وفاقی کابینہ کا الوداعی اجلاس

 جمعرات 14 مارچ 2013
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے تقرر کا عمل اتفاق رائے سے مکمل ہوگا۔ فوٹو : ثنا

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے تقرر کا عمل اتفاق رائے سے مکمل ہوگا۔ فوٹو : ثنا

اسلام آباد میں بدھ کو وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں منعقد ہونے والے وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس میں بعض اہم معاملات پر دور رس فیصلے کیے گئے ہیں۔وفاقی کابینہ کے اس الوداعی اجلاس میں بچوں سے زیادتی میں ملوث افراد کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے اور کمسن بچوں کو سزا دینے کی عمر کی حد7 سے بڑھا کر 12 سال مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ تاہم دہشت گردی میں ملوث بچے اس رعایت سے مستثنیٰ ہوں گے۔

کمسن بچوں کی سزا کے حوالے سے اس استثنیٰ کی اہمیت اس بناء پر بھی ضروری ہے کہ حال ہی میں سات 8 سال سے سولہ سال تک کے بچوں اور لڑکوں کو دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے میڈیا کے روبرو پیش کیا گیا تھا جنہوں نے اعتراف کیا کہ انھیں مختلف مقامات پر دھماکا خیز مواد اور بم وغیرہ رکھنے پر تین سے پانچ ہزار روپے تک کی رقم دی جاتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کمسن بچوں کی وساطت سے اصل دہشت گردوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور شاید یہی ہمارے حساس اداروں کی اصل ذمے داری ہے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وفاقی کابینہ کے الوداع اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے تقرر کا عمل اتفاق رائے سے مکمل ہوگا۔ شفاف انتخابات جمہوریت، ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے توانائی کا بحران کم ہو گا اور خطے میں خوشحالی آئے گی۔ راجہ پرویز اشرف کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کئی محاذوں پر کوششیں کامیاب رہیں مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان کا تجزیہ تھا کہ دہشت گرد عناصر حالیہ حملوں کے ذریعے معصوم لوگوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اور اپنے وجود کو ثابت کرنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں لیکن دہشت گردوں کو ان کا ایجنڈا مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزیراعظم نے سانحہ بادامی باغ لاہور پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ مسیحی برادری کی بستی پر حملہ افسوسناک ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حملے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر مسیحیوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کرے گی۔ علماء کرام کو اس موقع پر اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عدم رواداری کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے حکومت کی مدد کریں۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں، سول سروسز حکام، فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے میں تعاون فراہم کیا۔

وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری پالیسی2013ء اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی حکمت عملی 2013-17 ء کی منظوری بھی دی نیز پی پی سی کی شق82 میں ترمیم کی بھی منظوری دی تا کہ فوجداری مقدمات کے لیے کم سے کم عمر سات سے 12 سال تک بڑھا دی جائے اور اس ترمیم کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے ’’فوجداری قانون ترمیمی بل 2013ء‘‘ کی منظوری دی۔ کابینہ نے حکومتی سطح پر انتظامات کے بارے میں قطر سے ایل این جی کی درآمد کے لیے بات چیت شروع کرنے کی تجویز منظور کر لی اور چھ اور آٹھ مارچ 2013ء کو ای سی سی کے منعقدہ اجلاسوں کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

کابینہ نے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدوں کے لیے بات چیت شروع کرنے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی بھی منظوری دی۔ علاوہ ازیں لیک ویو پارک میں نئے چڑیا گھر سمیت دیگر منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نگراں وزیر اعظم کے لیے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار کا خط ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ہماری پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے‘ مشاورت مکمل ہونے پر قائد حزب اختلاف کو جواب دوںگا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کس سطح پر اور کس سے مشاورت ہو رہی ہے تو انھوں نے کہا کہ اس کا میکنزم میں میڈیا کو نہیں بتا سکتا۔

گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا صوبہ بلوچستان وفاقی حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ وفاقی حکومت صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریگی۔ اس ملاقات میں صوبے میں گورنر راج کے خاتمے پر بھی غور کیا گیا۔وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس کے بعد اب صرف نگراں سیٹ اپ کے قیام کا مرحلہ باقی رہ گیا ہے۔وفاقی کابینہ نے اپنے آخری اجلاس میں جن منصوبوں اور اقدامات کی منظوری دی ہے، یہ یقیناً خاصی اہمیت کے حامل ہیں اور آنے والی حکومت بھی ان پر عمل کرے گی۔

نگراں حکومت اور اس کے بعد عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کے سامنے بھی وہی چیلنج ہوں گے جس کا سامنا موجودہ حکومت کو رہا ہے۔دہشت گردی ، توانائی کا بحران اور معاشی استحکام یہ وہ چیلنج ہیں جن کا مقابلہ کرکے ہی ملک کو خوشحال اور پرامن بنایا جاسکتا ہے۔موجودہ حکومت کو اب نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے کنفیوژن ختم کردینی چاہیے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا فرض ہے کہ وہ اب کسی تاخیر کے بغیر نگراں سیٹ اپ کے اتفاق رائے پر پہنچیں تاکہ وطن عزیز میں جاری قیاس آرائیوں اور افواہوں کا خاتمہ ہوسکے اور سیاسی جاعتیں عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔