تاریخ کے تناظر میں آج کے حالات

نسیم انجم  ہفتہ 9 مارچ 2013
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

آج کے حالات کچھ اس طرح ہیں کہ جن واقعات کے پس منظر میں سلطنت مغلیہ کو زوال آیا تھا جیسے ہی اورنگ زیب کی وفات ہوئی مغلیہ سلطنت انتہائی پسپائی اور تنزلی کی حالت میں پہنچ چکی تھی اس کی وجہ اورنگ زیب کے انتقال کے فوراً بعد اس کے بیٹے حصول تخت کے لیے لڑنا جھگڑنا شروع ہوگئے، نتیجہ یہ ہوا کہ دشمنوں کو پنپنے کا موقع مل گیا۔

اورنگ زیب نے اپنی زندگی میں ہی سلطنت کو اپنے تینوں بیٹوں، معظم، اعظم اور کام بخش میں بانٹ دیا تھا لیکن اس کے مرتے ہی تینوں اورنگ زیب کی وصیت کو بھول گئے اور مکمل طور پر سلطنت پر قبضہ جمانے کے لیے نئے نئے حربے آزمانے لگے اور تخت نشینی کی جنگ چھڑ گئی، معظم اپنے دونوں بھائیوں پر غالب آگیا اور انھیں قتل کرانے کے بعد بہادر شاہ اول ’’شاہ عالم‘‘ کے لقب سے گدی نشین ہوا۔

بہادرشاہ نے مرہٹوں اور راجپوتوں کے ساتھ صلح کل کی حکمت عملی اختیار کی لیکن سکھوں نے اس کے اچھے سلوک کے برعکس کیا اور ’’بندہ بیراگی‘‘ کی قیادت میں بڑی لوٹ مار مچائی، جس وقت شہنشاہ دکن کی مہم پر گیا ہوا تھا انھوں نے سرہند پر حملہ کیا، شہر کو فتح کرکے کثیر تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا اور ان پر مظالم توڑے لیکن شہنشاہ کے آنے کے بعد سکھوں کو شکست ہوئی اور بندہ بیراگی پہاڑوں میں روپوش ہوگیا، اس کی وفات کے بعد بالترتیب جہاندار شاہ، فرخ سیر، رفیع الدرجات، رفیع الدولہ (شاہجہان ثانی) تخت نشین ہوئے۔

ستمبر 1719 میں سید برادران نے شہزادہ روشن اختر کو محمد شاہ کے لقب سے تخت پر بٹھادیا لیکن وہ عیش و عشرت میں مست ہوگیا اور ’’محمدشاہ رنگیلا‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے موجودہ حالات کی ہی طرح امور سلطنت سے غفلت برتی، لہٰذا سلطنت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، صوبے ایک کے بعد ایک خودمختاری کرنے لگے، اس طرح اودھ نے بھی اپنی خودمختاری کا اعلان کردیا، اسی کے عہد حکومت میں نادرشاہ نے حملہ کیا، اسے مغلوں کی کمزوریاں اور امراء کی سازشوں کا حال جوں ہی پتہ چلا اس نے موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اس وقت وہ والی ایران تھا اس کے علم میں یہ بھی تھا کہ یہاں کثیر دولت اور مغل شہنشاہ کا خزانہ موجود ہے۔

نادر شاہ نے دہلی کے مغل شہنشاہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے کئی برس سے اپنا سفیر اس کے دربار میں نہیں بھیجا اور ایران سے بھاگ کر آنے والے افغانوں کو یہاں پناہ دی۔ ان حالات کا جواز پیش کرتے ہوئے اس نے 1739 میں دریائے ستلج کو پار کیا اور شاہی افواج کو کرنال کے مقام پر شکست دی، اس کے بعد اس نے دہلی پر قبضہ کرلیا۔ محمد شاہ نے صلح کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور مغل شہنشاہ نے نادر شاہ کو بیس لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنا منظور کرلیا۔

شروع میں تو معاملات کچھ بہتر ہوئے لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد ایرانی سپاہیوں اور دہلی کے باشندوں میں جھڑپ ہوگئی لہٰذا نادر شاہ نے قتل عام کا حکم دے دیا، ایک دوسرے بیان کے مطابق نادر شاہ نے جب اپنے قتل کی افواہ سنی تو اس نے غضبناک ہوکر قتل عام کا حکم دیا، دہلی کا شہر اچھی طرح لوٹا گیا، تباہی و بربادی پھیل گئی، مرد، بچے اور عورتوں کو بھی قتل کیا گیا، مکانات نذر آتش کیے گئے، گویا دہلی مکمل طور پر اجڑ گیا۔ نادر شاہ نے اس دولت کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اکٹھا کیا اور شاہی خزانے کو قبضے میں لیا۔ شاہجہان کے بنوائے ہوئے تخت طاؤس کو بھی اٹھایا اور واپس ایران آگیا۔ روانگی کے وقت ایک عہد نامے کی رو سے اس نے محمد شاہ کو برصغیر کا بادشاہ تسلیم کرلیا۔

ان سانحات کے یہ اثرات ہوئے کہ زوال کی طرف بڑھتی ہوئی حکومت آخری منزل کی طرف تیزی کے ساتھ گامزن ہوئی کہ فوج تباہ ہوگئی۔ مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت کو داغ لگ گیا اور اس کی عظمت و رفعت خاک میں مل گئی۔ امراء و رؤسا نے بھی سازشوں کا جال بچھادیا، باغیانہ اور خودمختارانہ رویہ عام ہوتا چلا گیا، موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمال سے پٹھانوں اور جنوب سے مرہٹوں نے یلغار کردی، اس طرح سلطنت مغلیہ کے مختلف حصوں پر قبضہ ہونا شروع ہوگیا۔

1747 میں نادرشاہ اپنے انجام کو پہنچا، اسے قتل کردیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی نے، جو نادرشاہ کا ایک ماہر جنرل تھا ’’افغانستان‘‘ نام کی ایک خودمختار حکومت بنالی اور نادرشاہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برصغیر پاک و ہند پر حملہ کردیا، اس نے یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے۔ اس کا 1752 کا حملہ زیادہ کامیاب رہا، اس مرتبہ اس نے کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ مغل شہنشاہ احمد شاہ نے پنجاب اور سرہند کا تمام علاقہ اس کے حوالے کردیا لیکن احمد شاہ ابدالی نے 1756 میں پھر حملہ کیا، یہ دور شہنشاہ عالمگیر ثانی کا تھا، اس مرتبہ وہ دہلی تک پہنچ گیا اور دہلی پر قابض ہونے کے بعد شہریوں کو ہر طرح سے ستایا، پھر اس نے متھرا میں بھی دولت لوٹی، اس کے بعد کابل کا رخ کیا۔

اس کا پانچواں حملہ 1761 کا ہے جو اہم تصور کیا جاتا ہے۔ شاہ عالم ثانی کے دور میں مرہٹے دہلی میں داخل ہوگئے تھے، احمدشاہ ابدالی نے 1761 میں انھیں پانی پت کی تیسری لڑائی میں بری طرح شکست دی اور 1764 میں کابل میں وفات پائی۔احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے مغلیہ حکومت زوال کے قریب پہنچ گئی، ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی، ہر طرف بدنظمی کا دور دورہ ہوگیا اور سلطنت مغلیہ کی حدود دہلی اور اس کے نواحی علاقوں تک رہ گئی، پنجاب مغلوں کی سلطنت سے علیحدہ ہوگیا اور احمد شاہ ابدالی کی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا، ابدالی کی وفات کے بعد سکھوں نے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنالیں، پہاڑوں میں پناہ لینے والے سکھ دوبارہ سرگرم ہوگئے اور لوٹ مار وتباہی خوب خوب کی اور پھر سلطنت مغلیہ کا چراغ گل ہونے کے بعد انگریزوں نے اپنی منصوبہ بندی کے تحت ہندوستان پر قبضہ کرلیا۔

اگر تاریخ کے تناظر میں آج کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں مماثلت ہی نظر نہیں آتی ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ مسلمانوں کا زوال ان کی مادہ پرستی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان پر ہی موقوف نہیں ہے پوری دنیا کے مسلمانوں کا حال ابتر ہے، لباس، خراش، طرز معاشرت، بودوباش، رہن سہن، سب کچھ اہل مغرب سے ببانگ دہل بغیر کسی جھجھک کے حاصل کرلیا ہے۔ اسلامی تشخص، دینی تعلیم دور پرے رہ گئی ہے۔

جب ہماری نگاہ اس خبر اور تصویر پر پڑی تو حیرتوں اور افسوس کے بہت سے پہاڑ ہمارے ہوش و حواس پر گر کر مسمار ہوگئے۔ یہ ایک مسلم ملک  کے شہزادیہیں۔ انھوں نے جریدہ ’’فوربز‘‘ پر الزام لگایا ہے کہ ان کی دولت کا کم اندازہ لگا کر انھیں امیر ترین شخصیات کی فہرست میں صحیح مقام نہیں دیا گیا۔ کاش! کہ وہ امت مسلمہ کی تنزلی اور خصوصاً پاکستان کے حوالے سے کچھ بیانات دیتے، کچھ لاشوں کی سیاست کے حوالے ہی سے بول کر مسلم حکمران کا رول ادا کردیتے، عہد مغلیہ کے شہزادوں کی طرح مسلم فرمانرواؤں نے بھی ایسی ہی روش اختیار کرلی ہے اور عیش و عشرت و مفاد پرستی کو زندگی کا نصب العین بنالیا گیا ہے۔

عوام کی کسی کو پرواہ نہیں، نہ زندگی محفوظ ہے اور نہ موت، تازہ مثال عباس ٹاؤن کی ہے جہاں موت رقص کرتی رہی اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا، ہمیشہ کی طرح، بے ضمیر اور بدنصیب، کوتاہ عقل، منافع خور، گمراہ اور عاقبت نااندیش آگئے اور ٹوٹے گھروں، بکھری لاشوں، بھوکے پیاسے معصوم یتیم بچوں کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کی، کیا قیامت کا منظر تھا، نفسانفسی کا عالم، کوئی اپنا سکھ اپنا چین برباد کرنے والا نہیں؟ ٹی وی اینکرز کے علاوہ کوئی سیاسی و فلاحی انجمنیں، این جی اوز کے کارکن ادبی وسماجی شخصیات، حکومتی اور بڑھ بڑھ کے باتیں کرنے والے سیاسی قائدین کہاں تھے؟ رینجرز اور پولیس کی نفری دور دور تک نظر نہ آتی تھی، کئی دن گزرنے کے بعد کچھ شناسا چہرے نظر آئے، لیکن اس وقت جب موت کا سورج بہت سی زندگیوں کو نگل چکا تھا۔

آفرین ہے چھیپا اور ایدھی کی خدمات پر، ہر موقع پر، ہر موڑ پر، ہر طریقے سے امداد کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں، زخمی ہوں یا لاشیں ہوں، آگ اور دھوئیں میں گھسے چلے جاتے ہیں، شاید انھی کے دم سے جیسی بھی سہی دنیا آباد ضرور ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔