سخی بادشاہ اور کشکول

سید شرجیل احمد قریشی  جمعرات 11 جنوری 2018
اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے معاشی ترقی کی رفتار ضرور تیز ثابت کی جاتی ہے لیکن درحقیقت حکومت قرضے پر قرضہ لیے جارہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے معاشی ترقی کی رفتار ضرور تیز ثابت کی جاتی ہے لیکن درحقیقت حکومت قرضے پر قرضہ لیے جارہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

ایک ملک کا بادشاہ اپنی سخاوت میں بہت مشہور تھا اور دور دور تک اس بات کے چرچے تھے کہ جب کوئی سائل اس کے پاس جاتا ہے تو وہ کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں بھیجتا اور وہ اس سائل کی ہر مراد اور ضرورت پوری کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی جس کی بدولت اس کے محل میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا جو اپنی ضرورت پوری کرنے کےلیے اس کے محل میں جایا کرتے تھے۔

اس کی سخاوت کی داستان سننے کے بعد ایک درویش نے اپنا کشکول لیا اور اس کے محل میں پہنچ گیا۔ اس نے بادشاہ سے پوچھا ’’میں نے سنا ہے کہ آپ ہر سائل کی مدد لازمی کرتے ہیں۔‘‘ بادشاہ نے کہا تم نے درست سنا ہے، مانگو کیا مانگتے ہو! اس درویش نے اپنا کشکول بادشاہ کے سامنے کر دیا اور کہا آپ نے جو قیمتی جواہرات پہنے ہوئے ہیں، وہ اس کشکول میں ڈال دیجیے۔ بادشاہ نے تمام جواہرات اس کشکول میں ڈال دیئے اور کہا مانگو اور کیا مانگتے ہو؟ سائل نے کہا کہ آپ کے محل میں جو قیمتی جواہرات اور دینار ہیں وہ بھی اس کشکول میں ڈال دیجیے، مگر کشکول پھر بھی نہ بھرا۔ اس فقیر نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا پورا خزانہ اس کشکول میں ڈال دیجیے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ تمام خزانہ اس فریادی کے کشکول میں ڈال دیا جائے مگر اس کے باوجود بھی فریادی کا کشکول نہ بھرا۔

بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا ’’آخر یہ کشکول کس کا ہے جو بھرتا ہی نہیں؟‘‘ فریادی نے جواب دیا کہ یہ کوئی عام کشکول نہیں، یہ کشکول ’’حکومت پاکستان‘‘ کا ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جتنا بھی ڈالا جائے، وہ کم ہے۔

پاکستان نے اپنے ہر جمہوری دور میں کبھی عالمی بینک سے، کبھی ایشین ڈیویلپمنٹ بینک سے اور کبھی امریکا سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں خطیر رقم حاصل کی۔ پاکستان نے جب بھی کسی مالیاتی ادارے سے شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم قرضے لیے، ان کے بدلے میں ان مالیاتی اداروں کی عائد کردہ پابندیاں اور شرائط کو ماننا بھی لازم قرار دیا گیا۔ ان شرائط کا اثر براہ راست غریب عوام کی جیب پر پڑتا ہے جو انہیں کبھی جی ایس ٹی کی مد میں یا کبھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ادا کرنا پڑتا ہے۔

ہر سال بجٹ تقریر کے بعد اس ملک میں عوام کو سال میں ایک یا دو منی بجٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور حکومت ان منی بجٹ میں بے بس نظر آتی ہے۔ پاکستانی عوام کو ہر بار بے وقوف بنایا جاتا ہے اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر معیشت کو ایسا دکھایا جاتا ہے کہ جیسے اس پورے خطے میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کی معیشت سب سے آگے ہے۔ حکومت دن بدن قرضوں کے بوجھ تلے غریب عوام کو دبا رہی ہے اور دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اس بات کا رونا رو رہی ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کی مد میں جو حصہ صوبوں کو ملنا چاہیے، وہ نہیں دیا جارہا اور وفاق تمام وسائل صرف ایک صوبے اور ایک شہر پر صرف کر رہا ہے۔

ویب سائٹس debtclock.pk کے مطابق، اس وقت پاکستان پر مجموعی قرضہ 25,500 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے جس میں ہر سیکنڈ کے ساتھ مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یعنی ہر پاکستانی اس وقت 122,731 روپے کا مقروض ہے جبکہ اس قرض پر سود کی مد میں واجب الادا رقم 1,990 ارب روپے پر پہنچ چکی ہے جو وطنِ عزیز کے سالانہ ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

ایک عام پاکستانی ہونے کے ناتے حکومت سے اس بات کی اپیل کرتا ہوں کہ پاکستانی معیشت کو اس کے قدموں پر کھڑا کیا جائے۔ اس کشکول کو صحیح معنوں میں توڑ دیا جائے اور ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھی جائے کہ آنے والی ہر حکومت اس معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے اور قرض مانگنے کے بجائے قرض دینے والا ملک اور معیشت بن جائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔