شجر کاری مہم: ایک سودمند منصوبہ مگر۔۔۔

شاہ حسین ترین  جمعرات 14 مارچ 2013
صوبے میں 18 لاکھ نئے درخت لگانے کا ہدف سہل ثابت نہیں ہوگا۔  فوٹو: نسیم جیمس

صوبے میں 18 لاکھ نئے درخت لگانے کا ہدف سہل ثابت نہیں ہوگا۔ فوٹو: نسیم جیمس

کوئٹہ: محکمۂ جنگلات نے بلوچستان میں شجر کاری مہم شروع کردی ہے۔

کوئٹہ میں اِس مہم کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن سے بھی معاونت لی جارہی ہے۔ محکمۂ جنگلات نے اِس سال کوئٹہ سٹی میں 20 ہزار نئے درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جب کہ بلوچستان بھر میں مجموعی طور پر 18 لاکھ سے زاید نئے درخت لگائے جائیں گے۔

محکمۂ جنگلات کے مطابق اس مہم کے دوران کوئٹہ کے علاوہ ضلع چاغی میں60 ہزار، نوشکی میں20 ہزار، قلعہ عبداﷲ میں 50 ہزار، پشین میں 50 ہزار، میاں غنڈی پارک میں5 ہزار، زیارت میں 40 ہزار، ڈیرہ بگٹی میں 10 ہزار، ہرنائی میں 30 ہزار، کوہلو میں 10ہزار، سبی میں 50 ہزار، قلعہ سیف اﷲ میں 50 ہزار، ژوب میں ایک لاکھ 25 ہزار، لورالائی میں 50 ہزار، موسیٰ خیل میں ایک لاکھ، بارکھان میں 10 ہزار، شیرانی میں 20 ہزار، مستونگ میں 30 ہزار، قلات میں 50 ہزار، خضدار میں 75 ہزار، خاران میں 20 ہزار، واشک میں 20 ہزار، لسبیلہ میں ایک لاکھ، آواران میں 15 ہزار، کیچ میں 25 ہزار، گوادر میں 30 ہزار، پنجگور میں 10 ہزار، جعفر آباد میں ایک لاکھ، نصیر آباد میں ایک لاکھ، جھل مگسی میں 50 ہزار اور بولان میں 50 ہزار نئے درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ ضلع لسبیلہ میں واقع ہنگول نیشنل پارک میں 32 ہزار نئے درخت لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

شجر کاری کی یہ مہم 15 اپریل تک جاری رہے گی۔ اس مہم میں ضلعی انتظامیہ کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں، عوامی نمایندوں، این جی اوز، اسکائوٹس اور تعلیمی اداروں کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ چیف کنزرویٹر جنگلات اِس مہم کی نگرانی کریں گے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ کنزرویٹرز اس عمل کی دیکھ ریکھ کریں گے، اور اپنی رپورٹ چیف کنزرویٹر (Conservator) کو پیش کریں گے۔

بلوچستان میں محکمۂ جنگلات کی جانب سے ہر برس موسم بہار کے آغاز پر شجر کاری مہم شروع کی جاتی ہے۔ گذشتہ سال بھی کوئٹہ سٹی میں 10 ہزار اور صوبے بھر میں 10 لاکھ سے زاید نئے درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔ بلوچستان کے دور افتادہ اضلاع تو ایک طرف، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی مہم بُری طرح ناکامی گئی۔

کوئٹہ میں ہر سال نئے درخت لگائے جاتے ہیں، مگر مناسب دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے بیش تر خشک ہو کر دم توڑ دیتے ہیں۔ گذشتہ برس تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کی جانب سے ماتحت عملے کو درخت کاٹنے والوں، یا اُنھیں نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، مگر اُس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اب ایک بار پھر محکمۂ جنگلات اور متعلقہ حکام کی جانب سے شجر کاری مہم کو کام یاب بنانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ کوئٹہ میں جگہ جگہ پودوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں، مگر شہریوں کو تحریک دینے کے لیے جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اگر نرخ کم رکھے جاتے، باقاعدہ تشہیر کی جاتی، تو شہری صحیح معنوں میں اِس مہم میں شامل ہوسکتے تھے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق پانی کی کمی اور دیگر  ماحولیاتی مسائل سے بچنے کے لیے کسی بھی ریاست کے 25 فی صد رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں، مگر بلوچستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بلوچستان میں جنگلات کا تناسب پانچ فی صد تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی آتی گئی۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں جنگلات بے دریغ کاٹے گئے، جس کی وجہ سے جنگلات کا تناسب گھٹ کر اب صرف 1.4 فی صد رہ گیا ہے۔ ان بچے کچے جنگلات کی حفاظت کے لیے بھی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

زیارت، ہرنائی اور قلات میں واقع صنوبر کے قیمتی جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے جہاں ایک جانب بلوچستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، وہیں ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل بھی سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بارشوں کے تناسب میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوچکی ہے، جس کے باعث بلوچستان میں زیرزمین پانی کی سطح گرتی جارہی ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں زراعت کا کُلی انحصار زیر زمین پانی پر ہے، مگر وہاں زیر زمین پانی کی سطح ایک ہزار فٹ تک گر گئی ہے۔

ماہرین ارضیات اور ماحولیات کے مطابق ایک درخت سالانہ 4.6 ٹن آکسیجن پیدا کرتا ہے، اور6.3 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ درخت انسانی بقا کے لیے کتنے ضروری ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے بھر میں مربوط پالیسی اور ٹھوس اقدامات کے تحت شجر کاری مہم چلائی جائے۔ ساتھ ہی ہر برس لگائے جانے والے پودوں کی حفاظت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں، جس کے بغیر نئے درخت لگانے کا منصوبہ لاحاصل ثابت ہوگا۔ جنگلات کاٹنے والوں کے خلاف کارروائی بھی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔