میں تجربہ بھی رہا ہے۔ اس بیس سالہ تجربہ سے یہ اندازہ ہوا ہے کہ اب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ میں علم حاصل کرنے کی خواہش یا پیاس بالکل نہیں بلکہ ان کی دلچسپی صرف اس حد تک ہے کہ انھیں کسی ایسے شعبے میں داخلہ مل جائے جہاں سے فارغ ہوتے ہیں، انھیں ایک اچھی آمدنی والی ملازمت مل جائے اور دوران تعلیم بغیر کچھ مطالعہ کیے ایک استاد زیادہ سے زیادہ نمبر دیدے۔ کلاس لینے میں بھی طلبہ کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، تیس سے چالیس طلبہ کی کلاس میں بمشکل دو تین طلبہ سنجیدگی سے کلاس لیتے ہیں اور مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے ایک ریٹائرڈ استاد کے بقول آج کا طالب علم ’طالب علم‘ نہیں بلکہ ’طالب نمبر‘ ہے۔

دوسری جانب طلبہ تنظیموں کا کر دار نہایت افسوس ناک ہے، بقول ایک استاد، ان کے پاس جب بھی کسی طلبہ تنظیم کا کوئی نمایندہ وغیرہ آیا، وہ کسی کی ایسی سفارش ہی لے کر آیا کہ جس سے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے، مثبت اور تعمیری معاملے میں شاید ہی کوئی نمایندہ کبھی آیا ہو۔ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات کے ایک ملازم کے مطابق جب سے ایک سخت قسم کے ناظم امتحانات کا تقرر ہوا اور غلط قسم کے کاموں کی روک تھام ہوگئی تو طلبہ تنظیموں کے نمایندوں کی ایک بڑی تعداد جو صبح و شام شعبہ امتحانات کے گرد موجود رہتی تھی رفتہ رفتہ غائب ہوگئی۔

راقم نے آنرز اور ماسٹرز کلاس کے طلبہ کو کئی مرتبہ دعوت دی کہ آئیں مل کر ایک ’ریڈنگ کلب‘ بنا لیتے ہیں کہ جہاں طلبہ اپنی اپنی تحریریں ایک دوسرے کو ہر ہفتے پندرہ دن میں پیش کریں اور جو طلبہ کوئی سی بھی کتاب پڑھیں اس پر اپنا اپنا تبصرہ پیش کریں، نیز اس قسم کی اور بھی علمی سرگرمیاں شروع کریں۔ مگر افسوس دو سال میں بھی راقم کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی، طلبہ نے کوئی دلچپسی ظاہر نہیں کی۔

طلبہ کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے ان ہی کے نصاب سے متعلق کئی مرتبہ لیکچر اور سیمینار منعقد کرانے کی کوشش کی لیکن طلبہ کا تعاون اس قدر خراب تھا کہ ایک مرتبہ تو سیمینار میں محض چار طلبہ ہی شرکت کے لیے موجود تھے۔ جب کبھی شعبہ کی جانب سے کسی سیمینار کا انعقاد ہو تو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ طلبہ کو کیسے ’گھیر گھار‘ یا پکڑ کر زبردستی سیمینار میں شرکت کے لیے لایا جائے؟ یہ اس ملک کی سب سے بڑی جامعہ کا حال ہے، باقی کا اندازہ کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔

لائبریریاں ویران نظر آتی ہیں یا پھر طلبہ یہاں نجی گفتگو کرنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ میں علمی اعتبار سے کوئی قابلیت نظر نہیں آتی۔ ایک مرتبہ ایم اے کی کلاس میں راقم نے ’دائیں اور بائیں بازو‘ کی اصطلاح استعمال کی تو پوری کلاس کی سمجھ میں بات نہیں آئی، پھر جب ان طلبہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس لفظ کا مطلب جانتے ہیں، تو صرف ایک طالب علم نے کہا جی ہاں! دائیں بازو کا مطلب ہے ’لیفٹ ہینڈ‘ ( الٹا ہاتھ)۔ ایک استاد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابلاغ عامہ کی کلاس میں جب کبھی بھی طلبہ سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنے لوگ اخبار پڑھتے ہیں؟ تو جواب میں کبھی بھی ایک یا دو سے زیادہ طلبہ باقاعدہ اخبار نہیں پڑھتے تھے۔

یہ سلسلہ اب سے نہیں ایک طویل عرصے سے جاری ہے، انھی حالات میں طلبہ تنظیموں کو پابندیوں کے باوجود کام کرتے دیکھا لیکن ان کی سرگرمیاں ایسی مثبت نہیں رہیں کہ طلبہ کا یہ کلچر تبدیل ہوسکے اور ان میں مطالعہ کا شوق پیدا ہو، اور یہ شوق و کلچر پیدا بھی کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں نظر آتا ہے کہ ہفتہ طلبہ میں کوئی تنظیم انڈین گانوں پر بھنگڑے ڈال رہی ہے، کسی نے میلہ ٹھیلہ لگایا ہوا ہے، جس کا منظر کسی گاؤں دیہات کے میلے کا سا ہے کہ جہاں بچے چرخی والے جھولے، جہاز والے جھولے لے رہے ہوں، دہی بھلے اور چاٹ کھا رہے ہوں۔ کسی تنظیم نے بہت زور مارا تو مشاعرہ یا کتب میلہ لگادیا اور بس۔

ایسے ماحول میں اگر طلبہ تنظیموں پر سے عائد پابندی ہٹالی جائے تو کیا تعلیمی اداروں میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟ کئی سینئر اساتذہ اور ملازمین جامعہ کا کہنا ہے کہ ان طلبہ تنظیموں پر پابندی سے کم از کم ایک فائدہ تو ضرور ہوا ہے کہ جامعات سے اسلحہ اور منشیات کا خاتمہ ہوا۔ راقم نے بھی طلبہ تنظیموں کے جھگڑے کا وہ منظر دیکھا ہے کہ جب کئی طلبہ نے مخالف تنظیم کے ایک نہتے طالب علم کو گھیر لیا اور ایسی لکڑیوں سے اس کے سر اور جسم پر وار کیے جس کے کناروں پر لمبی لمبی نوکیلی کیلیں لگی ہوئی تھی۔ ایسے ڈنڈے مخالف طالب علم پر تشدد کرنے کے لیے طلبہ تنظیمیں ہر وقت تیار رکھتی تھیں۔

ایک واقعہ ہمارے دوست نے بتایا کہ وہ لائبریری کے اوپر سے طلبہ تنظیموں کے تصادم کا منظر دیکھ رہے تھے۔ ایک طالبعلم جان بچانے کے لے لائبریری کے پاس سے بھاگ کر کہیں پناہ کے لیے کو شش کر رہا تھا کہ زخمی ہونے کے باعث گر پڑا۔ اس کے بعد مخالف طلبہ تنظیم کا گروہ پیچھا کرتے ہوئے آگیا، اس گروہ کا ہر رکن اس گرے ہوئے طالب علم کو ایک ڈنڈا مارتا اور آگے بھاگتا جاتا، یوں درجن بھر کے قریب لڑکوں نے زمین پر گرے ہوئے اس طالب علم پر ڈنڈے مارے اور یوں وہ موقع ہی ہلا ک ہوگیا۔

یہاں یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد تعلیمی اداروں یا طلبہ تنظیموں کو بدنام کرنا نہیں بلکہ یہ باور کرانا مقصود ہے کہ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ان کی لاشیں گھر پر وصول کریں، طلبہ کی حفاظت اور تعلیمی اداروں کا بہتر نظم و نسق ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ طلبہ تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی دینا یقیناً ایک اچھی بات ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا ہماری جامعات کی انتظامیہ ایسی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ طلبہ کو کنٹرول کرکے نظم و ضبط قائم کرسکے؟ کیا طلبہ تنظیموں کی بحالی کے بعد پرامن ماحول میں تعلیم جاری رہ سکے گی؟

حال ہی میں پاکستان کی مختلف جامعات میں جو پرتشدد واقعات ہوئے ہیں کیا اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوگا یا ان پر قابو پالیا جائے گا؟ سب سے اہم سوال کہ طلبہ تنظیموں کی آزادی کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ آئیے اس سوال پر مندرجہ بالا گزارشات کے تناظر میں غور کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔