دھرنے

سائرہ اکبر  اتوار 10 مارچ 2013

لفظ دھرنے سے ہی ہمارے بعض دوست احباب وعزیز، رشتے داروں پر ایک عجیب طرح کی دہشت و وحشت سی طاری ہونے لگتی ہے جس کے جواب میں آپ یقینا کہیں گے کہ یہ کوئی ایسا خوشگوار عمل بھی نہیں کہ جس پر مسرت واطمینان کا اظہار کیا جائے کہ جب بھی کہیں بھی کسی سیاسی پارٹی، تنظیم، انجمن یا ادارے کی جانب سے احتجاجاً دھرنے دیے جاتے ہیں تو وہ لمحے یا وقت عوام الناس کے لیے کسی اذیت و عذاب سے کم نہیں ہوتے، ماسوائے کوئٹہ میں دیے جانے والے ان دو مواقعوں پر وہ دھرنے جن پر ملک کے ہر فرد کی نہ صرف آنکھ پرنم تھی بلکہ وطن عزیز کے ہر فرد نے اس عظیم و اندوہناک سانحے پر غائبانہ طور پر ان دھرنوں میں شرکت بھی کی تھی۔

اب تو ہر پل ربّ العزت سے یہی دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اور ہمارے ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے کہ آئے دن کے بم دھماکوں وخودکش حملوں نے صحیح معنوں میں لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور جو رہی سہی کمی تھی وہ ٹارگٹ کلنگ نے پوری کردی ہے، بہرحال ان آئے دن کے دھرنوں نے دن بدن لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے کہ اس سے اس علاقے کے مکین محصور ہوکر رہ جاتے ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ان دھرنوں کی وجہ سے ایمبولینسیں بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتیں، شہری بند راستوں کے باعث دربدر بھٹکتے پھرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ہم نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم کے ایک پلیئر چار گھنٹے تک شہر کی سڑکوں پر بھٹکنے کے بعد اپنی منزل مقصود تک پہنچے تھے، یوں دیکھا جائے تو ان دھرنوں کی وجہ سے اچھا خاصا نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے، لہٰذا آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے کہ اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے بعض دوستوں و عزیز، رشتے داروں پر ہیبت طاری ہونے لگتی ہے کیونکہ اس عمل سے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر اذیت و تکالیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے، تو اس پر ہم کہنا چاہیں گے کہ یہ بات ہم نے اسی لیے کہی ہے کہ معاشرے میں کیے گئے بعض اعمال انسانی فطرت و نفسیات و مزاج پر کچھ اس طرح اثرانداز ہوتے ہیں کہ پھر وہ ان کے معمولات زندگی میں شامل ہوجاتے ہیں جیسے کہ مثال کے طور پر یہ دھرنے ۔

شاید آپ سب کے علم میں نہ ہو لیکن ہم بخوبی اس امر سے آگاہ ہیں کہ احتجاج کے اس منفرد انداز نے اب بے شمار افراد کی زندگیوں کو اجیرن بناکر رکھ دیا ہے جس پر ذہن میں یقینا یہ سوال آئے گا کہ وہ کیسے؟ تو جناب! وہ ایسے کہ آئے دن شہر بھر کے خراب حالات کے پیش نظر گھر کے بڑوں نے بچوں کو رات میں کھانے کے لیے اور شہر سے دور پکنکوں پر لے جانے سے صاف انکار کردیا تو یہ دیکھ کر گھر کے اور خاندان کے دیگر بچوں نے مل کر اجتماعی دھرنا دیا اور ساتھ ہی بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا کہ جب تک گھر کے بڑے ہمارے ’’جائز‘‘ مطالبات نہیں مانیں گے اس وقت تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔

جس پر گھر کے بڑوں نے جب یہ دیکھا کہ بچوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور وہ مسلسل صبح سے شام تک دھرنے میں بیٹھے ہیں تو یہ سب دیکھ کر والدین و گھر کے بزرگوں کے دل پسیج گئے اور انھوں نے آخرکار اس اعلان کے ساتھ یہ دھرنا اور بھوک ہڑتال ختم کرائی کہ ہمیں تمہارے سارے مطالبات منظور ہیں، جس کے بعد مجبوراً اگلے دن وہ رسک لیتے ہوئے نہ صرف انھیں پکنک پر ان کی من پسند جگہ لے گئے بلکہ واپسی پر انھیں ان کی پسند کا کھانا بھی کھلایا، تب کہیں جاکر اس بچہ پارٹی کا بگڑا موڈ درست ہوا۔

اسی طرح ہماری  ہمسائی کے یہاں آئی ہوئی ایک پرنسپل صاحبہ بتا رہی تھیں کہ ایک تو شہر کے دھرنوں دوسرے اپنے اسکول کے اسٹاف کے دھرنوں نے زندگیوں کو جہنم زار بناکر رکھ دیا ہے کہ کچھ عرصے سے کام کی زیادتی اور فری پیریڈز کم ملنے اور اسی طرح ہفتے کو آئے دن ہڑتالوں کے باعث تعطیل نہ ہونے، مینجمنٹ کے ناروا سلوک اور من پسند انکریمنٹ نہ ملنے پر اب تک اسکول کی ٹیچرز متعدد بار دھرنے دے چکی ہیں جس کے باعث ان کے بعض مطالبات مانتے ہی بن پڑے۔

اسی طرح بیگم ہمدانی کہہ رہی تھیںکہ گھر میں کام کرنے والے ملازمین کے منہ میں پہلے زبان نہیں تھی پر اب کم بخت جب سے یہ ہر سمت دھرنے دھرنے ہونے لگے تو اب میرے گھر میں بھی تمام ملازمین چوکیدار، ڈرائیور، مالی، باورچی، گارڈز اور گھر کے کام کاج اور صفائی ستھرائی کرنے والے ملازمین اب بات بے بات دھرنے دینے لگے ہیں اور جب تک ان کی ’’مانگیں‘‘ جس میں کام میں کمی، تنخواہوں میں اضافہ، کام کے دوران استراحت کے لیے مناسب وقفہ ،بونس، نجی سہولیات وغیرہ جیسے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے یہ اس وقت تک دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

اور تو اور ہم نے ایک خاندان کے سربراہ کو زندگی میں اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا جتنا چند روز قبل دیکھا، دریافت کرنے پر آزردہ لہجے میں کہنے لگے بس بیٹا ! کیا پوچھتے ہو، یہ کم بخت دھرنے تو اب ہماری خانگی زندگیوں میں بھی زہر گھولنے لگے، ہمارے گھر کی خواتین جو پہلے کبھی کسی بھی فیصلے یا اقدام پر زبان نہیں کھولتی تھیں اب ان ہی کی مرضی و منشا سے رشتے ناتے توڑے اور جوڑے جانے لگے ہیں، ابھی چند روز قبل ہمارے خاندان میں ایک برسوں پرانا رشتہ ٹوٹا ہے۔

لڑکا لڑکی کی نسبت بچپن ہی میں طے کردی گئی تھی، سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک دونوں سمدھنوں(لڑکا اور لڑکی کی مائیں) آپس میں کسی بات پر لڑ پڑیں، جس پر خاصی تکرار ہوگئی جو اس قدر بڑھی کہ لڑکی کی ماں نے اعلان کردیا کہ میرا نام بھی مجیدن نہیں جو شمیم کے بیٹے سے اپنی بیٹی رانو کا رشتہ تڑوا نہ دوں، یوں وہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا فائدہ اٹھاکر پچاس خواتین سمیت گھر کے دالان میں یہ کہہ کر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں کہ جب تک یہ رشتہ ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم یہ دھرنا جاری رکھیں گے، جو پانچ روز تک چلا۔

پانچویں ہی روز دھرنے میں شامل ایک بزرگ خاتون کی حالت بگڑ جانے پر آخرکار مرد حضرات کو ہار ماننا پڑی، یوں برسوں کے بندھن اسی بدبخت دھرنے کی وجہ سے لمحوں میں ٹوٹ گئے، تو یہ سب سن کر ہمیں بھی بے حد افسوس ہوا، مانا کہ احتجاج کرنا، حق کے لیے آواز اٹھانا ہر آزاد شہری کا حق ہے، مگر بات بات پر احتجاج، دھرنے یہ انداز یقینا تکلیف دہ ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہمارا آزاد میڈیا  ہماری زندگیوں پر مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب کررہا ہے بعینہ اسی طرح اب یہ ہر وقت کے مظاہرے، احتجاج، جلاؤ گھیراؤ، توڑپھوڑ ہم پر اسی طرح انداز ہوکر ہمیں آج یہ دن دکھائیں گے ، ا س حوالے سے تو ہم نے کبھی اپنے خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔