شبقدر میں طالب علم نے توہین رسالت کے الزام میں پرنسپل کو قتل کردیا

نمائندہ ایکسپریس  منگل 23 جنوری 2018
قتل کے خلاف طلبا اورعوام سڑکوں پر نکل آئے، مقتول حافظ قران اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ فوٹو : فائل

قتل کے خلاف طلبا اورعوام سڑکوں پر نکل آئے، مقتول حافظ قران اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ فوٹو : فائل

چارسدہ / شبقدر: شبقدر میں توہین رسالت کا الزام لگا کر طالب علم نے پرنسپل کو قتل کردیا۔

شب قدر میں توہین رسالت کا الزام لگا کر سیکنڈایئر کے طالب علم نے پرنسپل کو قتل کردیا۔ ایف سی اہلکاروں نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا، طلبا اور عوام سراپا احتجاج بن گئے۔

مٹہ روڈ پر واقع نیو اسلامیہ پبلک ہائی اسکول اینڈ کالج میں زیرتعلیم سید فہیم شاہ نے کالج کے اندر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے پرنسپل سریراحمد شدیدزخمی ہوگئے اور اسپتال میں چل بسے، گرفتاری کے وقت ملزم نعرے لگا رہا تھا کہ اس نے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو انجام تک پہنچادیا ہے مگر دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنسپل سریر احمد صوم وصلوٰۃ کے پابند اور حافظ قرآن بھی تھے تاہم ملزم کی طرف سے توہین رسالتﷺ کے حوالے سے الزامات میں کوئی صداقت نہیں جب کہ پرنسپل کے بہیمانہ قتل کے خلاف شب قدر میں عوام اور طلبا سڑکوں پر نکل آئے۔

ذرائع کے مطابق ملزم فہیم تحریک لبیک کے توہین رسالت ﷺکے حوالے سے فیض آباد دھرنے میں شرکت کیلیے گیا تھا اور کالج سے غیر حاضری پر انتظامیہ نے معمول کے مطابق اسے غیر حاضر کیا تھا، اس حوالے سے پرنسپل سے کچھ روز پہلے ملزم کی تکرار ہوئی تھی۔

ڈی پی او چارسدہ ظہور خان آفریدی کا کہناہے کہ توہین رسالت کے حوالے سے تاحال کوئی تصدیق نہیں ہوئی، گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے، جلد اصل حقائق سامنے آجائیںگے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔