پاسپورٹ کا اجرا بند، ایجنٹ مافیا سرگرم

عادل جواد  اتوار 10 مارچ 2013
حج کا اعلان ہوتے ہی خرابی پیدا کی گئی، ڈائریکٹر جنرل نے لیمی نیشن پیپر کی درآمد میں 8 ماہ کی تاخیر کرادی، پاسپورٹ اجرا میں تعطل انتظامی نااہلی ہے، ذرائع  فوٹو: فائل

حج کا اعلان ہوتے ہی خرابی پیدا کی گئی، ڈائریکٹر جنرل نے لیمی نیشن پیپر کی درآمد میں 8 ماہ کی تاخیر کرادی، پاسپورٹ اجرا میں تعطل انتظامی نااہلی ہے، ذرائع فوٹو: فائل

کراچی: پرنٹنگ مشینوں کی خرابی کے باعث پاسپورٹ کے اجرا کا بحران انتہائی شدت اختیار کرگیا ہے۔

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے بحران حل کرنے کے بجائے ایجنٹ مافیا کے ذریعے ضرورت مند افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے ،تفصیلات کے مطابق پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈپارٹمنٹ نے ملک بھر میں واقع ریجنل پاسپورٹ آفسز میں گذشتہ ہفتے بینرآویزاں کردیے تھے کہ پرنٹنگ مشینوں کی خرابی کی وجہ سے پاسپورٹ کی پرنٹنگ کاکام تعطل کا شکار ہے تاہم وی وی آئی پی افراد اور ایجنٹوں کے ذریعے پاسپورٹ کے اجرا کا کام تاحال جاری ہے۔

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں آنے والا تعطل بنیادی طور پر انتظامیہ کی نااہلی کا نتیجہ ہے، محکمے کے ڈائریکٹر جنرل نے امریکا سے درآمد کیے جانے والے لیمی نیشن پیپر کی درآمدگی کے ٹھیکے میں8 ماہ کی تاخیر کی،ذرائع نے بتایا کہ پے درپے آنیوالے بحرانوں سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل واجد علی بخاری ہر دو سے تین ماہ بعد مختلف وجوہات کو جواز بناکر پاسپورٹ کے اجرا کے عمل کو مصنوعی طور پر سست کرادیتے ہیں جس کے نتیجے میں شہری ارجنٹ فیس کے ساتھ پاسپورٹ کے حصول کی درخواستیں جمع کرانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ایجنٹ مافیا کے ذریعے ان افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس مرتبہ بھی حج پالیسی کے اعلان کے فوراً بعد اور عمرہ سیزن میں پرنٹنگ مشینوں میں خرابی کے نام پر بحران پیدا کیا گیا ہے ،تاہم بنیادی وجہ لیمی نیشن پیپر کے درآمد کے ٹھیکے میں دانستہ طور پر کی جانے والی تاخیر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی اہم شخصیت اپنے من پسند شخص کو لیمی نیشن پیپر کی درآمدکا کنٹریکٹ دلوانا چاہتی تھی تاہم ڈائریکٹر جنرل گذشتہ کئی سال سے قائم اپنی اجارہ داری کے خاتمے پر چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے لیمی نیشن پیپر کی خریداری کیاجازت کیلیے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کی کوئی کوشش نہیں کی اور اب اس بحران کی ذمے داری وزارت داخلہ پر عائد کی جارہی ہے کہ انھوں نے خریداری کی اجازت دینے میں8 ماہ کی تاخیر کی دوسری جانب اس بحران کے ذریعے ضرورت مند افراد سے نوٹ بٹورے جارہے ہیں۔

ایجنٹوں کے ذریعے بروقت پاسپورٹ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد سے10 سے 15 ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ دیگر افرادکو ارجنٹ پاسپورٹ کیلیے بھی45 دن کا وقت دیا جارہا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ریجنل پاسپورٹ آفس کراچی کی ڈلیوری برانچ میں تعینات دو کلرک بدنام زمانہ ایجنٹوں کے ذریعے رشوت کے عوض بروقت پاسپورٹ فراہم کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔