خاندانی حکمرانی کا کوئی متبادل نہیں

کلدیپ نئیر  جمعـء 8 دسمبر 2017

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں، سب جانتے ہیں کہ کانگریس پارٹی نہرو، گاندھی خاندان پر کامل بھروسہ اور اعتماد کرتی ہے۔ راہول گاندھی کو کانگریس کے صدر کے طور پر جو تعینات کیا گیا ہے یہ تعیناتی کافی عرصے سے متوقع تھی لیکن کانگریس کے لیڈر مانی شنکر آئر نے صورتحال کو ایک اور رنگ دیا ہے۔ انھوں نے راہول کی تعیناتی کو بھارت کے حکمران مغل خاندان کی تقلید سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بادشاہ کا بیٹا ہمیشہ بادشاہ بنتا ہے۔ پارٹی کی طرف سے اعلان جو بھی کیا جائے لیکن حکمرانی خاندان میں ہی رہنی چاہیے۔

بھارت کے اولین وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے ورکنگ کمیٹی میں اس وقت کے پارٹی صدر یو این دھر نے اندرا گاندھی کا نام پیش کیا۔ لیکن وزیر داخلہ جی بی بنیت نے کہا کہ اندرا کو تکلیف نہ دی جائے کیونکہ اس کی صحت اچھی نہیں ہے۔ لیکن نہرو نے ان کے تبصرے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اندرا کی صحت خود مجھ سے اور بنیت سے کہیں بہتر ہے۔

کانگریس کی موجودہ صدر سونیا گاندھی نے کسی سوال جواب کی زحمت ہی گوارا نہیں کی بلکہ اپنے بیٹے راہول کو براہ راست ہی پارٹی کا صدر مقرر کر دیا۔ اس حوالے سے کچھ اعتراضات بھی منظر عام پر آئے جن میں کہا گیا تھا کہ سونیا کو چاہیے تھا کہ اپنی بیٹی پریانکا واڈرا کو اس منصب پر مقرر کرتیں، کیونکہ راہول گاندھی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن بھارت والوں کی طرح اطالوی بھی وراثت کا حق اپنے بیٹے کو ہی دیتے ہیں۔

دوسری طرف کانگریس کے بعض لیڈر راہول کے حق میں بھی ہیں جیسے جیوتی رادھیرتیا سکندیا کا کہنا ہے کہ راہول کے پارٹی صدر بننے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ راہول گاندھی کی قیادت کا فیصلہ پارٹی صدر سونیا گاندھی اور کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کو باہم مشاورت سے کرنا چاہیے۔ مزید برآں کانگریس کے جو گراس روٹ کارکن ہیں وہ نئی قیادت کے متمنی ہیں کیونکہ یہ گراس روٹ کارکنوں کی عمومی خواہش ہے لیکن دگوجے سنگھ کی مایوسی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اب پارٹی 10 جنپت روڈ سے چلائی جائے گی جیسے کہ نہرو کے زمانے میں ان کی رہائش گاہ تین مورتی یا اندرا کی رہائش گاہ صفدر جنگ سے چلائی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ جب ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بھارت کا وزیراعظم بنا دیا گیا تب بھی حکومت کی باگ ڈور سونیا گاندھی کی رہائش گاہ کے پاس ہی تھی۔

میں پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں اس وقت بذات خود موجود تھا، جب پارٹی کے اراکین آنسووں سے رونے لگے تھے کہ سونیا گاندھی کو وزیراعظم بنایا جائے لیکن وہ بالکل چپ چاپ بیٹھی رہیں کیونکہ ان کے ذہن میں اپنے بیٹے کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن دیکھنے کی تمنا تھی اور اگر وہ خود وزیراعظم بن جاتیں تو ان کے بیٹے کی وزارت عظمیٰ اسٹیج ڈرامے کی طرح محسوس ہوتی حتیٰ کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کئی مواقع پر خود کہا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی راہول گاندھی کے لیے خالی کرنے پر بہت خوشی محسوس کریں گے کیونکہ ان کا بنیادی مقصد اس کرسی کو راہول کے لیے گرم رکھنا ہی ہے۔

اس حوالے سے ایک اور بات بھی قابل غور ہے کیونکہ سونیا گاندھی کی اپنی صحت زیادہ بہتر نہیں تھی وہ یہی چاہتی تھیں کہ پارٹی کی قیادت کی ذمے داریاں ان کا بیٹا ہی سنبھال لے۔ راہول گاندھی نے سیکولر ازم کی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں جب کہ بی جے پی برسرعام ہندوتوا کا نام تو نہیں لیتی لیکن سب جانتے ہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ حکمران جماعت الیکشن بھی ہندنوا ہی کی بنیاد پر لڑے گی۔

یہ بات بہت واضح ہے کہ 2019ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کا نعرہ صرف ہندوتوا ہی ہو گا۔ وزیراعظم نریندر مودی اس بات کو قطعاً نہیں چھپاتے کہ وہ آر ایس ایس کے ہیڈکواٹرز میں جانے کے لیے ناگپور کا دورہ کرتے ہیں جہاں وہ آر ایس ایس کے لیڈر موہن بھگوت سے قدم قدم پر رہنمائی حاصل کرتے ہیں جب کہ انھوں نے اپنے انتخابی نعرے کے لیے ’’سب کے ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا جو جملہ منتخب کیا ہے وہ محض دکھاوا ہے۔

ان کے انتخابی پروگرام میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اتر پردیش میں بی جے پی کو بہر صورت مکمل فتح حاصل ہو جائے گی۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود ہی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اترپردیش میں بی جے پی کو مکمل انتخابی فتح ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کس طرح بھر پور کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

پارٹی یہ دکھانا چاہ رہی تھی کہ عوام اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ بی جے پی کو انتخابی معرکے میں مسلمانوں کی مدد اور حمایت قطعاً درکار نہیں ہے۔ لیکن گجرات میں اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کرنے کی ضرورت ہو گی جہاں اس مہینے کے اختتام پر انتخابات ہو رہے ہیں اور مودی اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جو گجرات میں جیتے گا وہی بھارت کے عام انتخابات میں فتح یاب ہو گا۔ وہاں پر کانگریس کے ساتھ جو پارٹیاں الحاق کر رہی ہیں انھیں پتہ ہے کہ ان کو بی جے پی کے ساتھ سخت مقابلہ کرنا ہو گا۔

جہاں تک راہول گاندھی کی سابقہ کارکردگی کا تعلق ہے وہ کسی حوالے سے متاثر کن نہیں ہے۔ انھوں نے بہت سے انتخابات میں حصہ لیا ہے جن میں اترپردیش کے انتخاب بھی شامل ہیں جہاں انھوں نے سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا لیکن اس کے باوجود کانگریس بری طرح ناکام رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ گجرات کے انتخابات میں اپنی مقبولیت کس طرح ثابت کریں گے۔

اگر اب بھی وہ ناکام ہوگئے تو اس سے یہی ثابت ہو گا کہ وہ اپنے طور پر کہیں بھی جیت نہیں سکتے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ راہول خاندانی حکمرانی کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری پارٹیاں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں جس کے لیے وہ پنجاب، یوپی، تامل ناڈو اور آندھرا پردیش کی مثال دیتے ہیں لیکن جس چیز کو وہ فراموش کر رہے ہیں کہ متذکرہ تمام ریاستوں میں مختلف پارٹیاں باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ لیکن اس اصول پر کانگریس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی وہ مرکز میں حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔

ہم نے اندرا گاندھی کو کامیاب ہوتے دیکھا جو اس زمانے میں ’’گونگی گڑیا‘‘ کی عرفیت سے جانی جاتی تھیں، لیکن وہ بھارت کی وزیراعظم بن گئیں اور اپنی تمام اپوزیشن پر سبقت حاصل کر لی۔ حتیٰ کہ ان کا بیٹا راجیو گاندھی جس کی راہ میں صدر گیانی ذیل سنگھ رکاوٹ پیدا کرتے تھے اس کے باوجود اسے قبول کر لیا گیا۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو راہول گاندھی کو بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی کامیابی کا دارو مدار الیکشن میں ان کی کارکردگی پر ہے کیونکہ موجودہ وقت میں سیکولر ازم کو بھارت میں طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا ہے جب کہ ملک میں ہندوتوا کا دور دورہ ہے۔ یہ دکھ اور بدقسمتی کی بات ہے کہ جس ملک نے مساوات اور اجتماعیت کے اصولوں کو مقدم رکھتے ہوئے غیر ملکی حاکمیت سے آزادی حاصل کی ان مقاصد کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

(ترجمہ مظہر منہاس)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔