ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے کی ’’آخری بار‘‘ توثیق کردی

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 جنوری 2018
ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا، وائٹ ہاؤس، فوٹو: فائل

ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا، وائٹ ہاؤس، فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ قدم آخری مرتبہ اٹھایا ہے تاکہ یورپ اور امریکا اس معاہدے میں  موجود نقائص دور کر سکیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تیسری اور آخری مرتبہ ایران کو پابندیوں پر چھوٹ دے رہے ہیں تا کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادی 120 روز میں ایران کے ساتھ موجودہ جوہری معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں، اگر ایسا نہ ہوا تو وہ فوری طور پر موجودہ معاہدے سے الگ ہوجائیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ایرانی حکومت انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے

امریکا کے صدارتی محل ’’وائٹ ہاؤس‘‘ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ احمقانہ ہے

واضح رہے کہ دوروز قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے برسلز میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے، اس ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکا کے علاوہ تمام فریقین نے معاہدے کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔