پاکستان سمیت3 اسلامی ممالک میں پولیو وائرس موجود ہے

طفیل احمد  پير 18 مارچ 2013
پولیورضاکاروں کا قتل اسلام کے منافی ہے، عالمی اسلامی کانفرنس میں علما کا خطاب. فوٹو: فائل

پولیورضاکاروں کا قتل اسلام کے منافی ہے، عالمی اسلامی کانفرنس میں علما کا خطاب. فوٹو: فائل

کراچی: عالمی اسلامی کانفرنس میں شریک علما نے کہا ہے پولیووائرس پاکستان سمیت تینوں اسلامی ممالک میں موجود ہے جس سے مسلم امہ کے بچوں کو شدیدخطرات لاحق ہیں۔

پولیورضاکاروں کا قتل اسلام کے سخت منافی ہے کیونکہ رضاکاربچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کیلیے اپنے آپ کوخطرات میں ڈال کرمہم میں حصہ لیتے ہیں، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی جاسوسی میں استعمال کیے جانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی اور دیگر پولیو ورکروںکی وجہ سے پولیومہم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتاہم اس کارروائی سے عالمی ادارہ صحت اور یونیسف لاعلم تھے،مسلم ممالک کے عوام پر پولیو وائرس کے خلاف استعمال کی جانے والی حفاظتی ویکسین کا اعتماد بحال کرنے کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔

یہ ویکسین بچوں کیلیے انتہائی موثراور مفید ہے،یہ بات مصر میں منعقد ہونے والے عالمی اسلامی پولیوکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مذہبی علما نے اپنے خطاب میںکہی، کانفرنس میں پاکستان سے متعددعلمانے شرکت کی، اس کانفرنس میں بیگم شہنازوزیرعلی شرکت نہیں کرسکی، کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میںکہا گیا ہے مسلم امہ میں پولیو وائرس کی موجودگی سے بچوں کو شدیدخطرات لاحق ہیں۔

8

کانفرنس میں کہا گیا کہ اسلام کے نام پر پولیورضاکاروں کے قتل کوغیر شرعی قراردیاگیا ہے اور اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے پولیومہم کے حوالے سے غلط تاثرات پھیلائے جارہے ہیں جس کی مذمت کی گئی، پاکستان سمیت تینوں اسلامی ممالک میں موجود پولیو وائرس سے بچوںکو محفوظ رکھنے کیلیے ساری امت مسلمہ اور سیاسی قائدین پر اجتماعی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

اسلامی علماکانفرنس نے دنیا بھر سے پولیو وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو سراہا،اعلامیے میں اس بات کی مذمت کی گئی کہ محکمہ صحت کے اہلکاروں کوجاسوسی میں استعمال کرنا سراسرغلط ہے، عالمی کانفرنس میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ 2014 تک اسلامی ممالک کے تینوں ملکوں سے پولیو وائرس کا خاتمہ کردیاجائیگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔