عروسی ملبوسات سے سجا لاہور

قیصر افتخار / محمود قریشی  منگل 12 دسمبر 2017
فیشن کی دنیا میں بدلتے رجحانات اوران کی مقبولیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔فوٹو: فائل

فیشن کی دنیا میں بدلتے رجحانات اوران کی مقبولیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔فوٹو: فائل

لاہورکوفن وثقافت کا گہوارا کہا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ تاریخی شہر ثقافتی ورثہ سے مالامال ہے تو دوسری طرف فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں نام کمانے والے عظیم فنکاروںکا تعلق بھی لاہورسے رہا ہے۔ اس اعتبار سے لاہورکوہمیشہ ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہاں پرمنعقد ہونے والے گرینڈ پروگرام ہرلحاظ سے منفرد اوریادگارثابت ہوتے ہیں۔

روایتی انداز سے پیش کئے جانے والے پروگراموں میں جہاں لاہورکی ثقافت دکھائی دیتی ہے وہیں یہاں کے فنکارکسی بھی پروگرام کو چار چاند لگانے میںاپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ ویسے توموجودہ حالات میں فنی سرگرمیاں بہت محدود ہوچکی ہیں اورلوگوں کی بڑی تعداد کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لاہورمیں پاکستان فیشن انڈسٹری کی جانب سے منعقد کئے جانے والے 3 روزہ ’ برائیڈل کٹیورویک ‘ نے یہاں کی رونقیں زبردست اندازسے بحال کیں۔

ایک طرف نامور فنکاراس ایونٹ میں جلوہ گرہوئے تودوسری طرف فنون لطیفہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے فیشن شو کے تینوں روز شرکت کرکے یہ ثابت کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں ، لوگ تفریح کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایک طرف تولوگ اپنی فیملیز کے ساتھ فیشن ویک میں شریک ہوئے اورڈیزائنرزکے خوبصورت عروسی ملبوسات کو سراہتے رہے ۔ فیشن ویک میں جہاں ملک کے نامورفیشن ڈیزائنرزنے برائیڈل شو کی مناسبت سے مختلف رنگوں میں عمدہ کولیکشن تیارکی ، وہیں ٹاپ ماڈلزکی ریمپ پرکیٹ واک نے تقریب کوچارچاند لگانے میںکوئی کسرنہ چھوڑی۔ زندہ دلان لاہورجہاں فیش ویک میں شرکت پر خوش دکھائی دے رہے تھے ، وہیں اپنے پسندیدہ فنکاروں کواپنے درمیان پاکر سیلفیاں بنوانے اورآٹوگراف لینے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

لاہورمیں ہونے والے تین روزہ فیشن ویک میں معروف ڈیزائنرزمیں علی ذیشان، نکی نینا، ارم خان، فہد حسین، مفرہ، ہمایوں عالمگیر، ریما احسن، عائشہ عمران، زگی مینز ویئر، ایم این آر ڈیزائن سٹوڈیو، دیپک ، فہد،کلاسک، آمنہ یاسمین، انیسہ کیانی، ایڈن روب، عائشہ فرید، لاجونتی، ذونیا انوار، عظمیٰ بابر، احسن، آصفہ نبیل، ماہین تاثیر اورمنیب نواز کے علاوہ مختلف برانڈز بھی شامل تھے۔

اس موقع پرمعروف ماڈلزمہرین سید، نورے بھٹی، رابعہ بٹ، سیبل، فلک، سبیکا امام، ریچل، گیتی آراء، محمد، وقاص، حمزہ اورسنیتا مارشل سمیت دیگر نے ریمپ پرکیٹ واک کرتے ہوئے دیدہ زیب ملبوسات متعارف کروائے۔ ایک طرف توملبوسات کی خوبصورت کولیکشن تینوں روز متعارف کروائی گئی، وہیں جیولری، میک اپ ، ہیئرسٹائل کے انداز بھی شائقین کوخوب بھائے۔ ایونٹ کے تینوں روز بہت سے معروف ستارے ریمپ پرجلوہ گرہوئے، لیکن اس مرتبہ دلچسپ بات یہ تھی کہ فلمی ستارے اپنی ریلیز ہونے والی نئی فلموں کی پروموشن کیلئے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ پہنچے۔

فلمسٹارشان، حمائمہ ملک، احسن خان، صباقمر، محب مرزا، ماورا حسین، عظمیٰ حسن، ایمن، منال، عفان وحید، عاصم اظہر، قرۃ العین بلوچ، اقراء عزیز، یمنی زیدی، اسد صدیقی، زارانورعباس اورعظمیٰ خان اپنے اپنے پراجیکٹس کی تشہیر کیلئے فیشن ویک میں شریک ہوئے۔ ’’ارتھ ٹو، پرچی اورچھپن چھپائی‘‘ کی پروموشن کیلئے یہ انداز شائقین کوبہت بھایا۔ اس موقع پرایک بات جوقابل زکر ہے کہ اداکارشان کی فلم کی سپورٹ کیلئے ان کی اہلیہ آمنہ بانڈے اوربھابھی خاص طورپرفیشن میں پہنچیں۔ فیشن کے رنگوں سے رنگا تین روزہ میلہ بڑا کامیابی سے جاری رہا اور بھرپور اندازسے اختتام پذیر ہوا۔

برائیڈل ویک کے دوران ’’ایکسپریس‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے فلمسٹار شان، حمائمہ ملک، احسن خان اورصبا قمر نے کہا کہ دیکھا جائے توفیشن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مختلف رنگوں کا ملاپ اوران کی تراش خراش سے کپڑے کوایک نئی شکل دینے کاانداز نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ جس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ صدیوں سے انسان پرکشش دکھنے کیلئے کوشش کرتا آرہا ہے۔ سولہ سنگھار، بال سنوارنا ، آنکھوں میںکاجل، ہاتھوںمیں چوڑیاں، مہندی، پاؤںمیں پازیب اور ملبوسات کے منفرد انداز شخصیت کو پرکشش بنانے کیلئے ہر دورمیں اہم رہے ہیں۔

اس لئے فیشن کی دنیا میں بدلتے رجحانات اوران کی مقبولیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس شعبے میں پاکستان فیشن انڈسٹری سے وابستہ باکمال لوگوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوںکا لوہا منوالیا ہے۔ ہمارے ڈیزائنروں کی شہرت کے چرچے اب پاکستان کی سرحدیں پار کرتے ہوئے دنیا کے بیشترممالک تک جا پہنچے ہیں، جو کسی اعزازسے کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کی مقبولیت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے اوریہاں منعقد کئے جانیوالے فیشن شو میں ایک خاص کمیونٹی کے ساتھ اب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد میںدکھائی دیتی ہے جو خوش آئند بات ہے۔

اس سلسلہ میں پاکستان فیشن انڈسٹری سے وابستہ معروف ڈیزائنرز، میک اپ آرٹسٹ ، فوٹوگرافر اورہیئرسٹائلسٹ داد کے مستحق ہیں ، جن کی کاوش سے فیشن انڈسٹری کو فروغ مل رہا ہے اوران پلیٹ فارمزسے ہمیں ایسے باصلاحیت ڈیزائنر کا کام دیکھنے کوملتا ہے جوخوبصورت رنگوں کے ملبوسات ، جیولری اورہیئرسٹائلنگ کوایک نئی شکل دیتے ہیں جوسب کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جوپاکستان کا سافٹ امیج اپنے فن کی بدولت دنیا بھرتک پہنچا سکتے ہیں۔

اداکارہ ماورا حسین، یمنی زیدی، عاصم اظہراورقرۃ العین بلوچ نے کہا کہ شادی بیاہ کی مختلف رسومات کے حوالے سے تیارکردہ ملبوسات میں جہاں رنگوں کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیا، وہیں جیولری، ہیئرسٹائل، جوتے اوردیگراشیاء کا میل آنکھوں کو بھلا لگ رہا تھا۔ بڑی کامیابی سے جاری فیشن ویک میں جہاں ڈیزائنرزکی تخلیقی صلاحیتیںنمایاں تھیں وہیںمعروف فنکاروں اورگلوکاروںکی ریمپ پرآمد سے تقریب کا حسن دوبالاہورہاتھا۔ اگر دیکھا جائے توہرلحاظ سے فیشن ویک لوگوںکی توجہ کا مرکزبنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فیشن انڈسٹری میں بہت سے باصلاحیت ڈیزائنرکام کررہے ہیں ۔

جنہوں نے اپنے عمدہ کام کی بدولت دنیا کے بیشتر ممالک میں پاکستان کانام روشن کیا ہے۔ انہی کے نقش قدم پرچلتے ہوئے پڑھے لکھے نوجوان اس شعبے کی طرف آرہے ہیں اور ملبوسات، جیولری، ہیئرسٹائل اور دیگر شعبوں میں نمایاں کام کررہے ہیں۔ ایک ڈیزائنرجب مغرب اورمشرق کے کلچر کی عکاسی کرتے ہوئے مختلف رنگوں میں ڈریسز تیارکرتا ہے توبلاشبہ شخصیت کو پرکشش بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگوں میں فیشن کی سمجھ بوجھ بڑھ رہی ہے۔ ہرکوئی بننے سنورنے کوترجیح دیتا ہے، جوہمارے نزدیک پاکستان فیشن انڈسٹری کی بڑی کامیابی ہے۔ اداکارہ ایمن، منال، عفان وحید، اقراء عزیز، یمنی زیدی، اسد صدیقی، زارانورعباس اورعظمیٰ خان نے کہا کہ ایک ڈیزائنرکا یہ کام ہے کہ وہ اپنی تخلیقی سوچ کے ذریعے فیشن کی دنیا میں نت نئے انداز متعارف کروائے۔

کوئی بھی ڈیزائنر دنیا کی مختلف ثقافتوںسے متاثرہوسکتا ہے اوراپنی کولیکشن میں اس اندازکو پیش کرسکتا ہے مگرشادی بیاہ کے حوالے سے پیش کئے جانے والے فیشن شو کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعے ہمیں اپنے ملک کا خوبصورت کلچراوررسم ورواج کوسمجھنے اورجاننے کا موقع ملتا ہے۔ اس وقت اگردیکھا جائے توہماری نوجوان نسل پڑوسی ملک بھارت کی فلمیں، ڈرامے دیکھتے ہوئے ان کی رسم ورواج کے بارے میں توخاصی معلومات رکھتے ہیں لیکن اپنے بارے میں انہیں زیادہ معلومات نہیں۔ اس صورتحال میں برائیڈل کٹیورویک کا انعقاد اورعروسی ملبوسات کی نمائش نے نوجوانوںکو اپنے خوبصورت کلچر کے قریب کیا ہے۔ ہمیں بھی اس ایونٹ کا حصہ بن کربے حداچھا لگاہے۔

اس کے علاوہ فیشن ویک کے دوران فلموںکی پروموشن کا یہ نیا ٹرینڈ بھی سامنے آیا ہے، جو خاصا پسند کیا گیا ہے۔ ایک طرف تومصروف ترین فنکارریمپ پرخوبصورت پیراہن کیساتھ واک کرتے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری جانب ان کے چاہنے والے ان کومبارکباد اورنیک تمناؤں کے پیغامات بھی براہ راست دیتے ہیں۔ ایک فنکارکیلئے یہ سب سے بڑی بات ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے ایونٹس کا ملک بھر میں انعقاد بے حد ضروری ہے۔ ایک طرف تواس سے پاکستانی فیشن انڈسٹری کوفروغ ملے گااورہمارے کلچرکوبین الاقوامی سطح پرپذیرائی ملے گی۔ جہاں تک بات پاکستانی ڈیزائنرز کی ہے توانہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ محدود وسائل کے باوجود اس قدر عمدہ ڈریسز تیارکرنا کوئی آسان بات نہیں۔ حکومت کوچاہئے کہ وہ فیشن انڈسٹری کی بھرپورسرپرستی کرے ، تاکہ ہمارے ڈیزائنرزاپنی کولیکشن سے پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھرمیں متعارف کرواسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔