ایک یادگار سفر کی روداد

سعید پرویز  بدھ 13 مارچ 2013

چند ماہ قبل پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین جانے کا موقع ملا تھا، ایک رات اور ایک دن منڈی میں قیام رہا تھا، وہاں کے مشہور سیاسی رہنما دیوان مشتاق (سابق ممبر پنجاب اسمبلی) جو مسلم لیگ نواز کے مقامی صدر بھی ہیں، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ دیوان مشتاق ہمارے دوست اور کراچی میں پڑوسی تعظیم فاروقی کے عزیز ہیں اور یہ دونوں اکٹھے اسکول میں بھی پڑھتے تھے۔ جب ہم منڈی بہاؤالدین گئے تھے تو دو روز قبل دیوان صاحب کے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔

دیوان مشتاق اپنے گھر کے باہر کھلی جگہ پر بیٹھے تھے اور قرب و جوار کے گاؤں دیہاتوں سے لوگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، دیوان صاحب خود بھی زمیندار ہیں اور تعزیت کے لیے آنے والے بھی اسی طبقے کے لوگ تھے، بڑی بڑی ہیبت ناک پراڈو، پجیرو، ڈبل کیبن گاڑیاں جدید اسلحے سے لدے پھندے گارڈز کے ساتھ کلف دار کپڑوں میں ملبوس زمیندار آ رہے تھے، جا رہے تھے۔ میں بھی ایک کرسی پر بیٹھا ان کی آنیاں جانیاں دیکھ رہا تھا، ذرا دیر کو تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ ٹوٹا، تو ہمارے کراچی کے دوست تعظیم فاروقی نے دیوان مشتاق صاحب سے میرا تعارف کروایا ’’یہ ہمارے دوست سعید پرویز ہیں اور حبیب جالب صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں‘‘۔

اس تعارف کے ساتھ ہی دیوان مشتاق کھڑے ہو گئے اور مجھے گلے لگا کر بولے ’’یار! آپ بہت بڑے انسان کے بھائی ہیں، آپ کو دیکھ کر، مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، کاش! خوشگوار ماحول میں ہم ملتے تو بہت اچھا ہوتا، اس وقت تو میرے بھائی کے انتقال سے ماحول سوگوار ہے۔ بہرحال اب میں آپ سے ملنے کراچی آؤں گا‘‘۔ میں ان کے بھائی کے لیے تعزیت اور فاتحہ پڑھ چکا تھا۔

منڈی بہاؤالدین میں اور بھی لوگوں سے ملاقاتیں رہیں، ہمارے دوست کا خاندان پٹیالہ ہندوستان سے ہجرت کر کے منڈی بہاؤالدین ہی میں آباد ہوا تھا، تعظیم فاروقی نے اپنا گھر بھی دکھایا، بازار میں اپنے والد مرحوم کی دکان بھی دکھائی اور پھر قبرستان بھی گئے، جہاں ان کے والد مرحوم آسودہ خاک ہیں۔ قبر کی لوح پر رئیس امروہوی صاحب کا لکھا ہوا قطعہ تاریخ وفات کنداں ہے۔ یہ والد بزرگوار محمد فاروقی پٹیالوی کی محنتوں اور ریاضتوں کا ثمر ہے کہ ان کے خاندان والے بہت اچھے حال میں زندگی گزار رہے ہیں، منڈی بہاؤالدین میں وہ اسکول بھی دیکھا، جہاں ہمارے دوست کا لڑکپن کی شرارتوں کے ساتھ بھرپور زمانہ گزرا تھا۔ اسکول کے ماسٹر صاحب جو حساب پڑھاتے تھے وہ بھی ملے، آج برسوں گزر جانے کے بعد بھی ماسٹر صاحب اسی گھر میں رہ رہے ہیں اور اپنے بیٹوں کے ساتھ خوش ہیں۔ مطمئن ہیں کہ ماسٹر صاحب سے مل کر اچھا لگا۔

منڈی بہاؤالدین ایک چھوٹا سا پرسکون سا شہر ہے، جس کی گلیوں پر سرخ اینٹوں کا فرش ہے۔ گلیاں اور رستے بہت کشادہ ہیں، وقت کے ساتھ جدید طرز تعمیر والے گھر بھی بن چکے ہیں، بودوباش بھی نئے تقاضوں کے مطابق ہے، مگر پھر بھی سادگی کا حسن اپنی جگہ موجود ہے، بڑے شہروں والی بھیڑ سے کوسوں دور، ٹریفک کے اژدہام سے پاک، کھلی فضا، تازہ اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہوا۔

دن گزرا تو شام آ گئی، چھوٹے سے شہر منڈی بہاؤالدین کی شام، ایک مہک سی ہوا میں رچی بسی، ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی، ہم ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کراچی کے شور سے دور بہت دور بمشکل ایک ڈیڑھ لاکھ آبادی والے شہر کی شام سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ اپریل کے پہلے پہلے دن تھے، گرمی تھی، مگر سردی کا احساس موجود تھا، ٹھنڈے مشروب مزہ دے رہے تھے۔

اس یادگار سفر کا آغاز ہم نے علی الصبح کراچی سے کیا تھا اور ہم ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، میاں چنوں، پاکپتن شریف ہوتے ہوئے رات دس بجے لاہور پہنچے تھے۔ پاکپتن شریف میں درگاہ بابا فرید شکر گنج پر حاضری اور سلام ہمارا واحد مقصد تھا، دل خوش ہو گیا۔ بابا صاحب تک پہنچنے سے پہلے ہم کوٹ مٹھن میں بابا غلام فرید کے مزار پر حاضری دے چکے تھے۔ ’’کی حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ ملدا‘‘۔ لوک گلوکار پٹھانے خان کی آواز کوٹ مٹھن میں چاروں اور سے آ رہی تھی ’’مینڈھا عشق وی توں، میرا یار وی توں‘‘۔

پھر ہم پیروں ولیوں کے شہر مدینۃ الاولیا ملتان شریف پہنچے، رات ہو چکی تھی، ہم سو گئے۔ صبح اٹھے، بیرون دولت گیٹ ناشتہ کیا اور قلعہ ملتان آ گئے۔ شاہ رکن عالم دربار میں سلام پیش کیا اور اب ان کے دادا غوث بہاؤالحقؒ کے دربار کی طرف جا رہے تھے، راستے میں مولانا حامد علی خان کی آخری آرام گاہ ہے، وہاں حاضر ہوئے اور ملتان شریف کے شہنشاہ کی خدمت میں سلام پیش کیا اور پھر شہنشاہوں کے شہنشاہ حضرت غوث بہاؤالحق صاحب کے دربار پہنچ گئے۔ سرشاریاں سمیٹیں، آنکھوں میں نظارے سجائے، دل میں بزرگوں کا درد بسائے، قریب ہی واقع قبرستان میں اپنے والد محترم خادم الفقراء صوفی عنایت اللہ قادری کی قبر مبارک پر حاضری دی۔ فاتحہ و سلام کا ہدیہ نذر کیا۔

اب ہم ملتان سے خانیوال جا رہے تھے، جہاں فاروقی برادران کے پیر صاحب شاہ محمدبخش کی درگاہ ہماری منزل تھی۔ شاہ محمد بخش صاحب کی درگاہ پر حاضری دی، فاتحہ پڑھی، کچھ دیر وہاں بیٹھے اور اب ڈرائیور محمد سعید خان گاڑی دوڑاتے ہوئے پاکپتن شریف جا رہا تھا۔ راستے میں میاں چنوں آیا، یہاں ہمارے دوست چوہدری غلام رسول رہتے ہیں، چوہدری صاحب بڑے ملنسار انسان ہیں، وہ روکتے رہے، مگر ہم پروگرام کے مطابق سفر جاری رکھنے پر مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے پرتکلف چائے کے بعد آگے بڑھ گئے، اور نماز عصر کے وقت حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے دربار میں پہنچ گئے، نماز عصر مزار کے احاطے میں واقع خوبصورت مسجد میں پڑھی۔ بہشتی دروازہ دیکھا، حاضری، فاتحہ سلام نذر گزارا۔

مغرب کی نماز پڑھی اور داتا کی نگری لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ لاہور میں حضرت میاں میر صاحب کے مزار پر حاضری دی اور پھر اگلے روز ’’گنج بخش فیض عالم، مظہر نور خدا، ناقصاراں پیر کامل ، کاملاں را رہنما‘‘ کے دربار عالی میں پہنچ گئے۔ فجر کا وقت تھا، طلوع آفتاب سے پہلے کا منظر اور داتا صاحب کا دربار! الفاظ اس نظارے کا احاطہ نہیں کر سکتے، خوشبوؤں سے معطر فضا میں قرآن شریف کی تلاوت کرنے والے سیکڑوں افراد کی دھیمی دھیمی آواز، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کا چلہ خانہ، جہاں آپ نے چالیس روز عبادت و مراقبے میں گزارے تھے اور سامنے ’’مرکز تجلیات‘‘ حضرت علی ہجویری کی قبر مبارک، سبحان اللہ کیا شان ہے، اللہ کے نیک بندوں کا کیا مقام ہے۔

لاہور سے ہم پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں کچھ دیر رکے، ناشتہ کیا اور پھر تیزی سے سفر کرتے ہوئے، چوہدریوں کے شہر گجرات آ گئے۔ سنا تھا کہ چوہدری ظہور الٰہی اور ان کے بعد چوہدری شجاعت مہمانوں کو ’’روٹی شوٹی‘‘ کھلائے بغیر نہیں چھوڑتے اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ ریاض صاحب ہمارے میزبان تھے، ہمیں گجرات شہر کے ایک بڑے جدید ہوٹل میں لے گئے، دوپہر کا پرتکلف کھانا کھلایا اور پھر خود بھی اپنی کار میں ہمارے ساتھ منڈی بہاؤالدین کے لیے چل دیے، گجرات کے ہمارے میزبان بھی دیوان مشتاق کے دوست ہیں اور یہ دیوان صاحب کے بڑے بھائی کی وفات پر فاتحہ کے لیے منڈی بہاؤالدین ہمارے ساتھ آئے اور پھر اسی روز شام کو واپس گجرات روانہ ہو گئے۔

ہمیں رات منڈی میں ہی گزارنی تھی، سو ہم رک گئے اور اگلے روز ہم بھی واپس لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ تمام راستے سڑکوں کے کنارے، دیوان مشتاق کی رنگین تصاویر، اپنے لیڈر نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ آویزاں تھیں، اسی طرح چوہدری برادران، عمران خان، آصف زرداری، بی بی بے نظیر بھٹو صاحبہ کی تصاویر بھی آویزاں نظر آئیں، ہم ایک روز لاہور میں مزید ٹھہرے۔

لاہور آنا ہو اور جالب صاحب کی آخری آرام گاہ پر حاضری نہ ہو، ایسا ہو نہیں سکتا۔ ملتان روڈ پر واقع سبزہ زار کالونی کے شاہ فرید قبرستان میں مدفون شاعر عوام کی خدمت میں حاضر ہوا، مٹی سے تعلق جوڑے رکھنے والے شاعر کی قبر مٹی کا ڈھیر ہے۔ 12×12 فٹ کے احاطے میں شاعر کے اشعار کنداں ہیں اور لوح پر وہ شعر لکھا ہے جو جالب صاحب نے مادر ملت کے انتقال پر کہا تھا:

اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے

سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے

یوں دس روز کا یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا اور ہم واپس کراچی آ گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔