یکساں نظام تعلیم

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 7 دسمبر 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں یکساں نظام تعلیم اور تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک قومی ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، مشترکہ مفادات کونسل نے 18 ویں ترمیم کے تناظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور اس طرح کے اداروں سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے بعد ملک میں قومی ٹاسک فورس برائے تعلیمی معیارات بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم سے متعلق امور کا جائزہ لے گی اور ملک بھر میں یکساں اور معیاری نظام تعلیم کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ 70 سال گزر جانے کے بعد ایک ایسے اہم اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دی جا رہی ہے، جسے قیام پاکستان کے بعد سب سے اہم مسئلہ قرار دے کر اس پر کام شروع کردیا جانا چاہیے تھا۔ پاکستان پر 70 سال سے جس اشرافیہ کا راج ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا گیا۔ کسی بھی ملک کسی بھی معاشرے میں ظلم و استحصال اسی لیے جاری رہتا ہے کہ عام آدمی اس کے دوررس اور تباہ کن اثرات سے لاعلم رہتا ہے۔

ہماری زمینی اشرافیہ جو ہمیشہ سیاست اور اقتدار کا اہم حصہ رہی ہے، اس حقیقت سے واقف ہے کہ عام آدمی اگر زیور تعلیم سے لیس ہوگیا تو نہ صرف اشرافیہ کی سازشوں کو سمجھنے لگے گا بلکہ طبقاتی استحصال کے خلاف مزاحمت شروع کردے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے اس نے مختلف طریقوں سے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ دیہات میں رہتا ہے، اسی لیے ایک تو اشرافیہ نے دیہات میں رہنے والے کسانوں اور ہاریوں کو بدترین احساس کمتری میں مبتلا کرکے غلام بنائے رکھا۔ دوسرا طریقہ بلکہ خطرناک سازش یہ کی کہ دیہی علاقوں میں اسکولوں کو جانوروں کے باڑوں میں بدل کر رکھ دیا۔ وڈیروں کی غلامی اور تعلیم سے محرومی نے دیہات میں رہنے والی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کو سماجی اور سیاسی شعور سے یکسر محروم کرکے رکھ دیا ہے۔

ہمارے ملک میں اگرچہ بے شمار سیاسی اور مذہبی جماعتیں موجود ہیں لیکن کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے عوام کو تعلیم سے بہرہ ور کرنے کے لیے دیہی علاقوں میں اسکول اور کالج بنانے کی نہ ذمے داری پوری کی نہ عوام کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا بندوبست کیا۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے 80 فیصد عوام بنیادی تعلیم ہی سے محروم ہیں تو ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کی بات کرنا حیرت انگیز لگتا ہے۔ دنیا کے صرف ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ پسماندہ ملکوں میں بھی تعلیم اور صحت کے لیے اس قدر بجٹ رکھا جاتا ہے کہ عام آدمی کو تعلیم سے محرومی کی شکایت نہ ہو۔ لیکن اس خطے میں پاکستان ہی غالباً وہ ملک ہے جہاں کی 60 فیصد دیہی آبادی بنیادی تعلیم سے محروم ہے اور شہری آبادی کو دہرے نظام تعلیم میں جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی یا سرسری بات نہیں بلکہ پاکستان کی اشرافیہ کی سوچی سمجھی گہری سازش ہے جس کا مقصد عام آدمی کو تعلیم سے محروم رکھ کر انھیں ملکی سیاست اور اقتدار کے اسرار و رموز سے لاعلم رکھنا ہے۔

تعلیم اور صحت ہر ملک میں بنیادی اہمیت کے امور مانے جاتے ہیں اور پسماندہ ملکوں میں بھی تعلیم اور صحت کے لیے ایک معقول بجٹ رکھا جاتا ہے لیکن پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کے حکمران طبقے نے ان دو شعبوں کو منصفانہ بجٹ سے محروم کر رکھا ہے۔دیہی علاقوں کا تو اس حوالے سے ذکر ہی بے کار ہے لیکن شہری علاقوں کو بھی ایک سازش کے تحت دہرے نظام تعلیم میں پھنسا کر رکھا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیہی اور شہری زندگی میں معاشی اور معاشرتی فرق ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہی سے غریب عوام کے لیے سرکاری اسکولوں کا ایک ایسا طبقاتی نظام قائم کردیا گیا ہے۔

جہاں عام غریب عوام کے بچے حصول تعلیم کے لیے جاتے ہیں لیکن سرکاری اسکولوں اور کالجوں کا معیار تعلیم اس قدر پست رکھا گیا ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں اول تو غریب کے بچے ابتدائی کلاسوں کے بعد ہی تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے لگ جاتے ہیں کیونکہ سربراہ خاندان کی آمدنی اس قدر محدود ہوتی ہے کہ پورے خاندان کی کفالت نہیں کرسکتا اور مجبوراً چھوٹے بچوں کو محنت مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے اسی لیے ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر کی بہتات ہے۔ کچھ بچے اپنی ذاتی خواہش اور کوششوں سے سیکنڈری کے درجے سے آگے جاتے ہیں لیکن سرکاری کالجوں کی پڑھائی انھیں اعلیٰ تعلیم کی طرف جانے نہیں دیتی سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم اس قدر پست ہوتا ہے کہ ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان کالجوں کا رخ نہیں کرسکتے۔ جو اپنی ذہانت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیتے ہیں انھیں روزگار کی منڈی میں کوئی چانس نہیں ملتا وہ زندگی کا بڑا حصہ حصول روزگار میں جوتے چٹخاتے گزار دیتے ہیں۔

یہ کوئی اتفاقی بات ہے نہ سرکار کی نااہلی کا مسئلہ ہے یہ ایک عیارانہ سازش ہے جس کا مقصد غریب طبقات کو اعلیٰ ملازمتوں سے دور رکھنا ہے۔ ہر ملک میں بیوروکریسی اقتدار کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے بلکہ بیوروکریسی ہی حکومتیں چلاتی ہے، اس لیے نچلے طبقات کے اہل نوجوانوں کو بھی بیوروکریسی میں کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک پر فوجی حکمرانی کا رونا رونے والے 70 سال سے یا تو براہ راست اقتدار میں رہے یا اقتدار کا حصہ ضرور رہے، کیا ان 70 سال میں کسی سیاسی اور جمہوری حکومت کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس ملک کی ترقی اور نچلے طبقات کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے لیے یکساں نظام تعلیم ہونا ضروری ہے؟

اب 70 سال بعد ہمارے حکمرانوں کو یکساں نظام تعلیم کا خیال آیا ہے، بڑی اچھی بات ہے کہ دیر ہی سے سہی ایک اہم ترین مسئلے کی طرف حکمران طبقے کی توجہ مبذول تو ہوئی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقتدار کو جاگیر سمجھنے والے محترمین یکساں نظام تعلیم رائج کرکے اپنے موروثی اقتدار کے لیے خطرہ پیدا کرلیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔