زینب کو لے جانے والے شخص کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر

ویب ڈیسک  اتوار 14 جنوری 2018
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کوٹ اور ٹوپی پہنا ایک شخص زینب کی گلی میں ٹہل رہا ہے۔ فوٹو: اسکرین گریب

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کوٹ اور ٹوپی پہنا ایک شخص زینب کی گلی میں ٹہل رہا ہے۔ فوٹو: اسکرین گریب

قصور: زیادتی کے بعد قتل کی گئی ننھی زینب کو لے جانے والے شخص کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم بچی کے گھر کے باہر ٹہل رہا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ننھی زینب کو لے جانے والے شخص کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی جو پہلے سے بھی واضح ہے، یہ ویڈیو زینب کے گھر کے باہر ٹہلتے ہوئے ایک شخص کی ہے جس کی عمر 35 تا 40 کے درمیان ہے۔

وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ داڑھی والا شخص ٹوپی، کوٹ اور شلوار قمیص پہنے زینب کے گھر کی گلی میں چکر لگا رہا ہے۔ اس شخص کو مشکوک انداز میں گلی میں بار بار چکر لگاتے دیکھا جاسکتا ہے اس سے پہلے بھی ایکسپریس نیوز نے اس واقعے سے متعلق تقریباً 5 فٹ 10 انچ قد کے ملزم کی فوٹیج دکھائی تھی۔

نئی فوٹیج میں ملزم کا حلیہ زیادہ واضح ہے یہ شخص 4 جنوری کو شام 5 بج کر 26 منٹ پر گلی میں گھومتا دکھائی دیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم اکیلا نہیں تھا اس کیس میں 3 سے زائد افراد ملوث ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: زینب قتل کیس میں اہم پیش رفت، 3 ملزم گرفتار

قصور میں 13 بچیوں سے زیادتی، 8 واقعات میں ایک ہی سیریل کلر ملوث

قصور میں بچیوں سے زیادتی کے وا قعات کی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قصور میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران زیادتی کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 8 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والا ایک ہی شخص ہے۔ تین واقعات میں تین مختلف افراد ملوث ہیں جبکہ دو واقعات میں ملزموں کے سیمپل ہی نہیں مل سکے۔

زیادتی کا شکار ہونے والی تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 7 کے درمیان تھیں زینب بھی سیریل کلنگ کا شکار ہوئی۔ پولیس نے ڈیڑھ سال کے دوران 80 افراد کے ٹیسٹ کروائے تاہم کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

اسی طرح زینب کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی مکمل ہوگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور زینب کو بھی دیگر بچیوں کی طرح گلا دبا کر قتل کیا گیا زینب کی دونوں کلائیوں پر بھی گہرے زخم کے نشانات پائے گئے۔

زینب کی کمی بہت محسوس ہورہی ہے، کلاس فیلوز

دریں اثنا زینب کا اسکول دوبارہ کھل گیا ہے جہاں کلاس تو ہوئی لیکن زینب کی نشست خالی رہی اور کلاس فیلوز کے دل بجھے بجھے سے دکھائی دیے ہر کوئی زینب کی غیر موجودگی پر افسردہ نظر آیا۔

زینب کی کلاس فیلو سہیلیاں کہتی ہیں کہ اس کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ ننھی زینب کی ٹیچر بھی اس کے نہ ہونے پر غم زدہ ہیں اور کہتی ہیں کہ اس معصوم کا ہنستا مسکراتا چہرہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا،کلاس روم میں لگا زینب کے ہاتھوں سے بنا چارٹ اور حاضری رجسٹر پر لکھا نام ننھی کلی کی یاد میں آنکھیں نم کردیتا ہے۔ بچوں نے زینب کے درجات کی بلندی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔

بچوں کے تحفظ کے لیے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب نے بچوں کے تحفظ کے لیے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو قصور جیسے واقعات کو روکنے اور بچوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے تجاویز مرتب کرے گی کمیٹی 15 جنوری کو اپنی تجاویز وزیر اعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔