خالد محمود نے ہرجانہ وصولی کی مہم کمزور قرار دیدی

اسپورٹس رپورٹر  جمعرات 7 دسمبر 2017
پی سی بی کو اس محاذ پر قانونی چارہ جوئی کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا،سابق چیئرمین فوٹو: نیٹ

پی سی بی کو اس محاذ پر قانونی چارہ جوئی کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا،سابق چیئرمین فوٹو: نیٹ

 لاہور:  سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے بھارت سے ہرجانہ وصولی کی مہم کمزور قرار دیدی ان کا کہنا ہے کہ ایک ای میل میں کیے گئے وعدے کی یاددہانی کا اخلاقی جواز تو بنتا ہے مگر یہ آئی سی سی کی تنازعات کمیٹی میں پیش کرنے والا کیس نہیں۔

تفصیلات کے مطابق بگ تھری کی حمایت کے بدلے6باہمی سیریز کھیلنے کے وعدے کا پاس نہ رکھنے پر پی سی بی ابتدائی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ سے ہرجانہ وصول کرنے کی مہم پر کروڑوں روپے لٹانے کی تیاری کرچکا،آئی سی سی کی تنازعات کمیٹی میں کیس بھی دائر کیا جا چکا ہے،سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود کا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق بی سی سی آئی کے سیکریٹری نے ایک ای میل میں وعدہ کیا تھا کہ آئی سی سی میٹنگ میں یہ فیصلے ہوگئے تو ہم پاکستان کے ساتھ سیریزکھیلیں گے۔

اگر کوئی باقاعدہ معاہدہ ہی نہیں ہوا تو صرف اس خط کی بنیاد پر ہرجانے کا دعویٰ نہیں بنتا، پی سی بی کا اس کیس میں موقف مضبوط نہیں ہے، ایک ای میل میں کیے گئے وعدے کی یادہانی کا اخلاقی جواز بنتا ہے بھارتی بورڈ پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے کہ اپنی کہی گئی بات کو عملی جامہ بھی پہنائے، اس کام کیلیے مختلف فورم استعمال کیے جا سکتے تھے،ای میل میں بھی متاثرہ فریق کو تلافی کیلیے کسی بھی عدالت میں جانے کا حق ہی نہیں دیا گیا، لہذا یہ آئی سی سی کی تنازعات کمیٹی میں پیش کرنے والا کیس نہیں بنتا،اس لیے میرے خیال میں پی سی بی کو اس محاذ پر قانونی چارہ جوئی کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔