فلم بین فضول اچھل کود کی بجائے معیاری تفریح چاہتے ہیں، عینی جعفری

قیصر افتخار  پير 1 جنوری 2018
 کثیر سرمائے سے تیار ہونے والی فلم کی ریکوری کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں انھیں ریلیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

 کثیر سرمائے سے تیار ہونے والی فلم کی ریکوری کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں انھیں ریلیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: اداکارہ وماڈل عینی جعفری نے کہا ہے کہ اس وقت باکس آفس کی ترجیحات بدل چکی ہیں، فلم بین فضول اچھل کود کے بجائے معیاری تفریح چاہتے ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عینی جعفری نے کہا کہ ’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘ ڈیبیوفلم تھی اس فلم کے باکس آفس پر کامیابی نے پاکستانی فلموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مذکورہ فلم نے کروڑوں کے بجٹ سے بننے والی بالی ووڈ فلموں کو بھی ٹف ٹائم دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت باکس آفس کی ترجیحات بدل چکی ہیں، فلم بین فضول اچھل کود کے بجائے معیاری تفریح چاہتے ہیں۔ فلم میکنگ میں زیادہ نئے لوگ ہی ہیں جوجدید ٹیکنالوجی کے ساتھ منفرد موضوعات کوترجیح دے رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عینی جعفری نے کہا کہ فلم انڈسٹری کومخصوص حصار سے نکالنا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ نئی سوچ نے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے آکسیجن کا کام کیا۔ جہاں تک میری بات ہے تومیں کوشش کرتی ہوں کہ جب کوئی پروجیکٹ سائن کروں تواس میں اپنے کردار پر خوب محنت کرتی رہوں۔

اداکارہ نے کہا کہ میں یہ بات بخوبی جانتی ہوں کہ وسائل کے ساتھ اسکرپٹ، میوزک اور کاسٹنگ سمیت ہر شعبہ کا مضبوط پیپر ورک ہونا ضروری ہے، ان میں سے کہیں بھی ذرا سی کوتاہی کا خمیازہ پوری ٹیم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ فلم میکنگ میں بہتری آتی جارہی ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے منفرد نظر آنے کے لیے محنت کر رہا ہے۔

عینی جعفری نے کہا کہ فلم بینوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی فلموں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینماؤں میں آئیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک بہتری کی بات کرنا فضول ہے۔ فلم بین سینما میں جائیں گے توان کی پسند اورناپسند کے بارے میں نوجوان فلم میکر جان سکیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔