پاکستان سے امریکی و چینی مطالبات: ہم کہاں جائیں؟

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 26 جنوری 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

اپنے مطالبات منوانے کے لیے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ،نے2018ء کے پہلے ہی دن پاکستان کے بارے میں جوٹویٹ کی تھی، اِس میں پاکستان مخالفانہ عنصر بھی شامل تھا اور پاکستان کو دھمکی بھی۔ ظاہر ہے ہمارے دشمن تو اِس پر خوش ہُوئے ہوں گے۔

پاکستانی عوام، حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے مگر جس یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، امریکا تک بھی اس کی بازگشت پہنچی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ، سارہ سینڈرز، نے گذشتہ روز جو پریس کانفرنس کی ہے، اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حماقت پر مبنی ٹویٹ کے ردِ عمل میں پاکستان بھر میں جو لہریں اُٹھی ہیں، امریکی ذمے داران اِن سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مگر وہ فی الحال پاکستان سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے بضد ہیں۔

24جنوری کو اورکزئی ایجنسی پر تازہ امریکی ڈرون حملہ بھی اِسی کا حصہ ہے۔ دباؤ بڑھانے کے لیے چند امریکی تھنک ٹینک پاکستان کے حساس اداروں پر بے بنیاد الزام بھی عائد کرنے لگے ہیں۔ یہ پرانے مذموم امریکی ہتھکنڈے ہیں۔ آزمائش کی گھڑی میں چین اور ترکی نے جس جرأت مندی سے فی الفور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اظہار کیا ، پاکستان بھر کے عوام اُن کے شکر گزار ہیں۔

بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے معروف تجزیہ کار (اٹل انیجا) نے اپنے تازہ مضمون میں یوں ہوائی اُڑائی ہے : ’’ اب چین کوشش کرے گا کہ پاکستان میں اُس کی کرنسی رواج پا جائے۔ وہ یہ بھی کوشش کرے گا کہ امریکی پابندیوں کے بعد پاکستان کو معاشی تنگدستی کا احساس نہ ہونے دے مگر اس کے بدلے وہ پاکستا ن سے اپنے کچھ مطالبات بھی منوائے گا۔ ان مطالبات کا پورا کیا جانا امریکا اور بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

چین کے ساتھ ہماری قربتیںاور محبتیں قابلِ ستائش و تحسین ہیں۔ دنیا میں پاکستان کے جو چند ایک قابلِ اعتماد دوست ممالک رہ گئے ہیں، چین ان میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔سی پیک کے پس منظر میں پاکستان پر چینی اعتماد میں نیا اضافہ ہُوا ہے۔ اُن سوالوں کا جواب دیا جانا چاہیے جو چینی سرمایہ کاری کے بارے میں اُٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان سے چین کے بعض مطالبات ایسے ہیں جنہوں نے شکوک و شبہات کو بہرحال جنم دیا ہے۔

شومئی قسمت سے یہ شکوک رفع کرنے کے لیے کوئی سرکاری ذمے دار شخصیت سامنے آکر اطمینان بخش جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے؛ چنانچہ شبہات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ چین کا پاکستان سے روز بروز بڑھتا ہُوا یہ مطالبہ سرِ فہرست ہے کہ پاکستان میں چینی کرنسی کو رواج دیا جائے۔ اِس مطالبے پر بھی کئی اطراف سے ابرو اُٹھتے نظر آئے ہیں۔سوال کیا جارہا ہے کہ آیا پاکستان کے حکمران ، چینی کرنسی کی اجازت دینے کے حوالے سے، خسارے کا سودا تونہیں کرنے جارہے ؟

واقعی احوال یہ ہے کہ پاکستان نے پچھلے چار سال کے دوران چین سے 44ارب ڈالر کی درآمدات کی ہیں جب کہ اِسی عرصے کے دوران پاکستان کی چین کے لیے برآمدات صرف 7.7ارب ڈالر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ چار سال کے دوران پاکستان نے چین سے 36.4ارب ڈالرکا خسارہ اُٹھا لیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان ، چین سے سامان زیادہ خرید رہا ہے اور فروخت کم کررہا ہے تو چین کا پاکستان سے یہ پُرزور مطالبہ کیا راز رکھتا ہے کہ تجارت کے لیے چینی کرنسی (یوآن) کی اجازت دی جائے؟

وطنِ عزیز کے ممتاز ماہرِ اقتصادیات جناب شاہد حسن صدیقی کے مطابق: چین ایک بڑی اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔ اُس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تین ہزار ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکے ہیں جب کہ امریکا، جوخود کو دنیا کی اکلوتی سُپر پاور سمجھتا ہے، کے زرِ مبادلہ کے ذخائر چین کے مقابلے میں عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔اِس پس منظر میں اپنی معاشی طاقت کے بَل پر چین یہ چاہتا ہے کہ اُس کی کرنسی کو وہی عالمی درجہ حاصل ہو جائے جو امریکا کے ڈالر اور یورپین یونین کے یورو کو حاصل ہے۔

چین نے جب برکس(BRICS)بنایا تو وہ جن جن ممالک میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اُس نے انھیں یہی کہا کہ ہماری کرنسی استعمال کریںتاکہ اُسے وہی عالمی درجہ مل جائے جو ڈالر اور یورو کو حاصل ہے۔ پاکستان سے بھی اُس کا یہی مطالبہ ہے۔ یہ مطالبہ پہلے تو زیریں سطح پر تھا مگر جب بات کھل گئی تو اِسے مجبوراً سامنے لانا پڑا۔ اگر یہ مطالبہ محض تجارت کی حد تک ہے تو اِسے کچھ قبول کیا جا سکتا ہے۔

آخر چین ہمارے ہاں ’’سی پیک‘‘ کی شکل میں اتنی بڑی سرمایہ کاری بھی تو کررہا ہے؛ چنانچہ بہت احتیاط اور ذہانت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ مستقبل میں پاک چین تعلقات میں خرابی پیدا ہو نہ پاکستان میں چینی کرنسی کے رواج سے ہمارا روپیہ بے قدری کا شکار ہوسکے۔ پاکستان اپنے دوتین تحفظات چین کے سامنے رکھ سکتا ہے۔چین کی کرنسی فکسڈ ہے ،جب کہ ہمارے روپے میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے؛ چنانچہ شرحِ تبادلہ میں جو نقصان ہوگا ،اگر اس کے ازالے کے لیے کوئی غیر مبہم اور واضح فریم ورک بن جاتا ہے تب تو یہ معاملہ آسان ہو جائے گا لیکن چین اصل میں چاہتا کیا ہے؟ یہ پاکستانی عوام کو نہیں بتایا جارہا۔

سرتاج عزیز صاحب بھی اس معاملے میں مہر بہ لب ہیں اور جناب احسن اقبال سے اس بارے میں استفسار کیا جائے تو وہ جواب دینے کے بجائے ناراض ہو جاتے ہیں۔ حکومت ِ پاکستان اپنے عوام کوبتائے کہ چین کا دراصل پاکستان سے مطالبہ کیا ہے؟چینی کرنسی کے استعمال سے پاکستان میں متوازی معیشت تو وجود میں نہیں آجائیگی؟

پاکستان کے ایک اور معروف ماہرِ اقتصادیات جناب خرم حسین نے 11جنوری2018ء کو لکھا ہے کہ یوآن سے ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے کہ’’ پاکستان میں روپے اور یوآن کے باہمی تجارتی تبادلے کا کاروبار (اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک واضح حکم کے مطابق)تو 2011ء سے جاری ہے۔‘‘وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ رواں لمحوں میں چین دنیا کے 30ممالک کے ساتھ 550ارب ڈالر سے زیادہ رقم کے مساوی یوآن کرنسی میں کاروبار کررہا ہے۔ امریکا اِن معاملات کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے۔ وہ دنیا میں چین کی  بڑھتی معاشی مداخلت کا راستہ اب روک نہیں سکے گا کہ اب BRICSکی شکل میں روس بھی سامنے آچکا ہے۔

ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ امریکا تاخیری حربوں سے چند مزید برسوں کے لیے چین کے راستے کی رکاوٹ بن سکے۔ پاکستان سے امریکی مطالبات نے بھی ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ کچھ معاشی پابندیاں تو لگ چکی ہیں۔ اگرچہ 225 ملین ڈالر کی بندش کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن امریکا دباؤ بڑھانے کے لیے کچھ اور بھی کرسکتا ہے ۔حکومتِ پاکستان ، ہمارے وزیر خارجہ، ہماری اپوزیشن، ہمارے عسکری اداروں کے ترجمان سب جانتے ہیں کہ امریکی پابندیوں کے بعد ابتدائی طور پر تو ہم گزارا کرلیں گے لیکن اگست2018ء میں جب پاکستان قرضوں کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جائے گا تو ایک بار پھر ہمیں امریکی اعانت کی ضرورت پڑے گی۔

ہم خود انحصاری اور جُزرسی سے بھی دُور ہیں۔ سرکاری اسراف ہماری معاشی جڑوں میں بیٹھ چکے ہیں۔ ہماری برآمدات اور  ترسیلاتِ زر کا تقریباً سارا انحصار امریکا پر ہے۔اگر ہم خود انحصاری کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے تو ہم پورے اعتماد سے کبھی امریکی مطالبات مسترد نہیں کرسکتے۔ ہمارے حکمران اور ہماری سیاسی جماعتیں امریکی مطالبات کے خلاف بیانات ضرور جاری کرتے رہیں گے تاکہ انتخابات میں فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ اِس سے زیادہ کچھ نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔