سندھ کی زراعت کو جان بوجھ کر تباہ کیا جارہا ہے، آبادگار

نامہ نگار  اتوار 10 مارچ 2013
پانی کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے، سانگھڑ کے ٹیوب ویل بحال کیے جائیں، ندیم قمر۔  فوٹو: رائٹرز/ فائل

پانی کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے، سانگھڑ کے ٹیوب ویل بحال کیے جائیں، ندیم قمر۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

سانگھڑ: سندھ چیمبر آف ایگری کلچر کے زیر اہتمام سیمینار میں آباد گاروں سمیت وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سرفراز راجڑ کی شرکت، آبادگاروں نے مسائل کے انبار لگادیے۔

سیمینار سے سندھ چیمبر آف ایگری کلچر کے صدر سید ندیم قمرالزمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ زراعت کے شعبہ میں مالا مال، قدرت کی ہر چیز موجود ہے، اس مہنگائی کے دور میں کاشت کار کو اس کا حق نہیں ملتا، ضلع سانگھڑ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں اول پوزیشن میں ہے، اس کے باوجود کاشت کار مسائل کا شکار ہیں۔

ضلع کے تمام ٹیوب ویلوں کو فعال کیا جائے، زرعی فصلوں کی انشورنس کی جائے،انھوں نے کہا کہ تمام فصلیں مرچ، ٹماٹر ہونے کے باوجود غیر ملک سے منگوائی جاتی ہے، ہم آباد گاروں کے لیے سیاست سے بالاتر ہوکر کام کررہے ہیں، دوسرے صوبوں سے بیچ منگوایا جاتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سرفراز راجڑ نے کہا کہ حکومت نے زراعت کے فروغ کیلیے کروڑوں روپوں کے پروجیکٹس پر کام جاری ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔