ورلڈ الیون کا دورہ، سابق اولیمپئنز نے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیدیا

اسپورٹس رپورٹر  پير 22 جنوری 2018
مزید انٹرنیشنل ٹیموں کو مدعو کیا جانا چاہیے، حسن سردار، شہناز شیخ، توقیر ڈار ودیگر۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مزید انٹرنیشنل ٹیموں کو مدعو کیا جانا چاہیے، حسن سردار، شہناز شیخ، توقیر ڈار ودیگر۔ فوٹو: سوشل میڈیا

لاہور: سابق اولمپئنز نے ہاکی ورلڈ الیون کے دورے کوہوا کا تازہ جھونکا قرار دیا ہے جب کہ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں مزید انٹرنیشنل ٹیمیں پاکستان آکر ملکی سونے گرائونڈز آباد کریںگے۔

نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور ورلڈ الیون کے خلاف سیریز کے دوسرے میچ کے اختتام کے بعد میڈیا سے بات چیت میں 1994 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان شہباز سینئر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں یہ دورہ پہلا قدم ہے جس کے بعد وہ پاکستان سپر لیگ کی طرز پر ہاکی میں بھی لیگ کے انعقاد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شہباز احمد نے کہاکہ اس لیگ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ انھیں اپنا کھیل بہترکرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ ورلڈ الیون کے اس دورے کے موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ماضی کے متعدد نامورکھلاڑیوں اور امپائرز کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا جنھیں ہال آف فیم کے اعزاز سے بھی نوازا گیا، ان پلیئرز میں پنالٹی کارنر پر گول کرنے کیلیے مشہور ہالینڈ کے پال لیٹجنز، بوولینڈر، جرمنی کے کرسچئن بلنک اور اسپین کے سکارے شامل ہیں۔

اس موقع پر پاکستان کے 6 سابق اولمپیئنز کو بھی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا جن میں اصلاح الدین، سمیع اللہ، اختررسول، شہناز شیخ، حسن سردار اور شہباز احمد شامل ہیں۔

قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ حسن سردار نے کہاکہ پاکستان ہاکی ٹیم نے و رلڈالیون کیخلاف دوسرے میچ میں اچھاکم بیک کیا، ورلڈ الیون کے دورے سے ملک میں ہاکی کی بحالی میں مددملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ہاکی ٹیم کیلیے غیرملکی کوچزسے بات چیت جاری ہے، اس سلسلے میں فلورس جان، بوولینڈر اور بلنک سمیت آسٹریلین کوچزسے بھی رابطہ کیا ہے۔

حسن سردار نے کہا کہ قومی ٹیم کو غیرملکی لیجنڈز کیساتھ کھیل کر سیکھنے کا موقع ملا، امید ہے اب مزید انٹرنیشنل ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔ 1982 ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان اختر رسول نے کہا کہ ورلڈ الیون کا دورہ ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوگا اور میں مستقبل میں مزید انٹرنیشنل ٹیموں کے پاکستان آنے کے حوالے سے پر امید ہوں۔

شہناز شیخ نے کہا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کا آنا خوش آئند ہے لیکن یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ملکی ہاکی جس نہج پر پہنچ چکی ہے، اس کے بعد نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

توقیر ڈار نے کہا کہ ہمارے آج کے کھلاڑی ہی ہمارے مستقبل کا اثاثہ ہیں، خوشی ہے کہ تنویر ڈار اکیڈمی کے 4 کھلاڑی ورلڈ الیون کیخلاف ایکشن میں نظر آئے، انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف اگر پاکستان ہاکی لیگ کا بھی انعقاد کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اس کا مجموعی فائدہ ملکی ہاکی کو ہوگا اور نوجوان کھلاڑیوں کو غیر ملکی پلیئرز کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

ادھر چیف سلیکٹر اصلاح الدین صدیقی اور سلیکٹر قاسم خان نے کہا کہ ورلڈ الیون کے ساتھ سیریز کے کامیاب انعقاد پر صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکریٹری شہباز سینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔