کرزئی پہلے معافی مانگیں پاکستانی علما کا امن کانفرنس میں شرکت سے انکار

بی بی سی  جمعرات 21 مارچ 2013
افغان صدر اور دفتر خارجہ کا رویہ ناقابل قبول ہے، علامہ طاہر اشرفی کا مفاہمتی کونسل میں شرکت کی دعوت پر ردعمل فوٹو: فائل

افغان صدر اور دفتر خارجہ کا رویہ ناقابل قبول ہے، علامہ طاہر اشرفی کا مفاہمتی کونسل میں شرکت کی دعوت پر ردعمل فوٹو: فائل

اسلام آ باد: پاکستانی علما نے افغان امن کانفرنس میںشرکت کی دعوت کویہ کہہ کر مسترد کردیاہے کہ افغان صدراوردفترخارجہ نے پاکستانی عالم کیخلاف جوزبان استعمال کی پہلے اس پر معذرت کی جائے۔

چندروزقبل افغان ٹی وی چینل ’’طلوع‘‘ میںتنظیم متحدہ علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہرمحموداشرفی سے منسوب خبرآنے کے بعدافغان صدر کرزئی، نیٹوکے سیکریٹری جنرل اینڈرس فوک راسموسن اور افغان دفترخارجہ کے ترجمان نے اسکی سختی سے مذمت کی تھی،خبرکے مطابق مولانا اشرفی نے مبینہ طورپرکہاتھاکہ افغانستان میںخودکش حملے جائز ہیں، اگرچہ طاہراشرفی نے ان سے منسوب اس فتوے کوغلط قرار دیا۔

مگراس کے باوجود افغانستان میں ماحول میںحدت برقرار رہی یہاں تک کہ پاکستانی دفترخارجہ کوبھی اس قسم کے کسی بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا، اس بیان کے نتیجے میں دونوںملکوںکے علماء کی جومشترکہ کانفرنس افغانستان میں ہونا تھی وہ بھی پس منظرمیںچلی گئی تھی اورافغان صدرنے علماء کانفرنس میںشرکت کیلیے مولانا طاہر اشرفی کی پاکستانی وفد میں شمولیت پر پاکستانی حکومت کو بھی تنقیدکانشانہ بنایا تھا۔

تاہم بعض پاکستانی علماء کاکہناہے کہ منگل کوافغان حکومت کے بعض حکام اورافغانستان میںامن اورمفاہمتی عمل کیلیے سرگرم ہے ۔جب طاہراشرفی سے رابطہ کیاگیاتوانھوں نے بھی رابطوںکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان سے خودکش حملوںکوجائزقرار دینے کے غلط بیان پرمعافی نہیںمانگی جاتی وہ افغانستان میںامن عمل کوتقویت دینے کیلیے کسی کانفرنس میںشرکت نہیںکریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔