خبردار! تعلیم سے ذرا بچ کے

عدیل احمد  جمعـء 12 جنوری 2018
گزشتہ دنوں تعلیم کے فروغ کی خاطر تعلیمی اصلاحات کےلیے احتجاج کا اعلان کیا گیا۔
تصویر: انٹرنیٹ

گزشتہ دنوں تعلیم کے فروغ کی خاطر تعلیمی اصلاحات کےلیے احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ تصویر: انٹرنیٹ

عالمگیر خان کراچی کا ایک باشعور شہری اور سماجی کارکن ہے۔ پاکستان سے محبت اور غریب عوام سے ہمدردی کے جذبے سے سرشار یہ نوجوان کبھی عوام کی فلاح و بہبود اور انہیں انصاف دلانے کےلیے، کبھی کوڑے کا ڈھیر بنے ہوئے کراچی کا کوڑا صاف کرنے کےلیے تو کبھی کھلے گٹروں کی زد سے شہریوں کو بچانے کی خاطر میدانِ عمل میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی پاداش میں اسے نام نہاد اور مردہ ضمیر سندھ حکومت اپنی کٹھ پتلی اور کرپٹ پولیس کے ہاتھوں اکثر زیرِعتاب لاتی ہے۔ اس پر کئی مقدمات قائم کیے جاچکے اور کئی مرتبہ حوالات کی سیر بھی کرائی جا چکی ہے۔ لیکن یہ شخص بھی الگ ہی مزاج کا حامل ہے جو ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں۔

گزشتہ دنوں بھی اس کی جانب سے تعلیم کے فروغ کی خاطر تعلیمی اصلاحات کےلیے احتجاج کا اعلان کیا گیا جس کے بعد قوم کا درد رکھنے والے لوگ اس کا ساتھ دیتے ہوئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی سندھ کے بادشاہوں اور جاگیرداروں کو نیچ ذات عوام کی یہ جرأت پسند نہ آئی۔ چنانچہ ایک بار پھر سیاسی اور کرپٹ پولیس کے ہاتھوں اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے شہریوں پر حملہ کروایا گیا، واٹر کینن اور شیلنگ کے استعمال سے پرامن مظاہرین کو مشتعل کیا گیا اور بعد ازاں انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی کاٹ دی گئی۔ اب تو اس واقعے کو گزرے بھی عرصہ ہو چلا ہے اور عوام ہمیشہ کی طرح سب بھلا چکے، لیکن اب عدالتوں میں پیشیاں عالمگیر اور اس کے ساتھی بھگتیں گے اور اپنے ’’جرائم‘‘ کی سزا پائیں گے۔

ان کا جرم کتنا سنگین ہے، اس پر تو ہم بعد میں آ ئیں گے؛ پہلے ذرا بات سندھ کی اس نکمی اور نااہل حکومت کی کرلی جائے۔ سندھ حکومت کی یہ پھرتیاں نجانے کیوں عوام کے خلاف ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پورا صوبہ کچرے اور ملبے کا ڈھیر بن چکا، کرپشن کی داستانیں ہیں کہ زبان زد عام ہیں، کارکردگی دس سال کے دوران ہر میدان میں بالکل صفر، عوام کےلیے صرف زبانی دعوے اور دیومالائی قسم کے قصے اور حقیقت میں صورتحال یہ کہ پھرتی اگر کہیں دکھائی جاتی ہے تو اپنے مفاد اور عوام کے خلاف کاموں میں۔

عالمگیر خان نے تعلیم میں برابری کی بات کرکے ان کے مفاد پر ضرب لگا دی ہے۔ تعلیم حکمرانوں کے بچوں اور عام لوگوں کےلیے یکساں ہونی چاہیے۔ ویسے قصور تو عالمگیر خان اور اس کا ساتھ دینے والوں کا بھی ہے۔ بلکہ ان کا قصور نہیں سنگین جرائم ہیں۔ وقت کے ان فراعین کے خلاف آواز اٹھانا کوئی چھوٹا جرم ہے؟ اور پھر جرم سے سوا تو یہ کہ آواز بھی اس مردہ ضمیر قوم کےلیے جو خود ہی اپنے حق میں آواز اٹھانے پر تیار نہ ہو اور اگر کوئی ان کے حقوق کی خاطر سڑکوں پر دھکے کھانے بھی نکلے تو یہ اس کا ساتھ دینے پر بھی راضی نہ ہوں۔ ایسی بے حس قوم کےلیے آواز اٹھانا واقعی جرم ہے۔

جرائم کی فہرست تو خاصی طویل ہے۔ ایک جرم یہ بھی ہے کہ اس بار آواز ایسے موضوع پر اٹھائی جس پر حکمرانوں کے سینوں پر سانپ لوٹتے ہیں، آخر تعلیم کےلیے آواز اٹھائی ہی کیوں؟ یہ کوئی قابل معافی جرم تھوڑا ہی ہے جوتم لوگوں کو بخش دیا جاتا۔ تمھاری اتنی مجال کہ تعلیم کےلیے آواز اٹھاؤ؟ اپنے آقاؤں کے بچوں کو اپنے ساتھ کمتر سرکاری اسکولوں میں پڑھانے کا مطالبہ کرو؟ وہ مالک جو تمھیں جینے کا حق دیتے ہیں، دن رات محنت کرکے تم پر حکومت کرتے ہیں، تمہیں اپنی رعایا کا درجہ دیا، تم ان کے بچوں کی خود سے برابری کرتے ہو؟ کیا یہی آئین وفاداری ہے؟

تم پر تو پھر واٹر کینن کے بجائے توپیں چلوا دینی چاہئیں۔ آقاؤں سے وفاداری جو باقی قوم خاموش رہ کر نبھا رہی ہے اور ان سے اپنی محبت کا اظہار بار بار انہیں اپنے آقا منتخب کرکے کر رہی ہے، کیا تم ان کی طرح خاموشی سے وفاداری کی زندگی نہیں گزار سکتے؟ کیوں تم ان آقاؤں سے برابری کا مطالبہ کرتے ہو، جبکہ نہ دولت میں تم ان کے برابر ہو نہ حیثیت میں، تمھارا ان کا کوئی مقابلہ ہے؟ وہ اشرافیہ ہوکر تمھارے ساتھ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائیں گے؟ اور تعلیمی ادارے بھی وہ جنہیں بڑی مشکل سے دن رات شدید محنت کر کے برباد کیا گیا ہے کہ کہیں یہ علمی فیکٹریاں شعور نہ بانٹنے لگیں۔

تم سیمنٹ کی فیکٹریاں لگاؤ یا شوگر ملیں، ہم حکمرانوں کی طرف سے تمھیں مکمل آ زادی ہے۔ لیکن بس یہ علم عام نہ کرو، اسے ایک خاص محدود طبقے تک ہی محدود رہنے دو۔ شعور کے حقدار صرف اور صرف ہم یعنی تمھارے آقا ہیں۔ اگر تم عوام کو شعور آگیا تو تم دوسرے ہی دن اٹھا کر ہمیں باہر نہیں پھینک دو گے؟ ایک نیام میں دو تلواریں کیسے رہ سکیں گی؟ تمھارے نقصان میں ہمارا فائدہ ہے اور تمھارے مسائل میں ہمارے عیش ہیں۔ تمھارے مسئلے خدا نخواستہ کبھی حل ہوگئے تو کن وعدوں کے بھروسے ہمیں دوبارہ اقتدار ملے گا؟

تمہیں اگر تعلیم فراہم کردی گئی اور تم میں اپنے مسائل خود حل کرنے کی ہمت، شعور، حوصلہ اور عزم پیدا ہوگیا تو پھر ہماری تو داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں؛ لہٰذا ان فضول مطالبات سے باز آجاؤ۔ ہماری تو مکمل کوشش ہے کہ جو بچے کچھے تعلیمی ادارے ہیں انہیں بھی مکمل برباد کردیا جائے۔ ہم تمہیں سڑکیں دیں گے، تمھارے لیے پل بنائیں گے، میٹرو بھی بنائیں گے، بس تعلیمی ادارے بنانے کی بات نہ کرنا۔ آخر ہماری بھی تو کچھ مجبوریاں ہیں!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

عدیل احمد

عدیل احمد

مصنف جامعہ کراچی میں شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم ہیں جبکہ بین الاقوامی تعلقات میں بی اے کرچکے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے میں خصوصی دلچسپی ہے رکھتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔