سوتا ہوا جن

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 31 جنوری 2018

امریکا کے ولیم کا لج میں موجود ایک کتبے پر لکھا ہے ’’اوپر چڑھو، آگے بڑھو، تمہاری منزل آسمان ہے ستارے چھولو‘‘ پیٹر گیبرئیل نے اپنے کیرئیر کاآغاز ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیا تھا، بیٹ مین، رین مین اور مڈ نائٹ ایکسپریس جیسی فلمیں ڈائریکٹ کرکے اس نے اپنا لوہا منوا رکھا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران اس نے بتایاکہ 1979ء میں میرا ارادہ بیٹ مین شروع کرنے کا تھا میں نے جس کسی سے بھی اس پروجیکٹ کا ذکرکیا اس نے میری حوصلہ شکنی کی۔ مجھے کہا گیا کہ یہ بچوں کا کردار ہے اسے ہرکوئی جانتا ہے لوگ کچھ اور ڈیمانڈ کرتے ہیں وغیرہ۔ لیکن مجھے یقین کامل تھا کہ یہ فلم کامیاب ہو گی میں مستقل مزاجی سے اس فلم کے پیچھے پڑا رہا اور آخر کار میں 1988ء میں یہ فلم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ میری اور میرے ساتھیوں کی محنت رنگ لائی اور فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔ میری دوسری فلم ’’رین مین‘‘ تھی فلم کے اسکرپٹ کو 5 رائٹروں نے دیکھا اور رد کر دیا یہاں تک کہ اسیٹون اسپیل برگ نے بھی مجھے مشورہ دیا کہ میں وقت اور پیسہ برباد نہ کروں۔

مجھے کہا گیا کہ لوگ اب مار دھاڑ، ایکشن اور سیکس کی ڈیمانڈکرتے ہیں تمہاری فلم میں باہمی تعلقات کی بات ہے تو اسے لوگوں نے کیا کرنا ہے مگر میں نے یہ ماننے سے انکارکردیا اور اسکرپٹ بدلنے یا فلم کو ختم کرنے سے انکارکر دیا۔ 1988ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے 4 آسکر ایوارڈ حاصل کیے تھے یہاں نیا آئیڈیا بہت کم کامیاب ہوتا ہے اور ناکامی کی صورت میں آپ کا کیرئیر تک ختم ہو جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا ’’توکیا آپ کو ڈر نہیں لگتا‘‘ پیٹرگیبرئیل کا جواب تھا ’’ڈر اورخوف مجھے مزید کام پر اکساتا ہے اور میں نت نئے منصوبے بنا تا ہوں ایسے ماحول میں کام کرنے کا مجھے مزا آتا ہے۔‘‘

ہم سب جب چھوٹے بچے تھے، ہمارے کچھ خواب تھے، ارمان تھے، ہم سب ایک خیالی دنیا میں رہتے تھے لیکن پھر سب کچھ جیسے وقت نے بدل کر رکھ دیا ہم ایک الگ دنیا میں آگئے یہ دنیا تھی مسائل کی،آزمائشوں کی نت نئی تکالیف کی۔ وہ خواب آہستہ آہستہ معدوم ہو گئے کہیں جا کر چھپ گئے یقین ہے آپ اپنے خواب بھولے نہیں ہونگے ذرا ذہن پر زور دیں یہ ذہن کے کسی کونے سے اچانک نمودار ہو جائیں گے اور چلا چلا کر کہیں گے ہم یہاں ہیں ہم یہاں ہیں۔آئیں ہم سب اپنے بچپن کے خوابوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ یقین جانیے آپ کے یہ خواب اب بھی پورے ہو سکتے ہیں آپ ایک بچے کی طرح سے دوبارہ خیالی دنیا میں چلے جائیں سوچیں کہ آپ ان دنوں کیا چاہتے تھے۔

کارل سینڈ برگ کہتا ہے ’’سب کچھ ایک خواب سے شروع ہوتا ہے‘‘ آج آپ کو جو ساری دنیا میں ترقی نظر آرہی ہے کیا یہ سب ایک خواب نہ تھے جو سب پورے ہوگئے اگر قدیم زمانے کاانسان آج کے دور میں دوبارہ پیدا ہوجائے تو کیا وہ سب کچھ دیکھ کر پاگل نہیں ہو جائے گا۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ کوئی خواب ایسا نہیں جو حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ آپ کو بھی میری طرح الف لیلہ کے قصے بہت پسند ہوں گے مجھے آج بھی الہٰ دین کا چراغ پڑھنے میں بہت مزا آیا ہے تین دفعہ چراغ رگڑنے سے ایک طاقتور جن حاضر ہوتا ہے الہ دین سے اس کی تین خواہشیں پوچھتا ہے اور انھیں فوراً پوری کر دیتا ہے جی ہاں تین خواہشیں ایک وقت میں۔ جب کہ آپ کے اندر ایک ایسا جن چھپا بیٹھا ہے جو آپ کی ہر خواہش پوری کر سکتا ہے اور ہر وقت کر سکتا ہے تین نہیں بلکہ لاتعداد خواہشیں، ان گنت خواہشیں پوری کرسکتا ہے۔

بس ہمیں اسے نیند سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے اسے جگانے کی ضرورت ہے وہ ہماری کاہلی ،نااہلی، سستی کی وجہ سے سوگیا ہے۔ بس اسے جگانے کی ضرورت ہے پھر دیکھیں وہ کس طرح آپ کی ہر خواہش اور ہر خواب کو پورا کرتا ہے آپ خواہشیں کرکر کے تھک جائیں لیکن وہ انھیں پورا کر کر کے نہیں تھکے گا۔ لیکن اگر آپ نے اسے سوتے ہی رہنے دینے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے آرام میں خلل نہ دینے کا سو چ ہی لیا ہے تو پھر آپ کے سارے خواب اور خواہشیں آپ کے ساتھ ہی مر جائیں گی اور ایک کامیاب، خو شحال اور نامور آدمی آ پ کے اندر سے برآمد ہوئے بغیر ہی دنیا سے آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔

یاد رکھیں پھرآپ اکیلے دفن نہیں ہونگے بلکہ آپ کے ساتھ ہی ساتھ دنیا کا ایک کامیاب، خوشحال اور نامور آدمی بھی دفن ہو گا اورجس کی موت کی ساری کی ساری ذمے داری آپ پرعائد ہوگی، ہوسکتا ہے کہ آپ کو دیگر سوالوں کی طرح اس سوال کا بھی جواب دینا پڑجائے، اگرآپ نے اس بات کا تہیہ ہی کر لیا ہے کہ آپ کے گھر والے، دوست، ساتھی، پڑوسی، جاننے والے آپ کے جانے کے بعد آپ کو ایک ناکام آدمی کے طور پر یاد رکھیں اور آپ کو سارا وقت کوستے رہیں تو پھر آپ کی مرضی۔ یاد رہے غریب پیدا ہونا جر م نہیں لیکن غریب مرنا جرم ہے اور بدقسمتی سے ہماری اکثریت مرتے وقت مجرم ہوتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔