تتلیاں بھیڑیوں کے پنجوں میں اور پھولوں کو ڈَس رہے ہیں سانپ

سید بابر علی  ہفتہ 13 جنوری 2018
صرف ساڑھے 7 سال میں ساڑھے 22 ہزار بچے زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنے۔ فوٹو:فائل

صرف ساڑھے 7 سال میں ساڑھے 22 ہزار بچے زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنے۔ فوٹو:فائل

ایک دہائی قبل تک پاکستانی معاشرے میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی شرح بہت کم تھی، لیکن اس میں ہر گزرتے سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

بچوں کے ساتھ زیادتی میں پڑوسی، مولوی، استاد، دکان دار، ڈرائیور اور ڈاکٹر حضرات سے لے کر ان کے اپنے سگے رشتے دار تک شامل ہیں۔گذشتہ ساڑھے سات سال کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ اس عرصے میں ساڑھے 22 ہزار بچے زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنے۔ یہ حقیقت نہایت افسوس ناک ہے کہ جان پہچان والے افراد اور خونی رشتے ہی سب سے زیادہ بچوں کے لیے وحشی درندے ثابت ہوئے ہیں۔

بچوں کے لیے سب سے غیرمحفوظ جگہ ان کا اپنا گھر ہی رہی، جب کہ دوسرے نمبر پر رشتے داروں کے گھروں میں ان فرشتوں کو روندا گیا۔ بچوں کے لیے غیرمحفوظ مقامات میں مدرسے تیسرے نمبر پر رہے۔ اگر ہم 2010 سے 2017 تک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر نیا سال بچوں پر قہر بن کر ٹوٹا۔ بچوں کے لیے ہر وہ جگہ غیرمحفوظ ہے جہاں وہ تنہا ہوں۔

گھروں میں ہونے والے واقعات میں زیادہ تر ’’ماموں‘‘ ’’خالو‘‘، ’’پھوپھا‘‘، ’’چچا‘‘،’’قاری صاحب‘‘،’’اسکول وین کے ڈرائیور‘‘ اور قریبی عزیز ملوث ہوتے ہیں۔ بچوں کو جیلوں، چھوٹے ہوٹلوں، بس اڈوں، فٹ پاتھوں، کھیتوں، میکینک کی دکانوں اور کام کی جگہ پر بھی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے، کیوں کہ زیادہ تر کیسز میں والدین بدنامی کے خوف سے رپورٹ درج نہیں کراتے۔

بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے حوالے سے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ’’انیشییٹر ہیومن ڈیولپمنٹ ‘‘ کے صدر رانا آصف حبیب کا کہنا ہے ’’زیادہ تر  6سے  14سال کی عمر کے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جن میں سے زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 28سے 30 ہزار دکانیں ایسی ہیں جہاں زیادتی کا نشانہ بننے والوں کی موبائل ویڈیوز کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ لاہور، پشاور اور کراچی کے کچھ کاروباری مراکز اس گھناؤنے کاروبار کا گڑھ ہیں۔‘‘

اُن کا کہنا ہے ’’سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ’’پاکستان پینل کوڈ‘‘ میں ’’چائلڈ پورنو گرافی‘‘ کے لیے کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے اور نہ ہی متاثرہ بچہ خود سے رپورٹ درج کرواسکتا ہے، کیوں کہ کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جو اپنی بچیوں کو خود غلط کام پر مجبور کرتی ہیں، لیکن قانون نہ ہونے کی وجہ سے یہ بچیاں رپورٹ درج نہیں کرواسکتیں۔ کراچی میں ناظم آباد نمبر دو، جہانگیر پارک، عیسیٰ نگری، کیماڑی پر واقع غائب شاہ کا مزار، عالم شاہ کا مزار، عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی پارکنگ، ابراہیم حیدری، گودھرا کیمپ، سرجانی ٹاؤن، مچھر کالونی، سرجانی ٹاؤن، گڈاپ ٹاؤن میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

رانا آصف حبیب کا کہنا ہے ’’کراچی کی سڑکوں پر نہ صرف بچوں کے ساتھ زیادتی بل کہ اُن کی باقاعدہ خریدوفروخت بھی کی جاتی ہے۔ صدر کے علاقے میں کچھ گروپ اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہے، جب کہ ’’خیابان بدر‘‘،’’توحید کمرشیل‘‘،’’لی مارکیٹ‘‘، ’’گلستان جوہر‘‘میں یہ کام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آپ میری اس بات کی تصدیق ان اداروں سے بھی کر سکتے ہیں جو یہاں ’’ایڈز کنٹرول ‘‘ پروگرام چلارہے ہیں۔

رانا آصف کا کہنا ہے ’’ کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سے نو عمر لڑکوں کو ’’میل پروسٹی ٹیوشن‘‘ کے لیے ایران اور صدر کے علاقے سے کوئٹہ اور دالبندین بھیجا جاتا ہے۔ وہاں معمولی تنخواہ کے عوض اِن بچوں کا بری طرح جنسی استحصال کیا جارہا ہے۔‘‘ بچوں کے حقوق کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی وزارت ہی موجود نہیں ہے۔ زیادتی میں ملوث افراد کو سزا دینے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ قانوں میں موجود خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے ’’پاکستان پینل کوڈ ‘‘ میں ترمیم اشد ضروری ہے۔

زیادتی کے واقعات میں رپورٹ درج ہونے کا انحصار ایم ایل او(میڈیکولیگل آفیسر) کی رپورٹ پر ہوتا ہے۔ دو کروڑ آبادی والے اس شہر میں صرف 84مرد ایم ایل اوز اور4خاتون ایم ایل اوز ہیں۔ خاتون ایم ایل اوز بھی ’’آن کال‘‘ ہیں۔ زیادہ تر شواہد ایم ایل اوز کے انتظار میں ہی ضایع ہوجاتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ملزمان قانونی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بری ہوگئے اور آزاد گھوم رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم رشوت کا عنصر بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔

’’زیادتی‘‘ کی رپورٹ تبدیل کرنے کے ریٹ دو لاکھ روپے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بااثر ملزمان بچ نکلنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں۔ رانا آصف کا کہنا ہے ’’بروقت طبی معائنہ اور غیرجانب داری سے کی گئی تفتیش نہ صرف ملزمان کو سزا دلوا سکتی ہے بل کہ دوسرے بھی عبرت حاصل کرتے ہوئے کسی ایسے اقدام سے باز رہ سکتے ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی میں کمی اُسی صورت ہوسکتی ہے جب جرم کے مرتکب افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے۔‘‘

کیا یہ سَر پہلی بار شرم سے جُھکا ہے؟

اصل خرابی بنیادی سماجی رویّوں کے اندر پلتی بڑھتی ہے، یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر سال سیکڑوں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بہت سے واقعات تو چھپالیے جاتے ہیں۔ صرف رپورٹ میں آجانے والے اعدادوشمار کو سامنے رکھیں تو وہ بڑے لرزہ خیز ہیں، 2010ء سے 2017ء کی پہلی شش ماہی تک، ساڑھے سات سال کے دوران اوسطاً روزانہ آٹھ بچوں (گراف دیکھیے) کو زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایسے واقعات مسلسل منظرعام پر آتے رہے اور میڈیا سمیت دوسرے ذرایع لوگوں، خصوصاً والدین کو، احتیاطی تدابیر بھی بتاتے رہے، لیکن اس کا اثر ہوتا نظر نہیں آتا۔ ہمارے اندر اس رویّے کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں کہ کسی ایک واقعے پر خوب شور مچاتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، پھر خواب غفلت میں غرق ہو جاتے ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ زینب والے واقعے پر سر شرم سے جھک گیا۔ درست، انتہائی شرم ناک واقعہ ہے، لیکن کیا یہ سر پہلی بار شرم سے جھکا ہے، اگر اوسطاً ہر ماہ اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو ہر ماہ دو سو چالیس بار (گراف دیکھیں) ہمارے سر شرم سے جھک جانے چاہئیں۔

لیکن ہم پچھلا حساب کتاب سب بھول جاتے ہیں، جو سکھایا جاتا ہے، بھول جاتے ہیں۔ بنیادی بات تو یہ ہے کہ بچوں کو اعتماد میں لیا جائے، انہیں بھی احتیاطی تدابیر سکھائی جائیں۔ بتایا جائے کہ معاشرے میں کس قسم کے بدقماش لوگوں سے آپ کو کس قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کون بتائے گا کہ چاروناچار والدین کو سنگین ترین نقصانات سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہوگا۔ یہ فرض کتنے لوگ ادا کرتے ہیں؟ ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس قسم کے سماجی رویّوں کی بہت ہی خوف ناک مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

مثال کے طور پر، موٹر سائیکل پر بیٹھی عورت نے ایک ہاتھ سے چھوٹے بچے کو سنبھالا ہوا ہے اور موٹر سائیکل ہوا میں اُڑی جا رہی ہے، موٹر سائیکل چلانے والے کی ’’نامردانہ‘‘ بہادری کا نقاب کھول رہی ہے۔ ہر قسم کے بے ہودہ اخراجات کی جیب اجازت دیتی ہے۔ کون سمجھائے، بدمعاشو! ننھے بچوں کے لیے Baby bag Carrier خرید لو، تاکہ پیچھے بیٹھنے والی عورت بچے کو اس کے اندر لٹکا کر سُکون سے بیٹھ سکے، اور بچے کی جان بھی محفوظ رہے۔

ہمارے اندر اس قسم کے شرم ناک رویّے قدم قدم پر اپنی مکروہ اور غلیظ صورت دکھاتے ہیں۔ آخر ہمارے سر اُس وقت شرم سے کیوں نہیں جھکتے، جب موٹر سائیکل پر برق رفتاری کے کرشمے دکھائے جاتے ہیں اور پیچھے بیٹھی بیوی، ماں یا بہن کی ٹانگ ہوا میں جھول رہی ہے، سُن ہو رہی ہے، سہمی ہوئی عورت اپنا توازن قائم رکھنے کے لیے ایک عذاب مسلسل سے گزر رہی ہے۔ کیوں؟ کیا اس لیے کہ موٹر سائیکل کے برق رفتار شہ سوار کے پاس ڈیڑھ، دو سو روپے میں دست یاب چوڑا Foot Rest خریدنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے، جس پر عورت اپنے قدم جما کر سُکون سے بیٹھ سکے؟

اور سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ عورت سیٹ پر مردوں کے انداز میں کیوں نہیں بیٹھ سکتی؟ اس محفوظ اور بے ضرر عمل سے مردوں کو کیوں حجاب آتا ہے؟ ایسے مصنوعی اور جان لیوا ’’حجابات‘‘ سے نجات پانا ضروری ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ پیش دستی کرنے والے واقف کاروں کو بروقت تنبیہ کریں تاکہ ان بدقماش لوگوں کے حوصلے بلند نہ ہو سکیں۔n

پس پردہ عوامل

٭انفرادی عوامل

جنسی زیادتی میں انفرادی عمل کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ انفرادی طور پر ہونے والے جنسی تشدد کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے ان افراد کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جنہیں وہ پہلے سے اچھی طرح جانتے ہوں۔ جنسی زیادتی کے انفرادی عوامل میں بھی کچھ محرکات کار فرما ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

٭متاثرہ فرد کا خود درندہ بن جانا

جنسی تشدد خصوصاً بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات میں اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ اس درندگی میں ملوث افراد نے یہ طرزعمل اپنے بڑوں سے سیکھا ہے۔ تاہم جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے لڑکوں پر حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ ہر زیادتی کا شکار ہونے والے ہر پانچ میں سے ایک لڑکے نے آگے جاکر بچوں سے زیادتی کی۔

٭غربت اور سماجی عوامل

غربت اور سماجی عوامل بھی بچوں اور خواتین میں تشدد کی بڑھتی ہوئی شرح میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم غربت کا تعلق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے اور بنانے والے دونوں سے ہے۔ کئی محققین کے مطابق زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں اور خواتین میں غربت زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے، جب کہ پس ماندہ علاقوں میں ’’گینگ ریپ‘‘ کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔n

خواتین اور بچوں سے جنسی زیادتی کے پیچھے کارفرما عوامل

آخر وہ کیا محرکات یا جذبات ہوتے ہیں جن سے مغلوب ہو کر انسان خواتین یا بچوں کے ساتھ جنسی تشدد جیسی شرم ناک حرکت کر بیٹھتا ہے؟

قانون اور پالیسیاں

خواتین اور بچوں پر تشدد کے خلاف مختلف ممالک کے قوانین اور پالیسیاں مختلف ہیں۔ کچھ ممالک میں قانونی طریقہ کار بہت زیادہ پیچیدہ اور طویل ہے۔ 2002 میں پنچایت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی کے ملزمان کی عدم شواہد پر رہائی، پاکستانی قانون میں موجود خامیوں کی روشن مثال ہے۔ پاکستان میں جنسی جبر و زیادتی کا شکار خواتین اور بچوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مزید سخت پالیسیوں اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔