Maattam؛ مریض کی ایک سے دوسرے بیڈ پر محفوظ منتقلی کا منفرد نظام

ندیم سبحان میو  اتوار 28 جنوری 2018
بھارت میں ایک طالب علم نے یہ خصوصی بیڈ ایجاد کیا ہے۔ فوٹو : فائل

بھارت میں ایک طالب علم نے یہ خصوصی بیڈ ایجاد کیا ہے۔ فوٹو : فائل

 اسپتالوں خاص طور سے سرکاری اسپتالوں کے شعبہ ہنگامی امداد کے باہر روزانہ درجنوں ایمبولینسیں آکر رُکتی ہیں جن میں سے مریضوں کو اتار کر طبی امداد کے لیے اندر منتقل کیا جاتا ہے۔ ایمبولینس کے اندر مریض اسٹریچر پر ہوتا ہے۔

اسٹریچر اٹھاکر گاڑی سے باہر نکالا جاتا ہے اور مریض کو اٹھاکر دوسرے اسٹریچر پر ڈال کر اسپتال کے اندر منتقل کیا جاتا ہے۔ ہنگامی طبی امداد کے بعد اگر مریض کو داخل کرنا ہو تو پھر اسے ایمرجنسی میں رکھے ہوئے بیڈ سے اٹھاکر ایک بار پھر اسٹریچر پر رکھا جاتا ہے اور متعلقہ مرض کے شعبے میں لے جاکر دوسرے بیڈ پر منتقل کیا جاتا ہے۔

منتقلی کا یہ عمل مریض کے لواحقین، ایمبولینس کا ڈرائیور، اسپتال کا اسٹاف مل کر انجام دیتے ہیں۔ مریض کی حالت اگر نازک ہے تو ایک سے دوسرے بیڈ پر منتقلی کے دوران اٹھانے سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اور اس کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے، کیوں کہ اسے انسانی ہاتھ اٹھاکر دوسرے بیڈ پر منتقل کرتے ہیں۔ اس دوران کسی عضو پر پڑنے والا دباؤ یا اٹھانے کے دوران ہونے والی کوئی بے احتیاطی مریض کے لیے انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

اس کے تدارک کے لیے بھارت میں ایک طالب علم نے یہ خصوصی بیڈ ایجاد کیا ہے۔ یہ بیڈ دراصل مریض کو اسپتال میں ایک سے دوسرے بیڈ پر منتقل کرنے کا سسٹم ہے۔ بیڈ نما یہ سسٹم ایک کنویئربیلٹ پر مشتمل ہے جو کسی بھی اسٹریچر ؍ بیڈ سے منسلک ہوسکتی ہے۔ اسے اسٹریچر اور بیڈ یا دو بیڈز کے درمیان رکھا جاسکتا ہے۔

کنویئر بیلٹ کی مدد سے مریض بستر سمیت اس پر آتا ہے جسے بعدازاں اگلے بستر پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران انسانی مدد کی ضرورت پیش نہیں آتی، اور منتقلی کے عمل سے جُڑے خطرات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ بھارتی طالب علم کا تیارکردہ یہ ٹرانسفر سسٹم جسے Maattam کا نام دیا گیا ہے، کئی اسپتالوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔