پیپلز پارٹی کا منشور

 جمعـء 15 مارچ 2013
پارٹی صدر مخدوم امین فہیم نے اعلان کیا کہ 2018 تک لازمی پرائمری تعلیم یقینی اور پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔   فوٹو: فائل

پارٹی صدر مخدوم امین فہیم نے اعلان کیا کہ 2018 تک لازمی پرائمری تعلیم یقینی اور پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے غربت کے خاتمے کے لیے سات نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ہے‘ منشور میں کہا گیا ہے کہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کے ساتھ مزدور کی کم از کم تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ اور مزدوروں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمایندگی ملے گی۔ انتخابی منشور کا اعلان پیپلز پارٹی  پارلیمنٹیرینزکے صدر مخدوم امین فہیم نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

پارٹی صدر مخدوم امین فہیم نے اعلان کیا کہ 2018 تک لازمی پرائمری تعلیم یقینی اور پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ 50 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا‘ حکومتی قرضوں میں کمی اور بجٹ خسارہ 5 فیصد سے کم کیا جائے گا۔ انھوں نے ایک بار پھر وعدہ کیا کہ نئے صوبے کا قیام آئین کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔ منشور میں بلوچستان اور فاٹا کے لیے اعلیٰ اور فنی تعلیم کے لیے 10 ہزار اسکالر شپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے‘ منشور کے تحت تمام شہریوں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنایا جائے گا اور پیپلز ایمپلائمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ منشور کے تحت روز گار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جائیں گے جب کہ 2018 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 15 فیصد تک بڑھانے اور اضافی 12 ہزار میگاواٹ سستی بجلی کا بھی وعدہ کیا گیاہے۔

پیپلز پارٹی ملک کی دوسری سیاسی جماعت ہے جس نے باقاعدہ طور پر اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے‘ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن اپنا انتخابی منشور جاری کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس بار بھی اپنے روایتی نعرے روٹی‘ کپڑا اور مکان کو اپنے منشور میں برقرار رکھا ہے‘ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کسی سیاسی جماعت کا منشور جاری کرنا‘ لازمی آئینی ضرورت ہے‘ اس ضرورت کو مدنظر رکھ کر پہلے مسلم لیگ ن اور اب پیپلز پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے‘ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنا منشور جاری کریں گی۔

اب عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ دینا ہے کہ وہ کس سیاسی جماعت کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اگلے پانچ برس پاکستان پر حکومت کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی ہے‘ اس لیے اس کی ماضی کی کارکردگی ووٹرز کے سامنے ہے۔ اس بار پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں سے مل کر پورے پانچ برس تک حکومت کی ہے۔اس عرصے کے دوران  روٹی کپڑا اور مکان کے وعدے کا حال یہ رہا کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان جہاں پیپلز پارٹی صوبائی حکومت بھی چلا رہی تھی‘ وہاں سیلاب زدگان کی بحالی کا کام اس طریقے سے نہیں ہو سکا جیسے ہونا چاہیے تھا۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے اور اس کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اقتصادی میدان میں بھی  عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کی جڑیں ہلاکر رکھ دیں۔  ملک پر بیرونی اور اندرونی قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ ہوا‘ غیر ترقیاتی اخراجات بھی ماضی کی نسبت زیادہ ہو گئے۔ یوں دیکھا جائے توموجودہ حکومت کے پانچ برسوں میں کوئی بڑا اقتصادی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ اس بار بھی  پیپلز پارٹی کے منشور میں کوئی غیر معمولی ہدف یا پروگرام شامل نہیں ہے جس سے یہ توقع کی جا سکے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ گئی تو پاکستان کی معیشت میں کوئی بڑی جوہری تبدیلی آ جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے منشور میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کو بااختیار بنایا جائے گا‘ یہ بڑی مبہم سی بات ہے‘ پاکستان میں تمام پسماندہ طبقات کو بلاامتیاز قوم و قومیت اور مذہب ترقی کی دوڑ میں شریک کرنے کے لیے آئین میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں بہت سی  آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں جن کی بنا پر اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانا آسان ہوگیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کے پس منظر میں ایسے قوانین کی موجودگی ہے جن کی بنا پر انھیں ٹارگٹ بنانا خاصا آسان ہو گیا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ نے اٹھارھویں‘ انیسویں اور بیسویں ترامیم باآسانی پاس کر لیں لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت آئین میںترمیم کرنے کے لیے بے بس تھی‘ اسی طرح منشور میں 50 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات کی گئی ہے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ طاقتور اور بڑے زمینداروں اور قبائلی سرداروں کی آمدنی کا تعین کیسے ہو گا اور ان سے انکم ٹیکس کیسے وصول کیا جائے گا؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ کراچی‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ راولپنڈی‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ حیدر آباد‘ سکھر اور پشاور میں بسنے والے شہریوں کو مزید ٹیکس دینا پڑیں گے جب کہ فاٹا، بلوچستان ، دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کے سردار اور وڈیرے مراعات حاصل کرتے رہیں گے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی کوئی بات نہیں کی۔

ملک میں جاری دہرا نظام تعلیم تبدیل کرنے‘ نصاب تعلیم میں تبدیلیاں لانے اور مدارس کے سسٹم کو منضبط کرنے کے حوالے سے بھی منشور میں کچھ نہیں کہا گیا۔ منشور میں بلوچستان اور فاٹا کے لیے اعلیٰ تعلیم کے لیے 10 ہزار اسکالر شپ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے جب کہ یہاں موجود قبائلی نظام کے خاتمے کے معاملے پر منشور خاموش ہے‘ بلوچستان اور فاٹا کا اصل مسئلہ وہاں موجود قبائلی نظام کا خاتمہ ہے‘ آئین پاکستان میں اس حوالے سے راہ عمل بھی موجود ہے پیپلز پارٹی جیسی عوام دوست جماعت کو اپنے منشور میں قبائلی نظام ختم کرنے کا وعدہ ضرور کرنا چاہیے تھا‘ ادھر عجیب بات ہے کہ مسلم لیگ ن کا منشور بھی اس معاملے میں خاموش ہے‘ یوں دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جو منشور جاری کیے ہیں وہ اسٹیٹس کو جاری رکھنے والے ہی ہیں‘ ان سے کسی جوہری تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔  بہر حال یہ امر اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے منشور جاری کر کے خود کو عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔