2017ء میں کشمیریوں پر کیا گزری؟

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 5 جنوری 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ایک سال پھر گزر گیا ہے مگر مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی بے بسی و مظلومیت پھر وہیں کی وہیں ہے۔ گزشتہ سال مقبوضہ کشمیرمیں وہ غیر انسانی سانحہ پیش آیا تھا جب قابض فوج کے ایک میجر(گوگوئی)نے26سالہ مجبور اور غریب کشمیری (فاروق احمد ڈار)کو اپنی فوجی جیپ کے آگے رسیوں سے باندھ کرکشمیر کے 28دیہات میں پھرایا۔

بھارتی آرمی چیف نے اس ظالمانہ فعل کی انجام دہی پر میجر گوگوئی کو سزا دینے کے بجائے ایوارڈ سے نوازا۔ 2017ء کا آغاز ہُوا تو مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ، محبوبہ مفتی، نے اعلان کیاتھا :’’ہم یہ سال Year of Apple کے طور پر منائیں گے۔

کشمیری سیب کو بھارت اور دنیا بھر کی مارکیٹوں تک نئے اسلوب سے متعارف کروایا جائے گا تاکہ ہمارا کسان خوشحال ہو سکے۔‘‘اِس اعلان پر مگر عمل نہ ہوسکا کہ ساراسال ہی مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارتی افواج کے ظلم کی وجہ سے مسلسل بدامنی کاشکاررہے۔ کشمیری حریت پسند شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کرتے رہے۔ اپنی خوبصورتی اور ذائقے کے اعتبار سے کشمیری سیب بھارت بھر میں بڑی مانگ رکھتا ہے۔

کبھی یہ بھارت کی کُل پیداوار کا 71فیصد ہُوا کرتا تھا۔ بھارتی افواج کشمیریوں پر جو زیادتیاں کررہی ہیں، اس کے منفی اثرات کشمیری کسانوں اور باغات کے نگرانوں پر بھی مرتب ہُوئے ہیں؛ چنانچہ معاشی اور زرعی لحاظ سے بھی 2017ء کا سال کشمیریوں پر بہت بھاری گزرا ہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ کشمیر کی زراعت بھی تباہ کر دی جائے تاکہ کشمیریوں کو بھارت کا مکمل دستِ نگر بنا دیا جائے۔ سالِ گزشتہ میں بھی کشمیریوں کے خلاف بھارت کی یہ کارروائیاں جاری رہیں۔ کوئی عالمی قوت سب کچھ جانتے ہُوئے بھی کشمیریوں کے خلاف بروئے کار بھارتی دستِ ستم کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکی۔

گزشتہ سال یہ خبریں آتی رہیں کہ انڈین سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار بھی استعمال کررہی ہیں۔ یہ خبر سب سے پہلے جولائی 2017ء کے وسط میں آئی ۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے بھارت کے اس بہیمانہ اقدام کی مذمت کی اور دنیا کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے مشہور علاقے پلوامہ کے دو قصبوں(باہمنو اور کاکا پورہ) میں بھارتی فوجیوں نے حملہ کیا اور کئی گھروں کو یہ الزام لگا کر نذرِ آتش کردیا کہ یہاں ’’دہشتگردوں‘‘ نے پناہ لے رکھی تھی۔

ساتھ ہی پانچ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے جلادیا۔ آگ جب ٹھنڈی ہُوئی تو شہید نوجوانوں کی میتیں ناقابلِ شناخت تھیں۔ امریکا ،پاکستان  کی شکائت سُن کر بھارت کے خلاف کوئی اقدام کرنے کے بجائے بھارت ہی کی حمائت کررہا ہے؛ چنانچہ وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ نے بھی امریکا کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ جنرل جنجوعہ نے 18دسمبر2017ء کو اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک CGSS ( جس کے بانی جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام ہیں) کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہُوئے کہا :’’ہمیں دہشتگردی کا تحفہ دے کر امریکا آج کشمیر پر بھارتی زبان بولنے لگا ہے۔

بھارت اور امریکا، دونوں (مقبوضہ) کشمیر کے معاملے پر بھی ایک موقف رکھتے ہیں۔ ‘‘ نریندر مودی کی ضِد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ پالیسیوں کے عین مطابق سالِ گزشتہ کے دوران چونکہ پاک بھارت تعلقات مکمل تعطل کا شکاررہے، اس لیے کشمیری قیادت اور پاکستان کے درمیان کوئی ملاقات بھی نہ سکی۔ کوئی کشمیری لیڈر دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے کسی اعلیٰ اہلکار سے بھی نہ مل سکا۔ بھارت نے تو امن کے تمام راستے ہی مسدود کیے رکھے۔ پاکستان پر تہمتیں بھی لگاتا رہا۔

22دسمبر 2017ء کو بھارتی آرمی چیف ، بپن راوت، نے کشمیر کے حوالے سے الزام تراشی کرتے ہُوئے ایک بار پھر یوں دریدہ دہنی کی:’’ پاکستان سے امن مذاکرات اسی صورت میں ہوسکتے ہیں جب ہمارا یہ ہمسایہ جموں وکشمیر میں ’’دہشتگردوں‘‘ کی امداد بند کرے گا۔‘‘ اِس ماحول میں ملنا ملانا کس نے تھا؟ بھارتی استبداد کے تحت تمام کشمیری حریت پسند لیڈرشپ تو سارا سال کبھی جیلوں میں بند رہی اور کبھی کچھ عرصہ کے لیے باہر نکالی گئی۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر رقصاںمقبوضہ کشمیر کی حکومت نے سید علی گیلانی ایسے بزرگ کو بھی بار بار گرفتار کرنے اور گھر میں نظر بند کیے رکھنے سے بھی گریز نہ کیا۔ ضعیف مگر بہادر خاتون کشمیری رہنما محترمہ آسیہ اندرابی بھی بار بار جیل بھیجی جاتی رہیں۔یاسین ملک اور شبیر شاہ پر بھی تشدد کیا جاتا رہا۔

بھارت نے 2017ء کے دوران مقبوضہ کشمیر میں معصوموں اور نہتے کشمیریوں کا جس بیدردی سے خون بہایا ہے، وہ خود بھی’’فخر‘‘ سے اپنے اِن خونی جرائم کا اعتراف کررہا ہے۔ 19دسمبر2017ء کو نریندر مودی کے وزیر مملکت برائے داخلہ، راج گنگا رام آہیر، نے تحریری طور پر بھارتی قومی اسمبلی(لوک سبھا) کو بتایا :’’یکم جنوری 2017ء سے 10 دسمبر2017ء کے عرصے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کشمیر میں 203 ’’دہشتگردوں‘‘ کو ہلاک کیا۔کچھ سویلین کشمیری بھی ہلاک ہُوئے ہیں لیکن اس کی ذمے داری بھی انھی ’’دہشتگردوں‘‘ پرہے۔‘‘

اِس انداز میں تو اسرائیلی فورسز بھی مظلوم فلسطینیوں پرڈھائے جانے والے مظالم کا اعتراف نہیں کرتیں۔ گزرے سال کے دوران معروف کشمیری حریت پسند مجاہد نور محمد تانترے بھی بھارتیوں کے ہاتھوں جنوبی کشمیر میں شہید کر دیے گئے۔ اپریل2017ء کے دوران تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ڈھائے جانے والے ظلم وستم اتنے بڑھ گئے تھے کہ’’ نیویارک ٹائمز‘‘ ایسے امریکی اخبار(جس نے ہمیشہ بھارت کی سائیڈ لی ہے) کو A Cruel April in Kashmirکے زیر عنوان ایک مفصل رپورٹ شایع کرنا پڑی۔ رپورٹ نے مستند اعداد وشمار کی مدد سے دنیا کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیں کس طرح ظلم کا بازار گرم کیے ہُوئے ہیں۔

بھارتی فوجوں نے مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی شہریوں کی آواز بند کرنے کے لیے جس بے محابہ انداز میں پیلٹ بندوقوں کا استعمال کرکے لاتعداد بے گناہ کشمیری بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی آنکھوں کا نور چھینا ہے، اِس پر برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ نے واویلا مچایا تو بھارت کو سخت تکلیف پہنچی۔ ایک اندازے کے مطابق، اب تک 17ہزار کشمیری بھارتی پیلٹ بندوقوں سے گھائل اور بینائیاں ضایع کروا چکے ہیں۔ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی تازہ ترین رپورٹ نے بھی اِسی ضمن میں بھارتی دستِ ستم کو خاصا بے نقاب کیا ہے۔

گزرے سال کے دوران ،نئی دہلی میں مقیم بہادر کشمیری خاتون، عفّت فاطمہ، کی بنائی گئی وہ دستاویزی فلم(Khoon Diy Baaravیعنی ’’خون اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے‘‘) بھی ہم نے دکھے دل کے ساتھ دیکھی جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میںشہید اور غائب کردیے جانے والے نوجوانوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ فلم تقریباً 9سال کے طویل عرصے میں بنائی گئی ہے۔ کشمیریوں کے بیشمار دکھوں پر مبنی اس فلم کی ساری دنیا میں ستائش کی گئی ہے۔ کشمیری عفّت فاطمہ کی جرأتوں کو سلام ۔

نوٹ : 5جنوری1949ء کو اقوامِ متحدہ نے، UNCIPکے تحت، وہ تاریخی قرار داد منظور کی تھی جس نے کشمیریوں کو یہ حق دیا تھا کہ وہ ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب کی بنیاد پر اپنا حقِ خود ارادیت استعمال کر سکیں۔ 69سال گزر گئے ہیں مگر افسوس کشمیریوں کو یہ حق نہیں مل سکا ہے۔یہ منزل حاصل کرنے کے لیے نجانے کشمیریوں کو ابھی خون کے مزید کتنے دریا عبور کرنا پڑیں گے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔