یکسانیت پسند نہیں، فلموں میں نئے کردار کرنا چاہتی ہوں، ماہی گل

شوبز ڈیسک  پير 11 مارچ 2013
ماہی گل کی دو پنجابی فلمیں بھی ریلیز کے لیے تیار ہیں جن میں ’’ہک نال‘‘ میں امریندر گل اور رانا رنبیر کے ساتھ جلوہ گر ہوں گی۔  فوٹو: فائل

ماہی گل کی دو پنجابی فلمیں بھی ریلیز کے لیے تیار ہیں جن میں ’’ہک نال‘‘ میں امریندر گل اور رانا رنبیر کے ساتھ جلوہ گر ہوں گی۔ فوٹو: فائل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ ماہی گل حال ہی میں ریلیزہونیوالی فلم صاحب بیوی اورگینگسٹر کو میڈیا پرکافی سراہا جارہا ہے اور بہت خوش ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ مزیدفلموں کی پیشکش پر پریشان بھی ہیں۔

انھوں نے دیو دی،گلال، دبنگ، مرچ، پان سنگھ طومار اور دبنگ 2میں جدت پیدا کی،فلم میکران سے اسی طرح کا کردارکروانا چاہتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ اب بہت ہوگیا مجھے کچھ نہیں کرنا مجھے اپنے حال پرچھوڑ دیا جائے، میں لکیر کا فقیر نہیں بننا چاہتی-اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ میرے مداح نہیں جانتے کہ میں شرمیلی ہوں،مجھے لوگوں کے سامنے رہنے سے زیادہ اپنے خول میں رہنا زیادہ پسند ہے، مجھے لوگوں کے ہجوم سے وحشت ہوتی ہے، میں نے فلم میکر کے فون ریسیو بھی نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے میں ممبئی آئی ہوں ہمیشہ میرے ارد گرد لوگ ہوتے ہیں لیکن اب میں اسے ختم کرنا چاہتی ہوں۔اردو کے علاوہ ماہی گل کی دو پنجابی فلمیں بھی ریلیز کے لیے تیار ہیں جن میں ’’ہک نال‘‘ میں امریندر گل اور رانا رنبیر کے ساتھ جلوہ گر ہوں گی۔ فلم کے ہدایتکار بلجیت سنگھ ہیں ۔اس کے علاوہ فلم ’’گرلیج سکندر والی ‘‘ میں بھی ان کا اہم کردار ہے۔ اداکارہ اب تک متعدد پنجابی اور ہندی فلموں میں اپنے فن کا جادو جگا چکی ہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ فلم چھ ستمبر کو ریلیز ہوگی جس میں ایک آئٹم سانگ پر بھی جلوے بکھیرے ہیں۔ فلم کے موسیقار ساجد ،واجد ہیں۔ فلم کے بارے میں ہدایتکار نے بتایا کہ فلم میں ماہی گل کی مختصر آمد نے چار چاند لگادیے ہیں جو شائقین کو پسند آئے گی۔

اس حوالے سے ماہی گل کا کہنا تھا کہ فلم میں آئٹم سانگ پرفارمنس سے خوش ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجابی اور ہندی فلموں کا اپنا علیحدہ مزاج ہے جس میں ہر کوئی اداکاری نہیں کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکاری اپنی ذات کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے اور اس کے ذریعے آپ دوسروں کو تفریح بھی مہیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر نئی آنے والی فلم میں آئٹم سانگ لازمی جز بن چکا ہے جس کے بغیر اب گزارا نہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں اپنے حصے کا کام ایمانداری اور سخت محنت سے کرتی ہوں باقی سب قسمت پر چھوڑ دیتی ہوں۔

1

فلم ایک اجتماعی کوشش ہوتی ۔اس میں کیمرے کے پیچھے رہنے والوں کا بھی اتنا ہی کردار ہوتا ہے جتنا کیمرے کے سامنے رہنے والوں کا ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اچھی کہانی کے بغیر کوئی فلم بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی ۔ بالی وڈ اداکارہ کا کہنا تھا کہ پنجاب سے تعلق ہے اس لیے کھری بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ صاحب بیوی اور گینگسٹر کی کامیابی کے بعد آنے والی فلموں سے بھی پرامید ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی فلمیں کرئیر کو نیا موڑ دیں گی۔ ماہی گل نے کہا کہ فنکار کو محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی مقصد میں کامیابی کے لیے نیک نیتی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دسمبر انیس سو پچہتر میں بھاتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ میں پیدا ہونے والی اداکارہ نے فلمی دنیا میں قدم دوہزار تین میں فلم ’’ہوائیں ‘‘ سے رکھا۔ اداکارہ کو انوراگ کی فلم ’’ڈیوڈی‘‘ کے کردار پارو سے بڑی شہرت ملی جو اب تک شائقین کے ذہنوں میں نقش ہے۔ فلم بنگالی ناول ’’دیوداس‘‘ کی ماڈرن ری میک تھی جس میں پرفارمنس پر اداکارہ کو دوہزار دس میں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ فلموں کے علاوہ ماہی گل نے تھیٹر پر بھی اداکاری کی ہے جہاں پر بھی ان کی اداکاری کو سراہا گیا ہے۔ اداکارہ کو لائیو پرفارمنس کے بھی کئی مواقع ملے اور وہ ہر بار چاہنے والوں کی امیدوں پر پورا اتریں۔

انہں فلموں میں کامیابی پر متعدد پراجیکٹس کی آفرز ہوئی ہیں تاہم وہ فلم کی کہانی کے حوالے سے بہت محتاط ہوتی ہیں ۔ اداکارہ کی دوسری فلم ’’خوشی مل گئی ‘‘ دوہزار چار میں سینما گھروں کی زینت بنی ۔اس کے بعد اداکارہ دوہزار چھ میں پنجابی فلم ’’صرف پنج دن ‘‘ میں جلوہ گر ہوئی جب کہ دوہزار سات میں فلم ’’کھویاکھویا چاند ‘‘ میں پرفارمنس پر خوب داد سمیٹی ۔ اس سال ان کی فلم ’’مٹی واجاں مار دی‘‘ اور دوہزار آٹھ میں فلم ’’چک دے پھٹے‘‘ ریلیز ہوئی ۔ دوہزار نو میں وہ ’’گل لال‘‘ میں مادھوری کے روپ میں سامنے آئیں۔ اس سال فلم ’’پل پل دل کے ساتھ ‘‘ اور ’’آگے سے رائٹ ‘‘ میں پرفارمنس سے داد حاصل کی۔ دوہزار دس میں فلم ’’دبنگ ‘‘ اور ’’مرچ‘‘ میں فن کا جادو جگایا۔

اس کے علاوہ انھوں نے فلم ’’اوٹ پٹانگ ‘‘ اور ’’ناٹ اے لو اسٹوری ‘‘ میں بھی کام کیا۔ دوہزار بارہ میں انھوں نے ’’بڈھا ان اے ٹریفک جام ‘‘ مکمل کروائی تاہم یہ ریلیز نہ ہوسکی۔ ’’کیری آن جٹا‘‘ میں ان کی پرفارمنس کو بہت سراہا گیا۔ان کے حوالے سے فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ اداکارہ نے فلم انڈسٹری میں بہت محنت کی ہے جو ان کی آنے والی فلموں میں بھی کامیابی کی ضمانت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔