قائمہ کمیٹی کی وفاقی کالونیوں سے قبضے ختم کرانے کی ہدایت

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 18 جنوری 2018
سرکاری رہائش پذیر ملازمین کے یوٹیلٹی سے متعلق ادائیگی کی تفصیل بھی آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں، سینیٹرز۔ فوٹو: فائل

سرکاری رہائش پذیر ملازمین کے یوٹیلٹی سے متعلق ادائیگی کی تفصیل بھی آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں، سینیٹرز۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے کراچی کی وفاقی کالونیوں پر قبضے ختم کرانے کی ہدایت کردی۔

وفاقی کالونیوں پر قبضے ختم کرانے کا فیصلہ کراچی میں چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر میں قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے چیئرمین سینیٹر تنویر الحق تھانوی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں کراچی کی وفاقی کالونیوں پر قبضوں سے متعلق غور کیا گیا، قائمی کمیٹی نے کہا کہ وفاقی کالونیوں میں قبضوں کی شکایات ہیں، کئی فلیٹس اور مکانات میں رٹائرڈ افسران اور ملازمین تاحال رہائش پذیر ہیں۔

کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے کسی صوبے میں ایسی پالیسی ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی افسر سرکاری رہائش میں رہے؟، سیکریٹری داخلہ سندھ قاضی شاہد پرویز نے بتایا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے،افسران کو رٹائرمنٹ کے 6ماہ بعد رہائش خالی کرنا ہوتی ہے۔

اجلاس میں سرکاری زمینوں پر قبضے ختم کرانے کے معاملے پر بحث کی گئی اورکمیٹی نے محکمہ داخلہ سندھ کو ہدایت کی کہ وہ قبضے کرانے میں اپنا کردار ادا کریں،سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ قبضوں کے خاتمے کے لیے ہمیں کوئی تحریری درخواست نہیں کی گئی اگر کہا گیا تو ہر طرح کا تعاون کریں گے،قائمہ کمیٹی نے سرکاری کوارٹرز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلیں اور کہا کہ حاضر سروس اور ریٹائر ملازمین اور ان کے یوٹیلٹی بلز سے متعلق ادائیگی کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں۔

کمیٹی نے سندھ میں سرکاری رہائش سے متعلق الگ پالیسی کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پک اینڈ چوز کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے، ملک بھر میں یکساں پالیسی کا نفاذ ہونا چاہیے، قائمہ کمیٹی نے سرکاری کوارٹرز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔