بلاگ کیسے لکھا جائے؟

حامد الرحمان  منگل 13 فروری 2018
ہر وہ شخص جو سوچتا اور سمجھتا ہے، وہ بلاگ لکھ سکتا ہے لیکن چند شرائط پوری کرنا بہرحال ضروری ہے۔ (فوٹو: فائل)

ہر وہ شخص جو سوچتا اور سمجھتا ہے، وہ بلاگ لکھ سکتا ہے لیکن چند شرائط پوری کرنا بہرحال ضروری ہے۔ (فوٹو: فائل)

بلاگ اور مضمون لکھنا کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔ آپ پہلے طے کیجیے کہ کس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں۔ ہر وہ شخص مضمون لکھ سکتا ہے جو سوچ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور دیا ہے اور دنیا میں زیادہ تر انسان سوچ سمجھ رکھتے ہیں۔ اس لیے ہر سمجھدار شخص بلاگ لکھ سکتا ہے۔ بس مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ اپنے خیالات کو الفاظ میں ڈھال کر کاغذ پر کیسے رقم کریں۔

نوآموز لوگوں کی تحریر ناپختہ ہوتی ہے جب کہ تجربہ کار اور ایک عرصے سے لکھنے والوں کی تحریر ہر مضمون کے ساتھ بہتر ہوتی رہتی ہے۔ بلاگ لکھنے کا ایک آسان طریقہ میں شیئر کررہا ہوں۔ آپ اسے ضرور آزمائیے اور کامیابی حاصل ہونے کی صورت میں دوسروں کو بھی سکھائیے۔

بلاگ اور مضمون لکھتے وقت کوشش کیجیے کہ مثبت تحریر لکھیے۔ اچھائی کو فروغ دیجیے اور بدی کا راستہ روکیے۔ ایسی تحریر لکھیے جو معاشرے میں سدھار لائے اور مذہب و ملک کے مفاد میں ہو۔ اگر آپ فاسد خیالات اور نظریات کی ترویج کریں گے تو وہ مضمون لوگوں کو گمراہ کرے گا اور برا مضمون کہلائے گا، چاہے اس کی تحریر کتنی ہی خوبصورت اور پختہ کیوں نہ ہو۔ جس مضمون میں مثبت خیالات پیش کیے جائیں، جذبہ حب الوطنی کو فروغ دیا گیا ہو، مذہب و اخلاقیات سے قریب کیا گیا ہو، تو ایسا مضمون خوبصورت کہلائے گا چاہے اس کی تحریر کتنی ہی ناپختہ کیوں نہ ہو۔

 

ایک اچھا مضمون کسے کہتے ہیں؟

عموماً مضمون کے اچھے یا برے ہونے کے دو معیار ہوتے ہیں: ایک یہ کہ اس مضمون میں کوئی خاص نئی بات بتائی گئی ہو یا نئی سوچ، انوکھا اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہو۔ ایسے مضمون کی تحریر میں اگر پختگی نہ بھی ہو، تب بھی وہ مضمون کے جاندار خیال کی بنیاد پر اچھا مضمون کہلائے گا۔

دوسرا معیار یہ ہے کہ چاہے مضمون میں پرانی روایتی باتیں ہی دوہرائی گئی ہوں، لیکن ایسے دل نشیں اور بہترین الفاظ میں کہ قاری اش اش کر اٹھے اور مضمون سے لطف اندوز ہو۔ میرے نزدیک یہ اچھی تحریر کے دو بنیادی معیارات ہیں۔

میرا معیار تو یہ ہے کہ مضمون کے اچھے یا برا ہونے کا انحصار اس میں پیش کیے گئے خیال اور نظریئے پر ہے، تحریر کی بنیاد پر نہیں۔

 

بلاگ لکھنے کے مراحل

1۔ موضوع کا انتخاب کیجیے

مثلاً کوئی بھی آسان سا موضوع لے لیتے ہیں مثلاً ’’قلم‘‘

2۔ کاغذ کے بیچ ایک بادل یا دائرہ بنادیجیے اور اس کے اندر ’’قلم‘‘ لکھیں

3۔ برین اسٹارمنگ کیجیے (سوچنا شروع کریں)

موضوع سے متعلق جو باتیں ذہن میں آرہی ہیں، انہیں نکات (پوائنٹس) کی شکل میں لکھیے۔

4- جب تمام پوائنٹس نوٹ کرچکیں تو پھر انہیں مکمل جملوں میں تبدیل کیجیے۔ جو جملے میرے ذہن میں آرہے ہیں وہ میں یہاں لکھ دیتا ہوں۔

  • قلم مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتے ہیں۔
  • قلم میں لکھنے کےلیے سیاہی استعمال ہوتی ہے۔
  • سیاہی کو روشنائی بھی کہا جاتا ہے جو کئی رنگوں بشمول نیلا، سیاہ اور لال رنگ میں دستیاب ہوتی ہے۔
  • قلم بنیادی طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں: انک پین اور بال پین۔
  • بال پین کو ایک بار استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے جب کہ انک پین میں بار بار سیاہی بھر کر طویل عرصے تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  • بال پین کی نب میں ایک ننھی بال (گیند) لگی ہوتی ہے جو لکھنے کے ساتھ ساتھ گھومتی رہتی ہے اور اپنے ساتھ روشنائی باہر نکالتی ہے جو حروف کی شکل میں کاغذ پر رقم ہوتی رہتی ہے۔
  • قلم عظیم شئے ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کئی مقامات پر اس کا ذکر کیا ہے جب کہ قرآنِ حکیم کی 68 ویں سورہ مبارکہ کا نام بھی ’’القلم‘‘ ہے۔

آپ جن نکات کے جملے بنارہے ہیں، انہیں نشان زد کرتے رہیے۔

تمام نکات کو جملوں میں تبدیل کرنے کے بعد ترتیب دیجیے کہ کون سا جملہ پہلے اور کون سا بعد میں آنا چاہیے۔

مضمون بڑا ہے تو پیراگراف ضرور بنائیے، اس سے پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ مضمون کی پروف ریڈنگ کرکے غلطیاں درست کیجیے۔ کسی لفظ کا بہتر متبادل ہو تو وہ لکھ دیجیے۔

لیجیے! آپ کا مضمون تیار ہے۔

کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے جملوں کو ترتیب دیتے وقت اوپر نیچے لانا آسان ہوگا، لیکن اگر ہاتھ سے لکھ رہے ہوں تو نکات کو جملوں میں تبدیل کرتے وقت بھی ترتیب کا خیال رکھ سکتے ہیں۔

جو شخص سوچ سکتا ہے، وہ لکھ سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں میں کسی بھی وقت اور جگہ کوئی نادر خیال اور آئیڈیا آجاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسے فورا نوٹ کرلیں۔ کاغذ پنسل نہیں تو ہم موبائل فون میں بھی پوائنٹس نوٹ کرسکتے ہیں۔ ورنہ بھولنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

 

تحریر اور خیالات میں بہتری لانے کا طریقہ

تحریر اور خیالات میں بہتری لانے کا طریقہ ہے ’’زیادہ سے زیادہ مطالعہ‘‘ جس سے آپ کی سوچ وسیع ہوگی اور پختگی آئے گی۔ ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوگا اور خیالات کو الفاظ میں ڈھالنے میں آسانی رہے گی۔ مطالعے کے علاوہ ذاتی تجربہ اور مشاہدہ بھی خیالات میں بہتری لاتا ہے۔ زندگی کے تجربات و واقعات سے انسان بہت سیکھتا ہے۔ اگر آپ کا ذخیرہ الفاظ وسیع ہوگا تو آپ اپنے خیالات، جذبات اور محسوسات کو بہ آسانی ضبط تحریر میں لے کر دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی بات بیان کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں لیکن موزوں الفاظ نہیں ملتے کیونکہ ہمارا ذخیرہ الفاظ کم ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اردو انگریزی کی کشمکش سے یہ نقصان ہوا ہے کہ ہم اردو کے رہے نہ انگریزی کے: ’’نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے۔‘‘ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں۔

دنیا کے متعدد ممالک میں قومی زبان ہی دفتری و سرکاری زبان ہے۔ اردو کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے خود عدالتی فیصلے انگریزی میں جاری ہوتے ہیں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی اس صورتحال کو ختم کرکے کوئی ایک زبان مکمل طور پر رائج کردینی چاہیے۔

یہ طریقہ کار مجھ جیسے نوآموز لوگوں کےلیے ہے۔ جبکہ تجربہ کار اور مستقل لکھنے والوں کو اس عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان پر خیالات کی آمد ہوتی ہے، وہ قلم اٹھاتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں۔ مسلسل لکھتے رہنے سے وہ اس کام میں ماہر ہوجاتے ہیں۔

بار بار مشق کرنے سے کسی بھی کام میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔ انگریزی کا مشہور محاورہ ہے Practice Makes Perfect یعنی جتنی مشق کریں گے، اتنے ہی ماہر ہوتے چلے جائیں گے۔

لہذا مضمون اور بلاگ لکھنے کی مسلسل مشق کرتے رہیے۔ ہر کوشش کے ساتھ آپ کی تحریر بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی اور ایک وقت آئے گا جب آپ کو اس طریقہ کار کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ بس قلم اٹھائیں گے اور لکھتے چلے جائیں گے۔ یہ طریقہ کار کئی جگہوں پر آپ کے کام آسکتا ہے۔ یہاں تک کہ امتحانات میں بھی آپ اس سے مدد لے سکتے ہیں جبکہ مختلف موضوعات پر لکھنے کےلیے بھی یہ طریقہ کارگر اور آزمودہ ہے۔

 

بلاگ ناقابل اشاعت ہو تو دل برداشتہ نہ ہوں

اگر آپ کی تحریر معیار پر پوری نہیں اتر رہی ہے اور ناقابل اشاعت قرار دے کر مسترد کی جارہی ہے، تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے جس نے مرکزی میڈیا کی اجارہ داری ختم کردی ہے۔ آپ فیس بک پر یا بلاگ سائٹ بنا کر بھی اپنی تحریر لکھ سکتے ہیں۔ فیس بک پر پیج بنا سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کو اپنی تحریر مسترد ہونے کا خوف نہیں رہے گا اور آپ دل شکستہ بھی نہیں ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حامد الرحمان

حامد الرحمان

بلاگر سینئر صحافی ہیں اور ایکسپریس نیوز کی ویب سائٹ سے بطور ویب پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ قبل ازیں آپ دیگر معروف اشاعتی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں؛ اور شعبہ ابلاغ عامہ سے فارغ التحصیل ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔