پاکستان کے پہلے نجی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیداوار شروع

بزنس رپورٹر  منگل 26 مارچ 2013
سستی بجلی کے ساتھ آئل امپورٹ کی مد میں 10 کروڑ ڈالر بچت ہوگی، سی ای او حبکو۔  فوٹو: فائل

سستی بجلی کے ساتھ آئل امپورٹ کی مد میں 10 کروڑ ڈالر بچت ہوگی، سی ای او حبکو۔ فوٹو: فائل

کراچی:  پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہلے نجی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) لاریب انرجی لمیٹڈ کے 84 میگا واٹ نیو بونگ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے اپنے کمرشل آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔

حب پاور کمپنی (حبکو) کی ذیلی کمپنی لاریب انرجی نے 23 مارچ 2013 کو کامیابی سے اپنے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، یہ منصوبہ ہر سال 540 گیگاواٹ آوور (جی ڈبلیو ایچ) گرین انرجی نیشنل گرڈ کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے 25 سالہ پاور پرچیز ایگریمنٹ کے تحت فراہم کرے گا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے حبکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسرظفر اقبال سوبانی نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک کو سستی بجلی اور توانائی کا تحفظ فراہم کرے گا، اس کے دیگر فوائد میں 135000 ٹن آئل امپورٹ کی مد میں 10 کروڑ ڈالر سالانہ سے زائد کی بچت اور کاربن کے اخراج میں کمی شامل ہیں۔

منصوبہ 42 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن یہ 2 ماہ قبل مکمل ہوگیا جبکہ دوسری طرف اوہائیو ریور امریکا پر بننے والے اسی طرح کا191 میگا واٹ کا منصوبہ پاکستانی پراجیکٹ سے ایک سال قبل شروع ہوا مگر اس منصوبے کی پیداوار میں ابھی ایک سال مزید درکار ہے۔

حبکو کی انتظامیہ نے حکومت پاکستان، حکومت جموں وکشمیر، پرائیوٹ پاور اینڈ انفرا اسٹرکچر بورڈ، واپڈا اوراین ٹی ڈی سی کا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں مدد اور تجربہ فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیاہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور قرضہ جات فراہم کرنے والے دیگر ادارے، کثیر الطرفین آئی ڈی بیز، آئی ایف سی، پروپارکو فرانس اور دو مقامی بینکوں این بی پی اور ایچ بی ایل نے اس منصوبے کی دھانچہ سازی اور فنانس دستاویزات کی تیاری میں بے حد مستعد اور تعمیری کردار ادا کیا اور یوں اس اولین منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔