تھر پارکر اور عمر کوٹ کی غریب حاملہ خواتین کو ماہانہ 1500 روپے دینے کا فیصلہ

ثنا سیف  منگل 21 نومبر 2017
سندھ میں غریب حاملہ خواتین کو غذائی قلت کی کمی کا سامنا ہے، فوٹو: فائل

سندھ میں غریب حاملہ خواتین کو غذائی قلت کی کمی کا سامنا ہے، فوٹو: فائل

 کراچی: سندھ بھر میں غذائی قلت اور جسمانی نمو میں کمی کی بڑھتی شرح پر قابو کرنے کے لیے ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان (اے اے پی) پر کام شروع کر دیا گیا، اس پروجیکٹ کے لیے عالمی بینک 61 ملین ڈالر فنڈز فراہم کرے گا، پہلے مرحلے میں دو اضلاع بالخصوص تھرپارکر اور عمر کوٹ میں غریب حاملہ خواتین کو ماہانہ 15سو روپے امداد دی جائے گی، بتدریج اس پروجیکٹ کا دائرہ کار دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے غذائی قلت اور جسمانی نمومیں کمی کی بڑھتی شرح پرقابو کرنے کے لیے ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان (اے اے پی) نامی4سالہ پروجیکٹ تشکیل دیا ہے، پاکستان دنیا بھر میں نشوونما کی کمی کے شکار بچوں کے حوالے سے مختلف ممالک میں تیسرا درجہ رکھتا ہے، پاکستان میں اوسطاً 5 سال سے کم عمر 44 فیصد بچوں کا وزن مقررہ مقدار سے کم ہے اور سندھ میں غذائی قلت کے باعث 48 فیصد بچوں میں نشوونما کی کمی جبکہ 15 فیصد جسامت کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔

سندھ کے دو اضلاع بالخصوص تھرپارکر میں 63 فیصد اور عمر کوٹ میں 66 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، اسی وجہ سے حکومت سندھ نے غذائی قلت اور جسمانی نموکی بڑھتی شرح کو قابو کرنے کے لیے ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان (اے اے پی) نامی4 سالہ پروجیکٹ بنایا ہے جس کا مقصد سندھ کے بچوں کی نشوونما میں کمی کی شرح کو 48 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد تک لانا ہے، امسال مذکورہ پروجیکٹ پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے جوکہ 2021 میں اختتام پذیر ہوگا، اس پروجیکٹ میں محکمہ سماجی بہبود کا کردار اہم ہوگا چونکہ غریب حاملہ خواتین کو شرائط کی بنا پر کنڈیشنل کیش ٹرانسفر (سی سی ٹی) کے ذریعے ہر ماہ ایک ہزار یا 15سو روپے فراہم کرے گا، اس حوالے سے رقم کا تعین کرنا ابھی باقی ہے، اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر سندھ کے دو اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں غریب حاملہ خواتین کی مالی مدد کی جائے گی۔

اس ضمن میں ہر ضلع میں ایک ایک دفتر قائم کیا جائے گا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب و مستحق خواتین تک رسائی حاصل کی جائے گی اور مذکورہ پروجیکٹ کے حوالے سے شعور وآگاہی کو فروغ دیا جائے گا اور اس کے بعد دیگر اضلاع کا تعین کیا جائے گا، پروجیکٹ کوآرڈی نیٹر عیسیٰ میمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ حکومت سے ہر مہینے غریب حاملہ خواتین کی مالی مدد کے لیے 15سو روپے مختص کرنے کی سمری ارسال کی ہے۔

انھوں نے حاملہ خواتین پر عائد شرائط کے حوالے سے بتایا کہ حاملہ خواتین باقاعدگی سے تربیت یافتہ گائنا کالوجسٹ سے چیک اپ اور ڈیلیوری کرائیں گی ، بچے کی پیدائش کے 6 مہینے تک مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلائیں گی اور بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی لازمی بنوائیں گی،ان شرائط کی عدم تکمیل کے باعث مالی امداد روک دی جائے گی، حاملہ خاتون کے حاملہ ہونے سے لے کر پیدائش کے ابتدائی 2سال کا عرصہ نومولود بچوں کی بہتر جسمانی وذہنی نشوونما کے لیے کافی اہم ہے،سندھ کے 4اضلاع میں اس پروجیکٹ کی کامیابی کا ادراک کرنے کے بعد اس پروجیکٹ کے دائرہ کارکو مزید وسیع کیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے گزشتہ سال اس پروجیکٹ کے لیے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے کی رقم مختص کی تھی،اس میں سے محکمہ سماجی بہبود کے تحت قائم سوشل پروٹیکشن یونٹ کے لیے 28 ملین روپے کی رقم دی گئی، اس رقم سے سوشل پروٹیکشن یونٹ کا ایڈوانس کرایہ، فرنیچر،کمپیوٹر اور دیگر سامان خریدا گیا جبکہ مذکورہ رقم کے بروقت اور مناسب استعمال نہ کرنے کی وجہ سے اس کا بیشتر حصہ ضائع ہوگیا، علاوہ ازیں آئندہ ورلڈ بینک کے فنڈز میں سے 4 ملین امریکی ڈالر کی مزید امداد سوشل پروٹیکشن یونٹ کو دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سوشل پروٹیکشن یونٹ کا دفتر زینب مارکیٹ میں اسٹیٹ لائف بلڈنگ فلور نمبر5 پر قائم کیا گیا ہے، یونٹ کاعملہ فی الحال 6 افراد پر مشتمل ہے، آئندہ مزید ٹیکنیکل اسٹاف کے لیے 12 افراد اور سپورٹ عملے کے لیے 10 افراد کو مخصوص سسٹم کے تحت بھرتی کیا جائے گا،یونٹ کو قائم ہوئے 3 مہینے کا دورانیہ ہوچکا ہے جو مذکورہ پروجیکٹ کے لیے فریم ورک تشکیل دیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔