بے بس قومی اسمبلی کا آخری روز

نصرت جاوید  جمعرات 14 مارچ 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

بچھڑتے وقت دلوں کو ذرا سا دُکھ تو ضرور محسوس کرنا چاہیے۔ حیرت کی بات ہے قومی اسمبلی کی آئینی مدت کے آخری روز پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے میرا دل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں دھڑکا۔ اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے میں نے ایک مووی کیمرے کی طرح PAN کرتے ہوئے ایک کے بعد دیگر شخصیات پر فوکس کیا۔

ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن کی صلاحیتوں اور ملنساری کا میں ذاتی طور پر بڑا مداح ہوں۔ چند ایک کے ساتھ اب تقریباََ صحافی اور سیاستدان کے روایتی تعلق سے کہیں بڑھ کر گہرے مراسم بن چکے ہیں۔ مگر کسی ایک کی شکل پر غور کرتے ہوئے مجھے یہ خیال نہ آیا کہ آیندہ انتخابات کے بعد وہ قومی اسمبلی کے ہال میں بیٹھے نظر نہ آئے تو مجھے دُکھ ہو گا۔

بات افراد اور ان کے ذاتی رویوں کی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ 2008ء کے انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی اسمبلی اجتماعی طور پر ایسا کردار نہ ادا کر پائی جسے ہم یاد رکھنے پر مجبور ہوں۔ اگر پاکستان میں جمہوریت کو چلنے دیا گیا تو یقیناً اس اسمبلی نے 18 ویں ترمیم وغیرہ کے ذریعے پاکستان کے آئینی ڈھانچے کو جو بنیادیں فراہم کی ہیں وہ آیندہ کے سیاستدانوں کی زندگیاں آسان بنا دیں گی۔ مگر اس اسمبلی نے خود کو بے بس اس وقت ثابت کیا کہ جب خواجہ آصف جیسے کہنہ مشق پارلیمنٹرین رینٹل پاور پلانٹس کے نام پر مبینہ لوٹ مار رکوانے سپریم کورٹ چلے گئے۔

اس سے بھی زیادہ تماشا اس وقت ہوا جب کابینہ کے ایک رکن اعظم سواتی نے کابینہ میں بیٹھے اپنے ایک اور ساتھی علامہ حامد سعید کاظمی کے خلاف سپریم کورٹ میں کلام پاک ہاتھ میں لے کر حج اسکینڈل کے ذریعے مال کمانے کے الزامات لگائے۔ اسی طرح کا ایک اور مضحکہ خیز واقعہ وہ بھی تھا جب کابینہ ہی کے ایک اور رکن مخدوم فیصل حیات اپنے ایک اور وزیر ساتھی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور پلانٹس کے سلسلے میں خواجہ آصف کے شریک بن گئے ۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف جیسے قد آور رہنما کا قومی اسمبلی میں 190 اراکین سے زیادہ پر مشتمل ایک بھاری بھر کم اپوزیشن کے ہوتے ہوئے بھی ’’رشوت‘‘ کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ چلے جانا اس بات کا واضح اعتراف تھا کہ عوام کے منتخب نمایندوں کے پاس بدعنوانیاں روکنے کی کوئی طاقت موجود نہیں ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں وہاں کی کابینہ حکومتی فیصلوں کے ضمن میں اجتماعی طور پر ذمے دار سمجھی جاتی ہے۔ یہ تماشا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہوسکا کہ اپنے کپتان یعنی وزیر اعظم کو اپنے کسی ساتھی کی مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے پر مجبور کرنے کے  بجائے ایک نہیں دو وفاقی وزراء اپنے وزیر ساتھیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں چلے گئے۔

اعظم سواتی کو علامہ کاظمی کے خلاف برسر عام الزامات لگانے پر یوسف رضا گیلانی نے اپنی کابینہ سے فارغ کر دیا۔ مگر یہ جرأت وہ شاہ جیونہ کے مخدوم صالح حیات کے سلسلے میں برقرار نہ رکھ پائے۔ راجہ پرویز اشرف کو انھوں نے کچھ عرصے بعد چند مہینوں کے لیے فارغ کر کے البتہ یہ تاثر ضرور دے دیا کہ رینٹل پاور پلانٹس کے ضمن میں دال میں کچھ کالا ضرور تھا۔ قدرت بھی مگر بڑی ظالم ہے۔ جب گیلانی صاحب کو سپریم کورٹ نے فارغ کر دیا تو نئے وزیر اعظم کے لیے قرعہ راجہ پرویز اشرف کا نکل آیا۔

اپنے جاننے والے وزراء کے ساتھ میں جب بھی ان تماشوں کا ذکر کرتا تو وہ بڑے دُکھی دل کے ساتھ مخلوط حکومتیں چلانے کی مجبوریاں بیان کرنا شروع کر دیتے۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سمجھے بغیر کہ ان کی دو ٹکے کی نوکریاں جمہوری نظام کے مجموعی تاثر کو تباہ و برباد کر رہی ہیں اور پاکستان کے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور بھی کہ ان کے ملک میں اب سپریم کورٹ ہی ایک واحد ادارہ رہ گیا ہے جو کسی نہ کسی طرح مظلوموں کی داد رسی کر سکتا ہے اور بدعنوانی کی نیت سے بنائے جانے والے منصوبوں کو روکتا ہے۔ اسی لیے تو مجھے ہر گز حیرت نہ ہوئی جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں بالآخر یوں فارغ کردیا جیسے آپ گھریلو  ملازموں کو صرف ایک چٹکی بجا کر کیا کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی کے ایوان، ٹیلی وژن ٹاک شوز اور پھر عدالتوں کے رو برو پیش ہو کرایک دوسرے کے لتے لیتے ہوئے یہ اراکین اسمبلی مجھے اس وقت تو بالکل ہی مسخرے نظر آتے جب بڑے دُکھ سے شکوے کیے جاتے کہ ان کی جانب سے متفقہ طور پر پاس کردہ قرار دادوں کے باوجود حکومت، پاکستان کے زیر نگین چند علاقوں پر ڈرون حملے نہیں رکوا سکی۔ جب خواجہ آصف اور فیصل حیات جیسے تگڑے انسان بے بس ہو کر سپریم کورٹ جا پہنچیں تو ان کی جانب سے منظور شدہ قراردادوں کو امریکا جیسی سپر طاقت کیا اہمیت دیتی؟ اسی طرح کا معاملہ ہماری عسکری قیادت کے ساتھ بھی ہوا۔ جی ہاں اس قومی اسمبلی نے ایک نہیں دو مرتبہ افواج کے سربراہوں کو ڈی جی آئی ایس آئی سمیت اپنے ’’ان کیمرہ‘‘ اجلاسوں میں ضرور طلب کیا۔ نتیجہ مگر کیا نکلا۔

ہماری منتخب قیادت نے عسکری قیادت کو بڑی عاجزی سے کہا تو صرف اتنا کہ وہ جیسے مناسب سمجھیں سوات اور قبائلی علاقوں میں پھیلی شورش کو روکنے کا بندوبست کریں۔ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے ایک گھر میں اپنی بیویوں اور بہت سارے بچوں کے ساتھ بڑے اطمینان سے کیسے رہ رہا تھا۔ امریکی اسے کس طرح ڈھونڈ پائے اور کیوں بڑی آسانی سے 2 مئی 2011ء کی رات اپنے کمانڈوز لے کر ہماری سرحدوں میں گھس آئے۔ ان تمام سوالات کا جواب قومی اسمبلی نے خود ڈھونڈنے کے بجائے ایک کمیشن سے پورا سچ جاننے کی درخواست کر دی۔ اس کمیشن کی رپورٹ آ چکی ہے مگر پاکستان کا عام آدمی تو کیا ہمارے اراکین اسمبلی بھی اسے آج تک نہیں پڑھ پائے۔ قصے ہی قصے ہیں۔ تماشے ہی تماشے۔ ان کا ذکر شروع کر دوں تو اپنے اراکین اسمبلی کی بے بسی پر رحم نہیں غصہ آئے گا اور ’’شہیدوں‘‘ سے مذاق نہیں کیا کرتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔