تائیوان میں طویل ترین قوسِ قزح کا مشاہدہ

ویب ڈیسک  جمعرات 7 دسمبر 2017
گزشتہ ہفتے تائیوان کی فضا میں 9 گھنٹے تک برقرار رہنے والی قوسِ قزح کا ایک منظر۔ فوٹو: بشکریہ بی بی سی

گزشتہ ہفتے تائیوان کی فضا میں 9 گھنٹے تک برقرار رہنے والی قوسِ قزح کا ایک منظر۔ فوٹو: بشکریہ بی بی سی

تائیوان: گزشتہ ہفتے بارش کے بعد تائیوان کے افق پر شاندار قوسِ قزح (رینبو) دیکھی گئی جو مسلسل 9 گھنٹے تک نظر آتی رہی اور بعض ماہرین کے مطابق کسی علاقے میں دکھائی دینے والی یہ طویل ترین دھنک ہے اور اس ضمن میں ثبوتوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کیا جارہا ہے۔

عام حالات میں دھنک یا قوسِ قزح چند منٹوں تک ہی برقرار رہتی ہے لیکن تائیوان کے آسمان پر نمودار ہونے والی خوبصورت دھنک مسلسل 9 گھنٹے تک برقرار رہی اور اسے ہزاروں لوگوں نے دیکھ کر اس کی تصاویر اور ویڈیو بنائیں۔

تائیوان میں چائنیز کلچرل یونیورسٹی میں شعبہ فضائی علوم کے صدر ہو کون سوان نے ایک دوسرے  پروفیسر کے ساتھ ملکر اس کی تفصیلی تصاویر اور ویڈیو اس وقت تک بنائی جب تک قوسِ قزح ختم نہیں ہوئی۔ اب وہ ان تصاویر اور ویڈیوز کو ایک جگہ جمع کرنے اسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں پیش کریں گے۔

یہ قوسِ قزح صبح 7 بجے نمودار ہوئی اور شام کے 4 بجے تک برقرار رہی۔ اس سے قبل 1994 میں انگلینڈ کے شہر یارک شائر کےآسمان پر دکھائی دینے والی قوسِ قزح 6 گھنٹے تک برقرار رہی تھی۔

کن سوان کے مطابق مون سون کی طوفانی بارشوں کے بعد نمی جمع ہوگئی اور مزید بادل بننے لگے ۔ اس کے علاوہ ہوا کی بہت دھیمی رفتار اور سورج کی تیز روشنی سے یہ قوسِ قزح بن گئی جو ریکارڈ گھنٹوں تک برقرار رہی ۔ تائیوان کے کئی لوگوں نے اسے قدرت کی طرف سے ایک تحفہ قرار دیا ہے۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے لیے یونیورسٹی کے ماہرین 10 ہزار سے زائد تصاویر جمع کرائیں گے جو ماہرین اور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے کھینچی ہیں۔ ان تصاویر پر وقت شامل کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے لیے ایک ثبوت کے طور پر پیش کی جائیں گے۔

پانی بھرے بادلوں سے جب سورج کی کرنیں ایک خاص زاویے سے گزرتی ہیں تو وہ سات رنگوں یعنی سرخ، نارنجی، پیلی، سبز، نیلی اور جامنی مائل اودی اور بنفشی میں تقسیم ہوجاتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔