اپنے دعوے بھلانے والے انضمام الحق کو لیگز بُری لگنے لگیں

اسپورٹس رپورٹر  جمعـء 19 جنوری 2018
کارکردگی بہتر بنانے کیلیے پاکستانی کھلاڑیوں کی کرکٹ کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

کارکردگی بہتر بنانے کیلیے پاکستانی کھلاڑیوں کی کرکٹ کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

 لاہور: لاہور قلندرز کے مشیر اور ٹی10لیگ کے مینٹور انضمام الحق کو لیگز بُری لگنے لگیں۔

انضمام الحق پی ایس ایل فرنچائز لاہور قلندرز کے مشیر اور ٹی 10 لیگ کے مینٹور ہیں لیکن ٹیم کی کیویز کے ہاتھوں پے درپے شکستوں کے بعد اچانک انھیں لیگز بُری لگنے لگیں۔

بی بی سی کو انٹرویو میں چیف سلیکٹر نے کہاکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر کرنے کیلیے ان کی کرکٹ کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان سے زیادہ دوسری جگہوں پر کافی کھیلے جس سے خصوصاً بولرز کی توانائی میں فرق آیا۔

انضمام الحق نے فاسٹ بولرز عثمان شنواری اور جنید خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دونوں فٹ ہوتے تو نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز میں مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔

واضح رہے کہ انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالا تو دعویٰ کیا تھا کہ ڈومیسٹک سیزن کے دوران کھلاڑیوں کو لیگز کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ٹیموں کا انتخاب کرتے ہوئے بھی فرنچائز ٹیموں کی جانب سے نہیں بلکہ ملکی سطح کے مقابلوں میں کارکردگی کو پیش نظر رکھا جائے گا لیکن بعد میں وہ اپنے ہی دعوے بھلا بیٹھے اور دونوں باتوں پر عمل درآمدہوتا نظر نہیں آیا۔

قومی کرکٹرز کیریبیئن پریمیئر لیگ میں شریک ہوئے، انھیں قومی ٹی ٹوئنٹی20ٹورنامنٹ ادھورا چھوڑ کر بی پی ایل میں شرکت کی اجازت دیدی گئی، جیند خان وہیں زخمی ہوئے، شارجہ میں ہونے والی ٹی 10 لیگ میں بھی اپنے تمام اہم کرکٹرز کو کھیلنے کیلیے بھیج کر پی سی بی نے 4لاکھ ڈالرز کھرے کرلیے، عماد وسیم مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود اس ایونٹ میں شریک ہوئے اور گھٹنے کی انجری بڑھنے کی وجہ سے دورئہ نیوزی لینڈ سے محروم رہ گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔