لیبیا میں بم دھماکوں سے 33 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

ویب ڈیسک  بدھ 24 جنوری 2018
دھماکوں میں لیبیا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ بھی ہلاک ہوئے۔  فوٹو:رائٹرز

دھماکوں میں لیبیا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ بھی ہلاک ہوئے۔ فوٹو:رائٹرز

طرابلس: لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں 2 کار بم دھماکوں میں فوجی حکام سمیت 33 سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بن غازی کے مرکزی علاقے سلمانی میں واقع مسجد بیعت رضوان کے سامنے عین اس وقت دھماکا ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد نماز کی ادائیگی کے لئے آئی تھی۔ دھماکے کی شدت نسبتاً کم تھی اور اس سے زیادہ جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

ابھی جائے وقوعہ پر امدادی کارکنوں اور سیکیورٹی فورسز پہنچی ہی تھیں کہ وہاں کھڑی ایک گاڑی میں دھماکا ہوگیا۔ یہ دھماکا پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدید اور خطرناک تھا۔ جس کی زد میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور ریسکیو رضاکار آئے۔

سرکاری حکام نے دھماکوں میں 33 افراد کے ہلاک جب کہ 70 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ دھماکوں کے نتیجے میں لیبیا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے شعبہ انسداد جاسوسی کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر میدی الفلاح بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔