باقی آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے

میاں عمران احمد  بدھ 6 دسمبر 2017
عمران خان غیرت مند بھی ہیں، باحیا بھی ہیں، باکردار بھی ہیں اور حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی۔ (فوٹو: فائل)

عمران خان غیرت مند بھی ہیں، باحیا بھی ہیں، باکردار بھی ہیں اور حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی۔ (فوٹو: فائل)

میں آج یہ اقرار کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان غیرت مند بھی ہیں، باحیا بھی ہیں، باکردار بھی ہیں اور حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی۔ نہ تو ان کی حکومت میں ان کے وزیر نے یتیم لڑکی کو برہنہ کرکے سر عام گھمانے والوں کی سرپرستی کی ہے اور نہ ہی خان صاحب نے اس واقعے سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ نہ ہی اس لڑکی کی ماں کے دل سے عمران خان اور علی امین گنڈا پور کےلیے کوئی بددعا نکل رہی ہو گی اور نہ ہی وہ یہ کہہ رہی ہوگی کہ اللہ انہیں بھی یہ دن دکھائے جو انہوں نے مجھے آج دکھایا ہے۔ نہ تو اس کے بھائی ہر کسی سے منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے اور نہ ہی وہ لڑکی لاچاری، بے بسی، نحوست، بدقسمتی اور بے چارگی کی علامت بن چکی ہوگی۔ نہ ہی وہ لڑکی یہ سوچ رہی ہو گی کہ اب اس سے شادی کون کرے گا اور نہ ہی اس نے کئی مرتبہ خودکشی کرنے کا ارادہ کیا ہوگا۔ نہ ہی اس کی سہیلیوں کے والدین نے اس کے گھر داخلے پر پابندی لگادی ہو گی، نہ ہی اس لڑکی پر اسکول کے دروازے بند ہوچکے ہوں گے اور نہ ہی گلی محلے کی کسی تقریب میں اسے لے جانا ماں کےلیے باعث شرم ہوگیا ہوگا۔ نہ ہی وہ لڑکی یہ سوچ رہی ہو گی کہ اگر ان بدمعاشوں کو علی امین گنڈا پور کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو سرعام میری عزت نیلام کرنے کی ان کی ہمت نہ ہوتی۔ یقیناً وہ لڑکی جب تک زندہ رہے گی، وہ روز پانچ وقت اللہ کے حضور سربسجود ہو کر یہ دعا بھی نہیں مانگے گی کہ یا اللہ جن شیطانوں نے میری دنیا جہنم بنائی اور جن ظالم حکمرانوں نے ان کی سرپرستی کی ہے، ان دونوں کو نیست و نابود فرمادے۔

نہ ہی گاؤں والے عمران خان کو قصور وار ٹھہرا رہے ہوں گے اور نہ ہی کے پی کے کی عوام روز محشر عمران خان کا گریبان پکڑنے کا اعلان کر رہے ہوں گے۔ نہ ہی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ ہمارے حکمرانوں نے چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور آج ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں چودہ سو سال پہلے ابوجہل کھڑا تھا۔ نہ ہی عوام یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ جو بدو اپنی بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا کرتے تھے وہ ہمارے حکمرانوں سے یقیناً بہتر تھے۔ نہ ہی عوام کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوگا کہ شاید وہ دور بہتر تھا جب عورت کو شوہر کے مرنے پر اس کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ نہ ہی عوام کے دل سے ان کےلیے یہ بددعا نکلی ہوگی کہ جس طرح ہمارے حکمرانوں نے اس لڑکی کے جسم اور روح کی بے حرمتی کرنے والوں کی سرپرستی کی ہے، اسی طرح ان بے حس حکمرانوں کے جسم اور روح کی بے حرمتی ہو۔ نہ ہی عوام آج یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے حکمرانوں نے اللہ کی نبیﷺ، صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ان اقدار کو اپنالیا ہے جو انسان اور جانور کے فرق کو ختم کردیتی ہیں۔

نہ ہی عوام یہ کہنا چاہ رہے ہوں گے کہ ہمارے حکمران اس شیطان سے بھی زیادہ بدبخت ہو گئے ہیں جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔ عوام شاید یہ بھی نہیں کہنا چاہ رہے ہوں گے کہ عورت کی جو بے حرمتی ہمارے حکمران آج کررہے ہیں اور اسے ہوتا دیکھ کر خاموش ہیں، ایسی بے حرمتی کا خیال تو فرعون کو بھی نہیں آیا ہوگا۔ عوام کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آرہا ہوگا کہ تاریخ کا سب سے زیادہ سنگ دل اور ظالم حکمران ہٹلر بھی عورت کی یہ توہین نہیں کرتا تھا جو ہمارے حکمرانوں نے آج کی ہے۔

نہ ہی ڈی آئی خان کی عوام یہ کہہ رہی ہوگی کہ جس لڑکی کو برہنہ کرکے گلیوں اور بازاروں میں پھرایا گیا ہے، عمران خان نے اس کی داد رسی کےلیے ایک بھی مذمتی بیان نہیں دیا ہے۔ نہ ہی عوام کی زبان پر یہ اعتراض آیا ہوگا کہ جس داور کنڈی نے اس مظلوم لڑکی کی آواز بن کر اس ظلم کی اطلاع عمران خان کو دی ہے تاکہ ذمہ داروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے، عمران خان نے اس لڑکی کے ساتھ اظہار ہمدردی کے بجائے داوار کنڈی کو ہی پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا ہے۔ لوگ یہ اعتراض بھی نہیں کررہے ہوں گے کہ اس کیس میں علی امین گنڈا پور کی حیثیت ملزم کی بن چکی ہے لہذا متاثرہ لڑکی کی داد رسی اور دکھ کو کم کرنے کےلیے جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں، خان صاحب علی امین گنڈاپور سے وزارت کا قلم دان واپس لے لیں اور جب تحقیقات مکمل ہوجائیں تب گنڈاپور کو وزارت واپس دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں۔

لوگ یہ بھی نہیں کہہ رہے ہوں گے کہ عمران خان کا پاکستانی عوام کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کھوکھلا بھی ہے اور بے جان بھی۔ لوگ یہ بھی نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ عمران خان جو ہر تقریر میں فرماتے ہیں کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا، دراصل وہ یہ نعرہ صرف عوام کی حمایت حاصل کرنے کےلیے لگاتے ہیں۔ لوگ یقیناً یہ بھی نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ اگر عمران خان انصاف پر یقین رکھتے ہیں تو جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں تب تک انہیں داور کنڈی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ڈی آئی خان کی عوام یہ بھی نہیں سوچ رہی ہوگی کہ عمران خان کو پولیس سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ کیا آپ پر علی امین گنڈاپور دباؤ ڈال رہا ہے، متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کو علی امین گنڈا پور سے کوئی شکایت ہے یا نہیں۔ عوام یہ بھی نہیں کہ رہی ہوگی کہ اگر خان صاحب علی امین گنڈاپور کو بے قصور سمجھتے ہیں تو انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ متاثرہ لڑکی اور اس کا خاندان آج تک علی امین گنڈاپور پر ملزمان کی سرپرستی کا الزام لگا رہے ہیں۔ کیا خان صاحب کی نظر میں برہنہ کرکے پورے علاقے میں گھمائی گئی یتیم، غریب، بے سہارا اور مظلوم لڑکی کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں؟ اور نہ ہی وہ لڑکی یہ سوچنے پر مجبور ہوئی ہوگی کہ کاش وہ ایک کسان کے بجائے علی امین گنڈا پور یا عمران خان کی بیٹی ہوتی تو یقیناً عمران خان کا اس کے ساتھ رویہ ایسا نہ ہوتا جو آج ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان بالخصوس ڈی آئی خان کی عوام، پندرہ سالہ یتیم لڑکی اور اس کا مظلوم خاندان یہ سب کچھ نہیں سوچ رہے ہوں گے۔

نوٹ: عمران خان صاحب کے خلاف لکھیں تو پی ٹی آئی والے گالیاں دیتے ہیں۔ اس لیے آج ان کے حق میں لکھ رہا ہوں۔ باقی آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

میاں عمران احمد

میاں عمران احمد

بلاگر نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی لندن سے گریجویشن کر رکھا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے کالمنسٹ ہیں، جبکہ ورلڈ کالمنسٹ کلب اور پاکستان فیڈریشن آف کالمنسٹ کے ممبر بھی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔