سپریم کورٹ کے حکم پر محکمہ صحت نے اسپتالوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا

طفیل احمد  جمعرات 11 جنوری 2018
کراچی میں اربوں روپے مختص کیے جانے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ فوٹو : فائل

کراچی میں اربوں روپے مختص کیے جانے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ فوٹو : فائل

کراچی: سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال پر ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد محکمہ صحت کو ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے جب کہ سیکریٹری صحت سمیت متعلقہ تمام افسران کی دوڑیں لگ گئیں اورتمام اسپتالوں کے سربراہوں کی جانب سے ریکارڈ جمع کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

سندھ سیکریٹریٹ میں اجلاس صوبائی سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوکی سربراہی میں منعقد کیا گیا جس میں کراچی کے 32 سرکاری اسپتالوںکے سربراہان اور انتظامی افسران شریک ہوئے،اس موقع پر سیکریٹری صحت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں موجود ایمبولینسسز، بستروں،جان بچانے والی ادویات، لیبارٹریز، ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل عملے کی تعدادکے ساتھ ان کو دیے جانے والے فنڈزکی تفصیل مرتب کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری کی جانب سے13جنوری کو تفصیلی ریکارڈ کے ساتھ سرکاری اسپتالوںکے سربراہوںکو طلب کررکھا ہے،اجلاس میں تمام سرکاری اسپتالوں، اربن ہیلتھ سینٹرز، صحت کے بنیادی مراکز کے سربراہوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری صحت نے تمام اسپتالوںکے انتظامی سربراہوں سے کہا ہے کہ اپنے اپنے اسپتالوں میں صحت کی سہولتوںکی فراہمی، جان بچانے والی ادویات،ادویات،بستروں کی تعداد،ہیومن ریسوس اور حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈزکی تفصیل کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ ڈاکٹر اخلاق احمد،کراچی کے ڈائریکٹر صحت ڈاکٹر طاہرعزیز،جناح اسپتال کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی،سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایم توفیق،سندھ گورنمنٹ اسپتال قطر اسپتال،لیاقت آباد اسپتال، نیوکراچی اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرا ٓصف زمان،کورنگی اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مظہر خمیسانی، گورنمنٹ سعود آباد اسپتال،عباسی شہید اسپتال کے ایم ایس سمیت اربن ہیلتھ سینٹرز اورکراچی کے6اضلاع کے ضلعی ہیلتھ افسران نے بھی شرکت کی۔

سیکریٹری صحت کی جانب سے تمام اسپتالوںکے انتظامی سربراہوں کوگائیڈ لائن فراہم کی گئی جس میںکہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 13جنوری کو اسپتالوںکی صورتحال اور دستیاب سہولتوںکے حوالے سے ریکارڈ طلب کیا،تمام اسپتالوںکے انتظامی سربراہان درست اور تفصیلی ریکارڈ مرتب کرکے ایک ایک کاپی محکمہ صحت کو بھی جمع کرائیں۔

واضح رہے کہ کراچی سمیت صوبے کی پونے 5کروڑ آبادی پر13ہزار سے زائد بستر مختص ہیں،ان سرکاری اسپتالوں کیلیے حکومت ہر سال 25فیصد بجٹ میں اضافہ کرتی ہے،سرکاری اسپتالوں میں بستروںکی تعداد میں اضافہ نہیںکرتی جبکہ ہر سال مختلف سرکاری اسپتالوں میں نئے یونٹس کے قیام کیلیے ایس این ای بھی منظورکرتی ہے اس کے باوجود اربوں روپے مختص کیے جانے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولتوںکا شدید فقدان ہے، بیشتر اسپتالوںکی قیمتی مشینیں خراب جبکہ بائیوانجینئرنگ،دل کے معائنے کیلیے مانیٹرز سمیت دیگرآلات بھی ناکارہ پڑے ہیں۔

ہر سال اسپتالوںکے انتظامی سربراہوںکو مشینوںکی مرمت کیلیے بھی اضافی بجٹ مختص کیاجاتا ہے،اس کے باوجود صحت کا شعبہ انتہائی پستی کا شکار ہے،بیشتر اسپتالوں میں ایکسرے یونٹس خراب یا غیر فعال، پروسیجر ایکسرے کی سہولتیں بھی ناپید ہیں،مریضوں سے لیبارٹری ٹیسٹ باہر سے کرائے جاتے ہیں،سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولتوںکے فقدان عروج پر ہے ان میں لیاری اسپتال جس کو ٹیچنگ اسپتال کا درجہ حاصل ہے۔

لیاری اسپتال میں صحت کی سہولتوں کی عدم فراہمی پر لیاری کے عوام بھی سراپا احتجاج ہیں،لیاری سمیت دیگر اسپتالوں میں صحت کی سہولتیں بتدریج کم کرنے اوران سرکاری اسپتالوںکو خاموشی سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دیے جانے سے محکمہ صحت کا کنٹرول ان اسپتالوں سے عملاختم ہورہا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولتیں کم کردی گئیں ہیں،بیشتر اسپتالوں کے ایمرجنسی یونٹوں کو بھی این جی اوزکے حوالے کیاجارہا ہے،سرکاری اسپتالوںکو سیاسی بنیادوںپرپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دیا جارہا ہے۔

کراچی کے ضلع ملیر کے40سے زائد صحت کے مراکز ہینڈز نامی این جی اوکے ماتحت کردیے گئے،سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کو بھی کے پی کے کی این جی او کو دے دیا گیا، کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی صورتحال ابتر ہونے پرعوام کی اکثریت مجبورا نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوگئی،سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال میںکارڈیک یونٹ بھی عملا غیر فعال ہے، کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی موجودہ ناقص صورتحال پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے جس پر محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔