پولیس اسٹیٹ

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 13 جنوری 2018
tauceeph@gmail.com

[email protected]

رضا خان کا تعلق لاہور سے ہے، وہ سماجی کارکن ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے عوام کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے تھے۔گزشتہ ماہ اپنی قیام گاہ سے لاپتہ ہوگئے۔کہا گیا کہ نامعلوم افراد رضا کو اپنے ساتھ لے گئے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں گزشتہ ایک ماہ سے رضا خان کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہی ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے تین طالب علموں ممتاز ساجدی، ان کے بھائی کامران صدیقی اور شعیب داد بلوچ کو کراچی یونیورسٹی کے قریب مدھوگوٹھ میں ان کی قیام گاہ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انسانی حقوق کمیشن سندھ کے نائب صدر اسد اقبال بٹ کی قیادت میں اساتذہ، طلبا، وکلا، خواتین اور صحافیوں نے کراچی پریس کلب کے ساتھ احتجاجی کیمپ لگایا۔ آرٹس کونسل سے پریس کلب تک احتجاجی مارچ بھی کیا گیا۔ اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پر خبریں چلیں۔

غیر ملکی ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر ان طلبا کے لواحقین کے انٹرویو نشر ہونے پر ممتاز ساجدی، کامران صدیقی اور شعیب داد بلوچ اچانک اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ کراچی یونیورسٹی کا ایک اور طالب علم صغیر بلوچ اسی طرح کے پراسرار حالات میں لاپتہ ہوا، وہ اب تک لاپتہ ہے۔

ہٹلر نے جب جرمنی میں اقتدار سنبھالا تو وہاں پارلیمنٹ موجود تھی اور ملک میں آئین نافذ تھا۔ عدالتوں سے انصاف بھی مل رہا تھا۔ ہٹلر کی نازی پارٹی نے اپنے اقتدارکو مضبوط کرنے کے لیے خفیہ ایجنسی گسٹاپو قائم کی۔ گسٹاپو نے ہٹلر کے مخالفین کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس کے اہلکار راتوں کو گھروں کے دروازے بجاتے اور ہٹلر کے نسلی امتیاز کے فلسفے کی مخالفت کرنے والے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں، وکلا اور خواتین کو اٹھا کر لے جاتے۔

ان لوگوں کو خفیہ کنسنٹریشن کیمپوں میں رکھا جاتا، جہاں انھیں تھرڈ گریڈ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا۔ نازی پارٹی کے تربیت یافتہ اہلکار ان پر تشدد کرکے اور مختلف ترغیبات کے ذریعے ان کے خیالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے۔ جو افراد اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرلیتے انھیں خاموشی سے ان کے گھروں پر بھیج دیا جاتا اور جو تبدیل نہیں ہوتے وہ کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیے جاتے جہاں کم خوراک اور صحت کی ناکافی سہولتیں انھیں میسر ہوتیں۔ ان لوگوں سے جبری مشقت لی جاتی اور بدترین تشدد سے گزارا جاتا۔

ان اذیت خانوں (کنسنٹریشن کیمپوں) میں ہزاروں افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، ہلاک ہوگئے۔ ہٹلر کی حکومت کے خاتمے کے بعد کچھ افراد ان کیمپوں سے رہا ہوئے۔ ہٹلرکی خفیہ پولیس کا براہ راست نشانہ کمیونسٹ اور یہودی تھے۔ نازی پارٹی کمیونسٹوں کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔ اس زمانے میں یہ لطیفہ مشہور ہوا ،کمیونسٹ یا اینٹی کمیونسٹ دونوں صورتوں میں خفیہ پولیس کا آہنی شکنجہ ان کو جکڑ لیتا تھا۔

ہٹلر کو یہودیوں سے نفرت تھی۔ اس بنا پر یہودی ہٹلر کے مظالم کا براہِ راست نشانہ بنتے تھے۔ ہٹلر نے جب اپنے مخالفین کو لاپتہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تو پھر اس نے پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کرنا اور اخبارات پر پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ نازی پارٹی نے جرمنی کے عدالتی نظام کو مفلوج کردیا۔ اسی طرح جرمنی میں ایک جماعتی نظام قائم ہوا۔ ہٹلر ایک بدترین ڈکٹیٹر کے روپ میں سامنے آیا۔ ہٹلر نے جب پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تو اس نے دنیا کو اپنی نوآبادیات میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا۔

ہٹلر کی فوجیں اپنے پڑوسی ممالک بیلجیم، ہنگری اور فرانس وغیرہ میں داخل ہوئیں اور ہٹلر نے سوویت یونین پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا دوسری عالمی جنگ شروع ہوگئی۔ سوویت یونین، برطانیہ اور امریکا اتحاد میں شامل ہوئے۔ جرمنی کا صرف جاپان نے ساتھ دیا مگر دوسری جنگ عظیم نے کروڑ کے قریب انسانوں کی زندگیوں کو ختم کردیا۔ امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ ان ایٹم بموں نے لاکھوں افراد کی زندگیاں چاٹ لیں۔

60 کی دہائی میں کیوبا میں فیڈل کاسترو کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار حاصل کیا۔ کاستروکے ساتھی عظیم انقلابی چی گویرا کی تحریک لاطینی امریکا کے ممالک میں پھیل گئی۔ وینزویلا، چلی اور ایلسواڈور میں کمیونسٹ تحریک فعال ہوگئی۔ اساتذہ، طلبا، ٹریڈ یونین اور وکلا تنظیموں نے اپنی اپنی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں تاحیات جدوجہد کی۔ چی گویرا کی جدوجہد کے دوران ان نوجوانوںکی تحریکوں کو بہت مضبوط کردیا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ان ممالک کی فوجی حکومتوں کی ایما پر ایک خفیہ آپریشن شروع کیا۔

سی آئی اے کے اہلکاروں نے کمیونسٹوں اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں، وکلا، صحافیوں اور خواتین کو ان کے گھروں سے اغوا کرنا شروع کیا۔ ان ممالک میں پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے ہزاروں کارکنوں کو لاپتہ کیا۔ ان میں سے بہت سے افراد کو برسوں نظربندی کے خفیہ کیمپوں میں رکھا گیا۔ بہت سے افراد کو رات کی تاریکی میں قتل کر کے ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ ان ممالک میں بہت سی اجتماعی قبریں برآمد ہوئیں۔

انڈونیشیا میں 1965 میں جب جنرل سوہارتو نے ڈاکٹر سوئیکارنو کی حکومت کا تختہ الٹا تو فوج نے سوئیکارنو کے حامی کمیونسٹوں اور جمہوریت کے حامیوں کو براہ راست نشانہ بنایا۔ سوہارتو کی خفیہ پولیس نے ہزاروں افراد کو جن میں ادیب، شاعر، دانشور، خواتین اور سیاسی کارکن شامل تھے، قتل کیا۔ ان افراد کی لاشوں کو چھپا دیا گیا۔ پھر لاپتہ افراد کا سلسلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن گیا۔ ایسے ممالک کو پولیس اسٹیٹ کہا گیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے لاپتہ افراد کے معاملے کا عرق ریزی سے جائزہ لیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بین الاقوامی کنونشن میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو شامل کرنے اور اس کو جرم قرار دینے کے لیے کوشش کیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں شہریوں کو لاپتہ کرنے کو بین الاقوامی کنونشن میں سخت جرم قرار دیا گیا۔

پاکستان میں اس صدی کے آغاز سے سیاسی کارکنوں، اساتذہ، طالب علموں، خواتین اور سماجی کارکنوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ معاملہ بلوچستان سے شروع ہوا اور پھر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے کارکن لاپتہ ہونے لگے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے علاوہ قوم پرست بلوچوں اور سندھیوں کے  لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان لاپتہ ہونے والوں میں مذہبی انتہاپسند، قوم پرست اور خطے میں امن اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف افراد بھی شامل ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ملک میں 1973 کا آئین نافذ ہے۔

اس آئین کے تحت انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ آزاد اداروں کے طور پر کام کررہی ہے۔ اس صدی میں تین بار عام انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور اب جولائی 2018 میں نئے انتخابات کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ اب عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ سپریم کورٹ کے پاناما لیکس کیس کے فیصلے کی بنا پر منتخب وزیراعظم اقتدار سے محروم ہوئے اور انھیں اپنی ہی جماعت کی حکومت کے دور میں بدعنوانی سے متعلق مقدمات کا سامنا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک سخت فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے کی بنا پر کئی افراد بازیاب ہوئے۔ معزز عدالت کے حکم پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن قائم ہوا جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس جاوید اقبال، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس غوث محمد اور سندھ کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس شامل تھے۔ اس کمیشن نے چند افراد کو رہائی دلوائی مگر مجموعی طور پر صورتحال بہتر نہ ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سول اور ملٹری تعلقات سے منسلک کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پارلیمنٹ کو اس مسئلے پر جامع قانون سازی کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ان کارکنوں کو اغوا کرنے والوں کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ ہر شخص کو انصاف مل سکے، دوسری صورت میں ملک پولیس اسٹیٹ بننے جارہا ہے۔ تاریخ شاید ہے کہ پولیس اسٹیٹ کا مستقبل مخدوش ہوتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔