سانحہ بلدیہ میں جاں بحق 5 افراد کی باقیات خراب ہوگئیں

راحیل سلمان  جمعرات 14 مارچ 2013
جاں بحق افراد کی باقیات جلنے سے سوختہ تھیں، سرد خانے میں مزید خراب ہوگئیں ۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل

جاں بحق افراد کی باقیات جلنے سے سوختہ تھیں، سرد خانے میں مزید خراب ہوگئیں ۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل

کراچی:  بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے کو 6 ماہ بیت گئے لیکن واقعے میں جاں بحق ہونے والے 5 افراد کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے متعدد بار لیے گئے لیکن رپورٹ نہیں آسکی، تفصیلات کے مطابق11ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع گارمنٹس فیکٹری علی انٹر پرائزز میں آتشزدگی سے 259 افراد لقمہ اجل بنے، جاں بحق ہونے والے افراد اپنے گھروں کے کفیل تھے جن کے جانے سے گویا ان کے اہل خانہ کی دنیا ہی اجڑ گئی۔

متاثرین کے زخموں پر حکومت نے کچھ مرہم رکھا اور سرکاری سطح پر ان کی مالی امداد بھی کی گئی لیکن دوسری جانب ستم ظریفی یہ ہے کہ واقعے میں جاں بحق ہونیوالے 5 افراد کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جاچکے ہیں لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

جس کی وجہ سے لاشوں کے دعویدار خاندانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے پیاروں کی لاشیں نہ ملنے کی وجہ سے وہ جس کرب و اذیت میں مبتلا ہیں اس کا اندازہ ارباب اختیار نہیں لگاسکتے،جاں بحق 5 افراد کی باقیات 6 ماہ سے ایدھی سرد خانے میں رکھی ہیں اور اب ان کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی ہے، باقیات جلنے کی وجہ سے پہلے ہی سوختہ حالت میں تھیں جبکہ کم و بیش نصف سال سرد خانے میں پڑے رہنے کی وجہ سے ان کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔