بُک شیلف

عبید اللہ عابد / فیاض احمد ساجد  اتوار 28 جنوری 2018
جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو : فائل

جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو : فائل

نام… الیاس عشقی کی اردو نثر
مصنف… پروفیسر ڈاکٹرعبدالسلام عادل
 قیمت…1500روپے
 ناشر… بک کارنر، جہلم

ڈاکٹرالیاس عشقی کے تعارف میں بڑے عنوانات اردو ادب اور  ریڈیوپاکستان  کے ہیں، ان  کا علمی و ادبی سفر قیام پاکستان سے قبل شروع ہوا اور نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط رہا، اس دوران میں آپ نے متعدد زبانوں میں شاعری کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی، سندھی، پنجابی اور اردومضامین و مقالات لکھے جو ایران، ہندوستان اور پاکستان کے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ ادبی دنیا میں آپ ماہر لسانیات، محقق، مترجم اور شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹرعشقی نے بھارت کے گلابی شہر جے پور سے روشن دانوں  کے شہر حیدرآباد سندھ تک جو قابل قدر کارہائے نمایاں سرانجام دیے، ان کے اعتراف میں انھیں متعدد ایوارڈز دیے گئے، حکومت پاکستان کی طرف سے انھیں ’ستارہ امتیاز‘ بھی ملا۔

زیرنظرکتاب کا تعارف اس کا عنوان پڑھنے ہی سے ہوجاتاہے، یہ مصنف کی طویل محنت کا مجموعہ ہے، انھوں نے ڈاکٹر عشقی کے اردو نثری سرمائے کی تحقیق، ترتیب و تدوین کی  اور ان پر حواشی و تعلیقات قلم بند کئے اور سندھ یونیورسٹی آف جامشورو سے ایم فل کی سند حاصل کی۔ بعدازاںپی ایچ ڈی کی سند کے لئے بھی ڈاکٹرالیاس عشقی کی نثرنگاری پر ہی کام کیا۔کتاب کی ابتدا میں ’حیات الیاس عشقی‘ کے عنوان سے ایک مفصل باب باندھاگیا ہے۔ اس کے بعد ان کے اردومقالات اور مضامین جمع کردیے گئے۔ جن میں ’ اردوشاعری پر نظیراکبرآبادی کے اثرات، تاثرات‘،’ مرزاغالب اور جے پور‘،’ چاربیت(عوامی اردوشاعری کی ایک مٹتی ہوئی صنف)‘،’ غالب کا سب سے پہلا خط‘،’ سندھی شاعری کے تراجم‘،’ دوہے کی روایت‘ اور’موئن جودڑو(حقیقت اور افسانہ)‘ بھی شامل ہیں۔’ بک کارنر‘ نے اس قابل قدر علمی کاوش کو  اس کے شایان شان انداز سے شائع کیا۔یقیناًسات سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب ادب دوستوں کے کتب خانے میں ایک قیمتی اضافہ ثابت ہوگی۔

٭٭٭
نام… شرح کلام باہوؒ
مصنف… پروفیسرحمیداللہ شاہ ہاشمی
قیمت…480 روپے
ناشر…بک کارنر، جہلم

سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا شمار متفقہ طور پر برصغیر کے عظیم صوفیائے کرام میں ہوتاہے۔انھوں نے تصوف و سلوک کا درس دینے کے لئے زیادہ تر فارسی زبان کو اپنایاکیونکہ اُس دور میں تحریر و تقریر کی زبان فارسی ہی تھی۔ آپ کی فارسی تصانیف کی تعداد ایک سو چالیس بتائی جاتی ہے، تاہم  سب سے زیادہ شہرت ’ابیات‘ کو حاصل ہوئی جو پنجابی زبان میں ہے۔ یہ مٹھاس اور معرفت میں ڈوبی ہوئی شاعری کا مجموعہ ہے۔ ان کے ابیات کی روحانی و جمالیاتی حظ رسانی کا یہ عالم ہے کہ اگرانھیں صحیح ادائیگی کے ساتھ تحت اللفظ بھی پڑھاجائے اور سنایا جائے تو ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

کلام سے عشق حقیقی، حق گوئی اور راست کرداری کے جذبات ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلوب بیان سادہ ہے جس میں تصنع اور تکلف سے کام نہیں لیاگیا۔انھوں نے واحدانیت کو اپنے فکر کی بنیاد بنایا ہے ، ان ناپسندیدہ عناصر کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے جو معاشرہ میں خرابیا پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔آپ نے من میں جھانکنے اور اپنی ذات پر غور کرنے کی تلقین کی ہے،آپ پہلے صوفی ہیں جنھوں نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسئلہ کو یگانگت دی ہے اور مرشد کامل کی ضرورت پر زوردیاہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں دنیاداری تیاگ کر درویشی اپنانے کا درس دیاہے کہ ان کے بقول اسی راستے پر چل کر انسان کو عرفانِ ذات بھی حاصل ہوتاہے اور عرفانِ حق بھی۔

پروفیسرحمیداللہ شاہ ہاشمی نے زیرنظرتصنیف کی صورت میں انتہائی قابل قدر کام کیا ہے کہ کلامِ باہوؒ کا پنجابی سے اردو ترجمہ اور تشریح کردی ہے۔یقیناً ان کی کاوش ہماری نوجوان نسل کو حضرت باہو کے افکار سے استفادہ کرنے میں بخوبی مدد دے گی، نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی تمام نسلیں ان کی ممنونِ احسان ہوں گی۔

٭٭٭

نام: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بحیثیت اقبال شناس
مرتب: پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
قیمت: ایک ہزار روپے
ناشر: مقبول اکیڈمی سرکلر روڈچوک اردو بازار لاہور

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی زندگی درس و تدریس میں گزری، انھو ں نے پاکستان کے مختلف شہروں میںدرس وتدریس کے فرائض انجام دیے ہیں،ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد ہے، جو ان کے لیے یقینا نیک نامی کا باعث ہے۔ ہاشمی صاحب کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے حقِ شاگردی ادا کرتے ہوئے اپنے محترم استاد کی اقبال شناسی کو اس کتاب میں اجاگرکیا ہے ۔ مصنف کے بقول:’’اس کتاب کا اصل موضوع ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بطور اقبال شناس ہیں۔ چنانچہ وہی لوازمہ جمع کیا گیا ہے جو موضوع سے متعلق ہے۔ یوں تو آپ کی ہر اقبالیاتی کتاب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن مختلف اہلِ نقد نے ان کی کتابوں پر جو تبصرے کیے اور ان کی کاوشوں کو جس طرح سراہا ہے ، اس سے استادِ محترم کے کارنامے کا صیحح اندازہ ہوتاہے۔‘‘

کتاب کے مقدمے میں ہاشمی صاحب کا تفصیلی تعارف موجود ہے، اس کے بعد ڈاکٹرخورشید رضوی، ڈاکٹرایوب صابر، ممتازعارف اور ذوالفقاراحسن کے مضامین شامل کئے گئے ہیں جو ظاہر ہے کہ ہاشمی صاحب ہی سے متعلق ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر رقم طراز ہیں:’’عصر حاضر میں فکرِ اقبال کی تفہیم کے لیے پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین کی خدمات کو ناقدین فراموش نہیںکرسکتے۔ فکرِ اقبال کی حقیقی روح نسلِ نو تک منتقل کرنے میں ہاشمی صاحب اپنی ذات میں یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اقبال کی نظم ونثر کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتب مینارہء نور کا درجہ رکھتی ہیں۔ ہاشمی صاحب ایسے ماہرینِ اقبال کا وجو د ہمارے لیے غنیمت ہے ، جو پیرانہ سالی کے باوجو د علم و آگہی کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ ‘‘

کتاب میں ہاشمی صاحب کی29 اقبالیاتی کتب پر پاک و ہند کے ناقدین علم وادب کے گراں قدر تبصرے اور خیالات بھی جمع کیے گئے ہیں، ان میں پروفیسر سید وقارعظیم، ماہر القادری، ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ، ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر فتح فرمان پوری، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر سلیم اختر، میرزا ادیب،  ابنِ فرید ،ڈاکٹر عبدالمغنی،  ڈاکٹر تحسین فراقی اور نعیم صدیقی  شامل بھی ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی اقبالیاتی کتب پر اہلِ علم کی آراء و تبصروں کو یک جا کرکے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے اقبالیاتی ادب کی ایک عمدہ خدمت انجام دی ہے۔

٭٭٭

 

اگرآپ کو بتاؤں کہ  ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتاہے، اچھے کام کا اچھا نتیجہ اور برے کام کا برا، اچھی پالیسی اچھے اثرات دکھاتی ہے اور بری پالیسی کانٹے بکھیرتی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی، آپ نے ہزار بار سنی ہوں گی یہ باتیں۔  البتہ ناول’ رقص بسمل‘ کی مصنفہ نبیلہ عزیز آپ کو ایسا سبق دینا چاہتی ہیں جو ہمیں اس معاشرے میں جابجا دیکھنے کو ملتاہے لیکن  ہم اس سبق سے کچھ سیکھتے نہیں اور اپنی روش سے باز نہیں آتے۔

کیا یہ المناک اور افسوسناک بات نہیں کہ والدین اولاد کی پرورش کے دوران میں کچھ ایسی پالیسی اختیار کرلیتے ہیں جو اولاد کو ساری عمر کے لئے مختلف مسائل کا شکار کردیتی ہے؟ مثلاً زیرنظر ناول کی ایک کردار’ ماورا‘ بھی کچھ ایسی ہی پالیسی کی شکار ہوئی۔ پھر عافیہ بیگم (ماورا کی والدہ) نے بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہوئے بھی ایک پہاڑ سی غلطی کی، مائیں  اپنی بہن یا بھائی سے رشتہ اٹوٹ بنانے کے لئے کچھ ایسے فیصلے کرلیتی ہیں جن کا انجام اکثراچھا نہیں ہوتا۔ پھر ایک طرف بیٹی کی زندگی تباہ ہوتی ہے اور دوسری طرف بہن بھائی سے رشتہ اٹوٹ ہونے کے بجائے ٹوٹ ہی جاتاہے۔ یہ ناول بہت سے سبق دیتاہے، اگر ہم وہ سیکھ لیں تو ہم اپنی معاشرتی زندگی میں سے بہت  کانٹے چن لیں گے۔ اس ضخیم ناول کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔

زیرتبصرہ دوسری کتاب’وہ نہیں ملا تو ملال کیا‘ نادیہ احمد کے چارناولٹوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ڈائجسٹوں کی دنیا میں ایک معروف نام ہیں، یہی وجہ ہے کہ قارئین کی دلچسپی کی خاطر اب ان کے ناولٹوں کو کتابی صورت میں چھاپاگیاہے۔’ اسکینڈل‘،’ اوہ رے پیا‘،’ کتنے معتبر ٹھہرے‘ اور’ وہ نہیں ملا تو ملال کیا‘… یہ سب کہانیاں ہم میں سے ہر ایک کے اردگردموجود ہیں،ہم انھیں دیکھتے ، سنتے، پڑھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔

حالانکہ ہمیں ان سے سبق سیکھناچاہئے اور اپنے رویوں کی اصلاح کرنی چاہئے، ان غلطیوں سے بچنا چاہئے جن کا ارتکاب  ان کہانیوں میں بعض کردار کرتے ہیں۔ہر لکھاری  کہانیاں وہی لکھتا ہے جو ہمارے اردگرد بکھری ہوتی ہیں۔ہماری معاشرتی روایات، ہمارے عقائد، ہماری سوچ وہی،بس! لکھنے کا ڈھنگ نیا ہوسکتا ہے۔ لفظ ان کہانیوں کو اچھوتا بناتے ہیں، اندازِ تحریر انھیں قاری کے دل تک پہنچاتا ہے۔ ناول نگار اپن کہانیوں میں کہیں بھی واعظہ اور ناصح نظر نہیں بنیں، وہ  کہانی آگے بڑھاتی چلی جاتی ہیں اور کہانی  قاری کے دل و دماغ مسخر کرتی چلی جاتی ہے۔ یہ مجموعہ 500روپے کا ہے۔

دونوں کتب کا ناشر’القریش پبلی کیشنز، سرکلر روڈ چوک اردوبازارلاہور‘ ہے۔ یہ ادارہ  لائق صد تحسین ہے کہ وہ ناول اورکہانیوں کے مجموعے  نہایت عمدگی کے ساتھ منظرعام پر لارہاہے، اس کی شائع کردہ ہر کتاب خوبصورت سرورق،مضبوط جلد اور بہترین طباعت کی حامل ہوتی ہے۔

’مقالاتِ عبدالحمیدکمالی کاایک جائزہ‘
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیںجواپنے علم و عمل کے اعتبار سے بلندیوں پر فائز ہوتی ہیں مگر انہیں نام و نمود کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ انہی میں سے ایک عالمی شہرت یافتہ فلسفی،اسلامسٹ،جیدعالم ’ڈاکڑعبدالحمیدکمالی‘ بھی ہیں۔ ڈاکڑکمالی فلسفہ اورعلومِ اسلامیہ کی روایت کاہمیشہ ایک مستنّد اورمعتبرحوالہ رہے، آپ دنیا بھر کے علمی وفلسفیانہ حلقوں میں پاکستان کی شناخت تھے۔آپکی تحریریںحقیقی علمی کام کی حیثیت سے ایک حوالے کادرجہ رکھتی ہیں،آپکی نظر بیک وقت مغربی اوراسلامی فلسفے پر ہوتی۔ انہی وجوہات پراہلِ علم نے آپ کو’مشرق کے فلسفی‘کے خطاب سے نوازا۔زیرِنظر کتاب میںنوابواب ہیں۔

پہلے باب میںکمالی صاحب کی حیات وخدمات کامختصرطورپر احاطہ کیاگیاہے۔دوسرے باب میںکمالی صاحب کے مشاہدات و تاثرات ہیں جو اپنے دورکے دلچسپ حالات وواقعات پرقلم بندکیے ہیں۔تیسراباب کلچر(ثقافت)پرہے۔اس حوالے سے وہ لکھتے ہیںکہ’ہرقوم کاایک کلچرہوتاہے، قومیںآتی اورگزرجاتی ہیں مگر ان کاکلچر جا رہی رہتاہے۔ عالمِ انسانی میںکلچریا ثقافت کاوہی مقام ہے جوعالمِ افلاک میںمختلف نظام ہائے کہکشاںکا‘۔

چوتھااورپانچواں باب دراصل تاریخ سے آپ کی غیرمعمولی دلچسپی کاآئینہ دارہے، اس بارے میںبزمِ اقبال کے ناظم اورمدیرمجلّہ’ اقبال‘ لکھتے ہیںکہ’اس طویل ترین مقالے میںڈاکڑکمالی نے فلسفیانہ اندازمیںتاریخ ہندکے گزشتہ اوراق پرنظرڈالی ہے اورخصوصاً برٹش امپیریلزم کی ہندمیںآمد اور اس کی استعماری پالیسی کاتجزیہ کرتے ہوئے ان کے مقاصدکی نشاندہی کی ہے۔ اس فکرانگیزمقالے میںاقلیمِ ہندکے دومعاصرنیتاؤں (مسڑجناح اورمسڑگاندھی)کاکمالی صاحب نے اشارہ ذکرکیاہے‘یہ مقالہ اصل میںسترکی دہائی کے کمالی صاحب کے لیکچر’اقبال،جناح اور پاکستان‘کے سلسلے میںہے۔ یہ لیکچرتاریخ سے متعلق ان لیکچرزمیںشامل تھاجوآپ نے اقبال اکادمی کی گورننگ باڈی کی ایماء پردیئے تھے۔ چھٹے باب میںآرنلڈٹائن بی کافلسفہ تاریخ ہے جوبہت ہی اہم موضوع ہے۔

انسانی مسائل اورتقدیرپررہتی دنیاتک جب بھی گفتگوہوگی یہ موضوع ضرورزیربحث ہوگا،دراصل تاریخ کے اس مطالعے کی تحریک اشپینگلرکے نام سے ہوئی۔آرنلڈٹائن بی کافلسفہ تاریخ بارہ ضخیم جلدوںپرمشتمل ہے۔ یہ مقالہ مغربی مفکرکی سوچ کاآئینہ دارہے۔ساتواںباب کروچے اوران کافلسفیانہ تفکرہے،کروچے نے ایک مختصرسی ذاتی سوانح حیات1930ء سے قبل لکھی، اس کاترجمہ ڈاکڑمحمدعلی صدیقی نے سترکی دہائی میںکروچے کی سرگزشت کے عنوان سے کیا۔ اس کا طویل مقدمہ کمالی صاحب نے لکھا۔ یہ باب اسی مقدمے پرہے۔

اس مقدمے کے حوالے سے صدیقی صاحب لکھتے ہیں:’دیباچے کیلئے محترمی پروفیسرکمالی صاحب سے اسی جذبے کے ساتھ درخواست کی کہ کروچے کے عنییت پسندفلسفے کی وضاحت عنییت پسندفلسفی ہی کے قلم سے ہونی چاہیئے، میری خوش قسمتی کہ ان جیسے فاضل جیدفلسفی نے ازراہِ عنایت میری درخواست قبول کرلی۔آخری دوباب زماںومکاںکے موضوع پرہیں۔اس حوالے سے ڈاکڑوحیدعشرت اپنی مرتب کردہ کتاب’زماںومکاں‘میںلکھتے ہیں:’ان مقالات کی اہمیت یہ ہے کہ یہ جدیدفکریات کے پس منظر میںاورپہلوبہ پہلواسلامی تہذیب وثقافت میںہونے والے مباحث کاپورامنظرنامہ پیش کرتے ہیں۔میراتاثریہ ہے کہ جتنی جامعیت،بالغ نظری اورتفکروتدبرکے ساتھ یہ مقالات رقم ہوئے ہیںاس کی مثال ’اقبال‘کے بعداورکہیںنظرنہیںآتی، برصغیر میںاس موضوع پرکیاجانے والاان کا کام نہایت وقیع ہے‘۔یہ مقالات بھی انہی تین مقالات کے سلسلے میںہیں۔

اس تصنیف کے مرتبہ انجینئرمسعوداصغرنے بائیومیڈیکل انجینئرنگ سرسّیدیونیورسٹی آف انجینئرنگ سے کی اورایم پی اے جامعہ کراچی سے کیاجس میں اختصاصیت انسانی وسائل کی تنظیم کاری(ایچ آر ایم)کو اپنا موضوع بنایا۔اپنی فنی رپورٹوں اور مونوگرافس کے علاوہ جن کا تعلق ان کی پیشہ ورانہ مصروفیات سے تھا۔ انہوں نے اپنے بڑوں کی طرح دیگر علمی اور ادبی مصروفیات بھی جاری رکھیں۔انہوں نے کم عمری میں دورانِ طالب علمی نومبر2001ء میں اپنا پہلا تحقیقی مقالہ ’خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے‘ رقم کیا جو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی برسی پرایک مشہورو معروف اردو روزنامے کے ادارتی صفحے پر شاملِ اشاعت ہوا اور یہاں ہی سے آپکی کالم نگاری کا آعاز ہوا۔

مشہور روزناموں کے خصوصی نمبروں اور اشاعتوں کے علاوہ انہوں نے بعض بہت عالمانہ مقالات بھی لکھے جو معیاری اور مستندعلمی رسائل میں شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بعض مشہور کالم نگاروں کے کالموں میں بہت سی ہمالیائی غلطیوں (تاریخی و واقعاتی) کی نشاندہی بھی اس وقت کی جب یہ کام کسی اور نے نہیں کیا متعلقہ اخباروں نے ان کو بھی شاملِ اشاعت کیا۔گزشتہ چند برسوں سے وہ معروف روزناموںکے ادارتی صفحے پرکالمزبھی لکھ رہے ہیں۔ تہذیب و تمدن کی آئینہ دار تحریروں کے متلاشی لوگوں کے لئے یہ تالیف بہت بڑا خزانہ ہے جسے ہر لائبریری کی زینت بننا چاہیئے۔ کتاب کے ناشرمجلسِ ترقیِ ادب،لاہور،پاکستان ہیں۔270صفحات پرمشتمل اس کتاب کی قیمت 300روپے ہے۔
(مبصر:ڈاکڑبرہان عباس)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔