اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی  جمعرات 14 مارچ 2013
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔  فوٹو: فائل

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ فوٹو: فائل

دین اسلام دینِ امن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ اُن حقوق میں سے پہلا حق ’’حقِ حفاظت‘‘ ہے، جو انہیں ہر قسم کے خارجی اور داخلی ظلم و زیادتی کے خلاف میسر ہوگا تاکہ وہ مکمل طور پر امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

غیر مسلم شہریوں کے قتل کی ممانعت: اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم شہری کو قتل کرنا حرام ہے۔کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرے۔ قرانی احکامات کے مطابق اگر کسی نے کسی شخص کو ناحق قتل کیا تو گویا اُس نے تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور اگر کسی شخص کو ناحق قتل ہونے سے بچایا تو گویا اُس نے تمام لوگوں کو بچالیا۔

غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے: حضرت ابوبکر صدیقؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا : ’’جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو نا حق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘ (نسائی شریف)

حدیث مبارکہ میں معاہد کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے مراد ایسے غیر مسلم شہری ہیں جو معاہدے کے تحت اسلامی ریاست کے باسی ہوں یا ایسے گروہ اور قوم کے افراد ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدۂ امن کیا ہو۔ اسی طرح جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کے شہری جو اُس ریاست کے قانون کی پابندی کرتے ہوں اور آئین کو مانتے ہوں معاہد کے زمرے میں آئیں گے۔ جیسے پاکستان کی غیر مسلم اقلتیں جو آئین پاکستان کے تحت باقاعدہ شہری اور رجسٹرڈ ووٹر ہیں اور وہ پاکستان کے آئین و قانون کو پاکستان کی مسلم اکثریت کی طرح تسلیم کرتے ہیں، یہ سب معاہد ہیں۔ اس لیے جدید تناظر میں معاہد کا ترجمہ ہم نے غیر مسلم شہری کیا ہے۔ ( فیض القدیرللمناوی)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی غیر مسلم شہری (معاہد ) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالاں کہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔‘‘

(صحیح بخاری )

غیر مسلم سفارت کاروں کے قتل کی ممانعت: اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن و رواداری کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق بد ترین دشمن قوم کا سفارت کار بھی اگر سفارت کاری کے لیے آئے تو اس کا قتل حرام ہے۔ حضور اکرمؐ کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے، لیکن آپؐ نے ان سے ہمیشہ خود بھی حسنِ سلوک فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دی۔ حتیٰ کہ نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے نمائندے بھی آئے، جنہوں نے صریحاً اعترافِ اِرتداد کیا تھا لیکن آپؐ ان کے سفارت کاروں سے بھی حسن سلوک سے پیش آئے ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: ’’میں حضور اکرمؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبد اللہ بن نواحہ) اور ایک آدمی مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے سفارت کار بن کر آئے تو انہیں حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟‘‘ انہوں نے (اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے ) کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ (معاذ اللہ ) اللہ کا رسول ہے۔ حضور نبی اکرمؐ نے (کمال برداشت و تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ (مگر حضور اکرمؐ نے ایسا نہ کیا اور انہیں جان کی سلامتی دی)۔‘‘ (دارمی )

امام عبد الرزاق کی’’ المصنف ‘‘اور مسند بزار میں رَسُوْلاً اور رُسُلًا کے الفاظ ہیں، یعنی اکیلا سفارت کار ہو یا سفارتی عملہ ہو، ہر دو صورتوں میں ان کا قتل جائز نہیں ہے۔

حضور نبی اکرمؐ کے مندرجہ بالا ارشادات اور آپؐ کے عمل مبارک سے یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا کہ غیر ملکی نمائندوں اور سفارت کاروں کی جان کی حفاظت کرنا سنت نبویؐ ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: ’’(اس عمل سے) سنت جاری ہو گئی کہ سفارت کار کو قتل نہ کیا جائے ۔‘‘ (امام احمد بن حنبل، نسائی شریف)

گویا حضور نبی اکرمؐ کے اس جملے نے سفارت کاروں کے احترام کا بین الاقوامی قانون وضع فرما دیا۔ اس حکم سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ تمام عملہ جو کسی سفارت خانے میں سفارت کاری پر تعینات ہو اِسی حسن سلوک کا حق دار ہے اور اس کا قتل بھی از روئے حدیث حرام ہے۔

غیر مسلم مذہبی رہنمائوں کے قتل کی ممانعت: جس طرح غیر مسلم سفارت کاروں کے قتل کو حرام قرار دیا گیا ہے اسی طرح غیر مسلموں کے مذہبی رہنمائوں کے قتل کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے : ’’حضور نبی اکرمؐ جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو حکم فرماتے : غداری نہ کرنا، دھوکا نہ دینا، نعشوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور بچوں اور پادریوں کو قتل نہ کرنا۔‘‘ (احمد بن حنبل )

ایک غیر مسلم کے ظلم کا بدلہ دوسروں سے لینے کی ممانعت: قرآن و حدیث کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ جس نے ظلم کیا حسبِ دستور بدلہ اور سزا کا وہی مستحق ہے، اس کے بدلے میں کوئی دوسرا نہیں۔ اس کے جرم کی سزا اس کے اہل و عیال، دوستوں یا اس کی قوم کے دیگر افراد کو نہیں دی جا سکتی۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’اور ہر شخص جو بھی (گناہ ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ (الانعام)

اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پر امن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزا دے۔ حضور اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے : ’’کسی امن پسند غیر مسلم شہری کو دوسرے غیر مسلم افراد کے ظلم کے عوض سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘

(ابو یوسف الخراج)

لہٰذا ایسے لوگ جو انتقاماً مخالف قوم کے بے گناہ افراد کو قتل کریں، ان کا مال لوٹیں اور ان کی املاک تباہ کریں، وہ صریحاً قرآنی آیات اور ارشاداتِ نبویؐ کی مخالفت کرنے والے ہیں۔ اُن کے اس قبیح عمل کو کسی بھی طرح اسلام سے نہیں جوڑا جاسکتا۔

غیر مسلم شہریوں کی جانوں کی طرح ان کے اموال کی حفاظت بھی اسلامی ریاست پر لازم ہے۔ ہر دور میں جمیع مسلمانوں کا اس پر اجماع رہا ہے۔ حضرت امام ابن سعد اور امام ابو یوسف نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ حضور نبی اکرمؐ کے معاہدے کی یہ شق نقل کی ہے: ’’اللہ اور اللہ کے رسول محمدؐ اہل نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے ان کے مالوں، ان کی جانوں، ان کی زمینوں، ان کے دین، ان کے غیر موجود و موجود افراد، ان کے خاندان کے افراد، ان کی عبادت گاہوں اور جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہے، تھوڑا یا زیادہ، ہر شے کی حفاظت کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔‘‘ (ابو یوسف کتاب الخراج)

حضرت عمرؓ نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہؓ کو جو فرمان لکھا تھا، اس میں دیگر احکام کے ساتھ یہ بھی درج تھا: ’’(تم بحیثیت گورنر شام) مسلمانوں کو ان غیر مسلم شہریوں پر ظلم کرنے، انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقے سے ان کا مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو۔‘‘

(ابو یوسف کتاب الخراج)

حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ ’’غیر مسلم شہری ٹیکس اس لیے ادا کرتے ہیں کہ ان کے خون ہمارے خون کی طرح اور ان کے مال ہمارے اموال کے برابر محفوظ ہو جائیں۔‘‘ (ابن قدامہ، المغنی)

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ ان کے اموال کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مسلمانوں کے اموال کی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا خنزیر کو تلف کر دے تو اس پر بھی جرمانہ لازم آئے گا۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’’الدر المختار‘‘ میں ہے :’’ غیر مسلم شہری کی شراب اور اس کے خنزیر کو تلف کرنے کی صورت میں مسلمان اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے گا۔‘‘ چہ جائے کہ ان کے گھروں کو جلا دیا جائے۔ ایسے عمل سے اسلام کی بد نامی ہوتی ہے ۔

غیر مسلم شہری کا مال چرانے والے پر بھی اسلامی حد کا نفاذ ہو گا: اسلام نے مال کی چوری کو حرام قرار دیا ہے اور ا س پر سخت سزا مقرر کی ہے۔ حضور نبی اکرمؐ کے زمانے میں قریش کی ایک مخزومی عورت نے چوری کی تو آپؐ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ لوگوں نے آپؐ سے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر (بالفرض) میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اُس پر بھی حد جاری کی جاتی۔ (بخاری شریف)

امام نووی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں: ’’یقینا غیر مسلم شہری، معاہد اور مرتد کا مال بھی اس اعتبار سے مسلمان کے مال ہی کی طرح ہے ۔‘‘(الدرالمختار)

غیر مسلم شہریوں کی تذلیل کی ممانعت: اسلام میں جیسے مسلمان کی عزت و آبرو کی تذلیل حرام ہے، ویسے ہی غیر مسلم شہری کی عزت کو پامال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو گالی گلوچ کرے۔ اس پر تہمت لگائے، اس کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے یا اس کی غیبت کرے۔ ایک مرتبہ گورنر مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفہ وقت امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے پاس جب اس کی شکایت کی گئی تو اُنہوں نے سر عام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور ساتھ ہی وہ تاریخی جملہ ادا فرمایا جو بعض محققین کے نزدیک انقلابِ فرانس کی جدو جہد میں روحِ رواں بنا۔ آپ نے گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے سے فرمایا: ’’تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالاںکہ ان کی مائوں نے انہیں آزاد جنا تھا۔؟‘‘ (کنز العمال)

حضور اکرمؐ کی طرف سے مظلوم غیر مسلم شہری کی وکالت کا اعلان: حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کرو ں گا۔‘‘ (ابو دائود )

فرمانِ رسالت مآبؐ کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان معاشرہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن بن جائے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ہر گز تساہل نہ کرے۔ آیات قرآنی، احادیث مقدسہ اور فقہائے اُمت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ کسی غیر مسلم شہری کو محض اس کے غیر مسلم ہونے کی بنا پر قتل کر دے یا اس کا مال لوٹے یا اس کی عزت پامال کرے۔ اسلام غیر مسلم شہریوں کو نہ صرف ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے بلکہ ان کی عبادت گاہوں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مگر ہمارے جذبات تو اسلامی تعلیمات کی طرف رُخ ہی نہیں کرتے۔

ایک غیر مسلم کے مبینہ فعل بد کی وجہ سے پوری غیر مسلم بستی کو آگ لگا دینا، غیر مسلم افراد پر تشدد کرنا اور اُن پر عرصۂ حیات تنگ کر دینا کون سی مسلمانی ہے۔۔۔۔؟ کیا دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ ہم پاکستان کے مظلوم غیر مسلموں سے لے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکیں گے۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں اپنے دین، وطن اور قوم کی عزت و وقار کا پاس رکھتے ہوئے۔ غیر مسلم افراد سے حسنِ سلوک کرنا چاہیے، تاکہ ہمارا یہ اخلاق اُن لوگوں کو اسلام کے قریب کردے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیماتِ اسلام سمجھنے کی توفیق دے ۔آمین!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔