ایک خوب صورت روایت کا تسلسل

امجد اسلام امجد  ہفتہ 9 مارچ 2013
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

پاک ٹی ہاؤس لاہور کی تجدید اور تعمیر نو کو بلا شبہ ایک خوبصورت روایت کے تسلسل کا نام دیا جا سکتا ہے کہ بیسویں صدی کے آخری پچاس برسوں میں شاہراہ قائد اعظم (سابقہ مال روڈ) پر وائی ایم سی اے کی عمارت کے پہلو میں واقع اس چائے خانے میں (جس میں بیک وقت زیادہ سے زیادہ ساٹھ ستر لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی) لاہور کے چھوٹے بڑے ہر طرح کے ادیب‘ شاعر‘ مصور اور فن موسیقی سے متعلق لوگ بلاناغہ بیٹھا کرتے تھے اور یوں چائے کی مہک کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی خوشبو بھی ہمہ وقت چہار طرف پھیلی رہتی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ ان میں اکثریت ادب سے متعلق افراد کی ہوتی تھی اس لیے اس کی عمومی شہرت ادیبوں کے ایک ٹھکانے ہی کی بن گئی تھی۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ لاہور شہر کی حد تک پاک ٹی ہاؤس سے پہلے عرب ہوٹل اور نگینہ بیکری دو ایسے مقامات تھے جہاں ادیب اور شاعر حضرات باقاعدگی سے جمع ہوا کرتے تھے لیکن جہاں تک ہماری نسل کا تعلق ہے تو ہمارے ہوش سنبھالنے کے دنوں میں پاک ٹی ہاؤس ادب کے حوالے سے ا یک ایسے مرکزی مقام کی حیثیت حاصل کر چکا تھا جہاں نہ صرف لاہور کے بیشتر ادب سے متعلق لوگ جمع ہوا کرتے تھے بلکہ بیرون لاہور سے آنے والے بھی سب سے پہلے یہیں کا رخ کرتے تھے کہ اپنے پسندیدہ ادیبوں سے ملنے کا سب سے آسان‘ شرطیہ اور سستا طریقہ یہی تھا۔

پاک ٹی ہاؤس کو یہ مرکزی حیثیت کیسے اور کیونکر حاصل ہوئی یہ اپنی جگہ پر تحقیق کا ایک موضوع ہے لیکن میرے نزدیک اس کے بنیادی اسباب اس کی لوکیشن (Location)، اس کے اردگرد پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) کی عمارتوں کی موجودگی اور اس سے چند قدم کے فاصلے پر وائی ایم سی اے ہال کی عمارت میں حلقہ ارباب ذوق اور پنجابی ادبی سنگت کے ہفتہ وار اجلاسوں کا انعقاد تھا۔ آج سے چالیس پچاس سال پہلے کے لاہور کو ذہن میں رکھئے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس وقت کا لاہور مال روڈ کے چاروں طرف زیادہ سے زیادہ چار پانچ میل تک پھیلا ہوا تھا اور یہ فاصلہ بائی سائیکل پر یا پیدل چل کر بھی پندرہ بیس منٹ میں طے ہو جاتا تھا اور واضح رہے کہ اس وقت آج کی طرح لوگ طرح طرح کی سواریوں کے غلام نہیں بنے تھے اور پیدل چلنا نہ تو معیوب تھا اور نہ مشکل۔

پاک ٹی ہاؤس کے مالک سراج صاحب کی شخصیت بھی اس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ تھی کہ اچھی اور کم قیمت چائے اور مستعد سروس کے علاوہ ان کے بیشتر مستقل گاہکوں سے ذاتی تعلقات بھی تھے۔ سینئر نسل کے لوگ بتاتے ہیں کہ بہت سے ادیبوں کا ان سے بلکہ بعض اوقات ویٹرز‘ بالخصوص الٰہی بخش اور شریف بنجارے کے ساتھ بھی ادھار چلتا تھا جس میں دیر سویر بھی ہو جاتی تھی مگر مجال ہے جو کبھی سراج صاحب کے ماتھے پر کسی نے بل یا زبان پر ’’تقاضا‘‘ دیکھا ہو۔ حلقہ ارباب ذوق کے سالانہ جلسے کے اختتام پر سراج صاحب کی طرف سے تمام شرکاء کو مفت چائے (بمعہ ماکولات) پیش کی جاتی تھی جو اپنی جگہ پر ایک شاندار اور انوکھی روایت تھی۔

میرا ذاتی رابطہ اس ’’ادب کدے‘‘ سے 1964ء کے لگ بھگ قائم ہوا مگر اس میں باقاعدگی دو سال بعد اس وقت آئی جب میں نے اور میرے اور اینٹل کالج کے کچھ ساتھیوں بالخصوص سہیل احمد خاں‘ محمد اشرف شاہین اور عشرت عباس نقوی نے باقاعدگی سے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں شرکت شروع کی اور یوں سینئر ادیبوں کے نزدیک بیٹھنے‘ ان کی باتیں سننے اور کبھی کبھار ان کی حوصلہ افزائی سے بھی سرفراز ہونے کا موقع ملنا شروع ہوا اور یہ سلسلہ نوے کی دہائی تک کم و بیش جاری و ساری رہا۔ یہاں تک کے بعد میں آنے والی دو نسلوں کے لیے ہم لوگ ’’سینئر نسل‘‘ کی حیثیت اختیار کر گئے۔

پاک ٹی ہاؤس کی تجدید اور تعمیرنو کے بعد اس کے اندر اور باہر بہت سی ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں کہ اب اس کے در و دیوار‘ فرنیچر‘ کراکری اور اندرونی ترتیب و آرائش ایک بالکل نیا منظر پیش کر رہی ہے۔ دیواروں پر جدید ٹیلی وژن اور ایئرکنڈیشنر نصب کر دیئے گئے ہیں اور چاروں طرف یہاں بیٹھنے والے بہت سے مشاہیر کی تصویریں بھی آوایزں کر دی گئی ہیں۔ بہت سے اہم لوگوں کی تصاویر رہ گئی ہیں۔ ڈی سی او لاہور نور الامین مینگل (جن کی محنت اور کوشش نے اس جگہ کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے) نے بتایا کہ یہ کام شیعب بن عزیز اور عطاء الحق قاسمی سمیت کچھ دوستوں کے ذمے تھا جنھوں نے بہت کوشش سے یہ تصاویر حاصل کی ہیں۔ بقیہ کے حصول کے لیے کام ہو رہا ہے اور عنقریب وہ بھی اس منفرد نوعیت کی ’’آرٹ گیلری‘‘ کا حصہ بن جائیں گی۔

ان ناموں اور ان سے متعلق یادوں اور واقعات کی تفصیل ایسی ہے کہ جو ایک باقاعدہ کتاب میں ہی سیمٹی جا سکتی ہے اس لیے میں اس ذکر کو آئندہ پر مؤقوف کرتے ہوئے اب اس تقریب کے احوال پر آتا ہوں جس میں ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ کی تجدید اور تعمیرنو کے بعد اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ لاہور کی انتظامیہ‘ پنجاب حکومت اور اس پراجیکٹ میں شامل ارکان نے جس توجہ اور جانفشانی سے اس مشکل منصوبے کو مکمل کیا اس کی داد نہ دینا یقیناً زیادتی ہو گی کہ اس جگہ کو خالی کرانے۔

اس کا قبضہ حاصل کرنے اور عزیزی زاہد سے (جو سراج صاحب کے صاحبزادے ہیں) گفت و شنید کرنے اور عدالتی مقدمات سے جان چھڑانے میں ان احباب کو جن جن مسائل اور رکاوٹوں سے گزرنا پڑا وہ اپنی جگہ پر طلسم ہوش ربا کی کسی داستان سے کم نہیں لیکن جیسا کہ مہمان خصوصی میاں محمد نواز شریف نے اپنے مختصر خطاب کے دوران واضح کیا کہ انھوں نے ذاتی طور پر یہ ذمے داری میاں حمزہ شہباز کے سپرد کی تھی تو اس سے اندازہ ہوا کہ یہ بار گراں کس طرح اٹھایا گیا ہوگا۔ ادیبوں کی طرف سے جن دوستوں نے اس پوری مہم میں میاں حمزہ شہباز اور لاہور کی انتظامیہ کا ساتھ دیا، ان میں پیش پیش نام عطاء الحق قاسمی اور شعیب بن عزیز کے ہیں۔ اس تقریب میں نیئر علی دادا بھی دکھائی دیئے، سو گمان گزرتا ہے کہ تعمیراتی حوالے سے ان کی مدد بھی شامل حال رہی ہو گی۔

تقریب کی ایک اہم اور قابل تعریف خوبی یہ بھی تھی کہ اس کے ہر پہلو میں اولیت ادب اور ادیب کو دی گئی اور اگرچہ اس میں خواجہ آصف‘ سعد رفیق‘ حمزہ شہباز‘ پرویز ملک اور پرویز رشید جیسی نمایاں اور بھاری بھرکم سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں اور میڈیا کے کچھ بڑے نام نجم سیٹھی، ان کی اہلیہ جگنو محسن‘ الطاف احمد قریشی‘ نذیر ناجی‘ عطاء الرحمٰن، عارف نظامی‘ مجیب الرحمٰن شامی‘ سجاد میر بھی شامل تھے مگر مرکزی مقام میاں نواز شریف کے بعد ادیبوں اور شاعروں کو ہی دیا گیا جو بلا شبہ ایک اچھی اور مستحسن روایت کا آغاز ہے۔ کراچی سے مجاہد بریلوی‘ زاہدہ حنا اور کچھ اور اہم صحافی جو حکومت پنجاب کی دعوت پر میٹرو بس کے حوالے سے لاہور میں تھے، وہ بھی اس تقریب میں موجود تھے اور یوں یہ میلہ لگا بھی اور جما بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں یہ جگہ نئی اور پرانی نسل کے ادیبوں کو کس حد تک دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اس مقام کا اصل حسن اسی روایت کا تسلسل اور احیاء ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔