قومی اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

ویب ڈیسک  جمعرات 7 دسمبر 2017
امریکافوری طورپرسفارتخانہ منتقل کرنےکافیصلہ واپس لے،قرارداد،فوٹو:فائل

امریکافوری طورپرسفارتخانہ منتقل کرنےکافیصلہ واپس لے،قرارداد،فوٹو:فائل

 اسلام آباد: امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، اسپیکر نے معمول کی کارروائی روک کر مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے پر بحث شروع کرائی تو پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دنیا کی تاریخ میں ایک تاریک دن ہے اور امریکی اقدام ایک گریٹ گیم کاحصہ ہے، اب  دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکا سے دوستی بڑھانے والے مشرق وسطٰی کے ممالک کیا موقف اپناتے ہیں۔

بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی مشترکہ طور پر تیار کی گئی قرارداد وفاقی وزیر برجیس طاہر نے ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ قرار داد کے مطابق یہ ایوان تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کو مسلم امہ پر حملہ سمجھتا ہے جب کہ امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس کی یہ ایوان مذمت کرتا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکا فوری طورپرسفارتخانہ منتقل کرنےکا فیصلہ واپس لے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا

واضح رہے کہ امریکی صدر نے مسلم ممالک، یورپی یونین اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے گزشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا بھی حکم دیا ہے، امریکا وہ پہلا ملک ہے جو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کررہا ہے۔

دوسری جانب اس اقدام پرپورے فلسطین میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں جب کہ صہیونی  فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے  متعدد فلسطینیوں کو زخمی کردیا ہے، اسرائیلی حکومت نے غربِ اردن اور غزہ کے اطراف سیکڑوں اہلکار تعینات کردیے ہیں، مقبوضہ بیت المقدس سمیت ملک بھر میں فلسطینیوں نے ہڑتال کررکھی ہے جب کہ ہزاروں افراد احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ادھر حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے امریکی اقدام کے جواب میں انتقاضہ کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے روکنے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی اضافی نفری کو غزہ طلب کرلیا گیا ہے۔ اسماعیل ہانیہ کا کہنا ہے کہ امریکا نے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے تباہی کا ایک نیاباب کھول دیا، انہوں نے عرب اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات ختم کردیں اور اپنے ہاں تعینات امریکی سفارت کاروں کو نکال باہر کریں۔

اسی ضمن میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں  بیت المقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے خلاف امریکی صدر اور اسرائیل مخالف مظاہرے جاری ہیں، عرب لیگ اور مسلم ممالک سمیت، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں نے امریکی صدر کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطے میں نئے تنازع کو جنم کی وجہ قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔