گرین کیماڑی: عوامی تعاون سے مسائل حل کرنے کا مثالی منصوبہ

سلیمان عبداللہ  جمعرات 11 جنوری 2018
ہمیں حکومت کی امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت عمومی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

ہمیں حکومت کی امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت عمومی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

ایک فارسی کی کہاوت ہے کہ ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔ یعنی انسان جب ہمت کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اس وقت اگر کراچی کے مسائل پر نظر ڈالی جائے تو ایسا کونسا مسئلہ نہیں جو کراچی میں نہ ہو۔ نہ وفاقی حکومت کو پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر سے دلچسپی ہے اور نہ حکومت سندھ کو کوئی فکر۔ صحت کے بنیادی مسائل اور فراہمی و نکاسئ آب کی ابتر حالت، جن کے نتیجے میں ڈینگی اور چکن گونیا پہلے ہی اپنی جڑیں مضبوط کرچکے ہیں۔

حکومت پاکستان کو سب سے زیادہ آمدنی دینے والا علاقہ کیماڑی بھی کراچی کے ان بدنصیب علاقوں میں شامل ہے جہاں ماحول اور صحت کے بے شمار مسائل پائے جاتے ہیں۔ کیماڑی بنیادی طور پر متوسط طبقے کا علاقہ ہے مگر یہ اس علاقے کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں پاکستان کی قدرتی بندرگاہ موجود ہے۔ تاہم بدنصیبی یہ ہے کہ حکومتی بنیادوں پر عدم توجہ کے سبب یہ علاقہ بھی مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔

قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے ایک عشرے تک کیماڑی کی فٹ پاتھوں کو پانی سے دھو کرصاف ستھرا رکھا جاتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہاں دنیا بھر کے افراد کی آمد بھی تھی۔ مگر اب گزشتہ دو عشروں سے وہی فٹ پاتھ اور سڑکیں جن کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا، دھول مٹی سے لت پت ہوچکی ہیں۔

کیماڑی کے سب مصروف و مشہور علاقے تارا چند روڈ کے مکین گزشتہ کئی سال سے گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے دھول مٹی جذب کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ فٹ پاتھ کے اطراف باریک مٹی کے ڈھیر لگے چکے ہیں۔

ایسے میں کیماڑی میں نوجوانوں کی ایک تنظیم کا قیام عمل میں آیا جس نے ’’ہمتِ مرداں، مددِ خدا‘‘ والی کہاوت کے تحت کام شروع کردیا۔ ’’گرین کیماڑی‘‘ کے نام سے نوجوانوں کی اس تنظیم نے علاقے کی ایک سماجی شخصیت جمیل خان کی رہنمائی میں کام شروع کیا۔ اس کام کی ابتدا مختلف این جی اوز کی مدد سے پہلے مرحلے میں میڈیکل کیمپس کی صورت میں کی گئی۔ اس کے بعد کیماڑی میں شجر کاری کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اب ساری توجہ سڑکوں کی صفائی پر ہے تاکہ علاقے کا ہر مکین صاف ہوا میں سانس لے سکے۔

مقامی سطح پر ’’گرین کیماڑی‘‘ کراچی کی واحد غیرسرکاری تنظیم (این ای او) ہے جسے علاقے کے سینکڑوں دکاندار وں کے علاوہ کیماڑی کی رہائشیوں کا بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری سطح پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کا میرین پولیوشن کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ بھی ماحولیات اور صحت کے ضمن میں گرین کیماڑی کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں۔ غیرسرکاری تنظیموں اور افراد میں گرین کیماڑی کو ماہر ماحولیات اور ہم ٹی وی کے پروگرام ’’کچن گارڈن‘‘ کے میزیان توفیق پاشا موراج، ریحان فاؤنڈیشن کے ریحان اللہ والا، نگہت ویلفیئر ٹرسٹ، تاجر رہنما ایاز موتی والا اور پاکستان میں آنکھوں کی سب سے بڑی این جی او ’’لیٹن رحمت اللہ بینیوولنٹ ٹرسٹ (ایل آر بی ٹی) کا بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔

کراچی کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ یہاں کی بیشتر سڑکیں مٹی سے لت پت ہوچکی ہیں اور حکومتی سطح پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ تاہم گرین کیماڑی کے ’’کلین کیماڑی پروجیکٹ‘‘ کے تحت باریک مٹی صاف کی گئی۔ اس پروجیکٹ کے تحت دس دنوں میں تقریباً نصف کلومیٹر کے رہائشی علاقے اینڈریو روڈ سے 25 ٹن باریک مٹی کو ٹھکانے لگایا گیا۔ اس حوالے سے بانی گرین کیماڑی جمیل خان کو کیماڑی کے دیگر علاقوں کے افراد نے بھی اپنے علاقائی مسائل حل کرانے کی دعوت دی؛ تاہم جمیل خان کا کہنا ہے کہ کیماڑی کے اس مصروف ترین علاقے کے اہم مسئلے باریک مٹی کی صفائی کے بعد پروجیکٹ ٹو کے تحت دوسرے علاقوں میں بھی صحت و صفائی کے مسائل حل کئے جائیں گے۔

بانی گرین کیماڑی کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ علاقے کی عوام کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں حکومت کی امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت عمومی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس طرح ان مسائل کو زیادہ آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ ’’گرین کیماڑی‘‘ جیسی سماجی تنظیموں کی صرف کراچی کے دیگر علاقوں ہی میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں اشد ضرورت ہے کیونکہ صرف ہمارا گھر ہی ہمارا اپنا نہیں بلکہ یہ شہر اور یہ ملک بھی ہمارا گھر ہی ہے۔ البتہ یہ بات سمجھانے کےلیے عوام کو سماجی شعور دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے کام کے ذریعے ’’گرین کیماڑی‘‘ اس ملک کے ہر شہری کو یہی پیغام دے رہی ہے، اور ثابت کررہی ہے کہ عوامی تعاون اور شراکت سے متعدد مقامی مسائل بڑی خوش اسلوبی سے حل کیے جاسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سلیمان عبداللہ

سلیمان عبداللہ

بلاگر کو ماحول سے محبت ہے اور وہ ماحولیاتی تحفظ کےلیے ہر وقت کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے کہنہ مشق ماحولیاتی صحافیوں میں ہوتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔