خبریت، رپورٹنگ اور تجزیہ

مقتدا منصور  جمعرات 1 فروری 2018
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

گذشتہ کئی برسوں سے عوام و خواص میں ذرایع ابلاغ کا کردار زیر بحث چلا آرہا تھا، لیکن قصور کی بچی زینب کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے کیس کے بارے میں ایک معروف اینکر نے ذرایع ابلاغ کی معتبریت کے بارے میں مختلف نوعیت کے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا مذکورہ اینکر نے محض اپنی شان بڑھانے کی خواہش میں یا کسی مخصوص حلقے کے اشارے پر سنسنی اور ذہنی ہیجان پھیلا کر ذرائع ابلاغ کی حیثیت کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے؟

البتہ یہ طے ہے کہ اس قسم کے ایڈونچر نے معتبریت کے بحران میں پہلے سے مبتلا ذرایع ابلاغ کے لیے نئے مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ اپنی بات قارئین تک پہنچانے کے لیے ایک بار پھر ان واقعات کو دہرانا چاہیں گے، جو کئی بار ان صفحات پر شایع ہوچکے ہیں۔

بھارت کی تیسری وزیراعظم اندرا گاندھی پر ان کے محافظین نے 31 اکتوبر 1984 کو قاتلانہ حملہ کیا۔ دنیا بھر کے سبھی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینل ان کی موت کی خبر نشر کررہے تھے۔ جب کہ BBC پر اگلے 10 منٹ تک یہ خبر چلتی رہی کہ:  Indian Prime Minister Mrs. Indra Gandhi is severely injured in an attack by her guards but still alive.  ۔ جب BBC کے میڈیا منیجرز نے رپورٹر سے استفسار کیا کہ وہ کیا وجہ تھی کہ ہمارے چینل پر موت کی خبر 10 منٹ تاخیر سے نشر ہوئی، تو رپورٹر کا کہنا تھا کہ ’’دیگر چینلوں کے رپورٹرز نے اسپتال کے مختلف عملے سے معلومات حاصل کی تھیں، جب کہ میں نے آپریشن تھیٹر سے نکلنے والے ایک ڈاکٹر سے پوچھا تھا تو اس کا درج بالا جواب تھا۔ اب یہ میری پیشہ ورانہ ذمے داری تھی کہ جب تک آپریشن تھیٹر سے برآمد ہونے والا کوئی ڈاکٹر ان کی موت کی تصدیق نہیں کرتا، میں افواہوں کی بنیاد پر خبر جاری نہ کروں‘‘۔

دوسرا واقعہ بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں ہونے والے تاریخ کے بدترین مسلم کش فسادات سے متعلق ہے۔ 27 فروری 2002 کو ایک ٹرین ایودھیہ سے احمدآباد جارہی تھی۔ جب ٹرین گودھرا اسٹیشن پر پہنچی تو اس کے تین ڈبوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ وجے کمار نامی ایک نوجوان رپورٹر، جو گجراتی زبان کے ایک اخبار اور ٹیلی ویژن چینل کے لیے کام کرتا تھا، اس کی رپورٹ کے بعض جملوں نے پوری گجرات ریاست کو تاریخ کے بدترین مسلم کش فسادات میں دھکیل دیا۔ جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوئے، کئی دوشیزاؤں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، جب کہ اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا۔

وجے کمار نے اپنے چینل کو رپورٹ دیتے ہوئے بعض غیر ضروری جملے کہے۔ اس نے کہا ’’ایک ٹرین ایودھیہ سے آرہی تھی، جس میں کارسیوک (زائرین) سفر کررہے تھے (حالانکہ وہ بہت کم تعداد میں تھے)۔ ٹرین کے تین ڈبوں میں گودھرا اسٹیشن پہنچتے ہی آگ لگ گئی۔ اسٹیشن کے قریب مسلمانوں کی بستی ہے‘‘۔ اس رپورٹ سے پورے گجرات میں یہ تاثر گیا کہ ٹرین کو آگ گودھرا کے مسلمانوں نے لگائی، جب کہ عدالتی تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی۔ خود بھارت کے ذمے دار صحافی اس پہلو پر متفق ہیں کہ اگر غیر ذمے دارانہ رپورٹنگ سے گریز کیا جاتا تو اتنے بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات سے بچا جاسکتا تھا۔

تیسرا واقعہ یہ ہے کہ جولائی 2006 میں ممبئی کی لوکل ٹرین میں بم دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے صرف چند منٹوں کے اندر کئی ٹیلی ویژن چینلوں نے تسلسل کے ساتھ یہ الزام عائد کرنا شروع کردیا کہ یہ دھماکے پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے کرائے ہیں۔ اسی برس نومبر میں جب راقم کا Role of Media in Conflict Resolution کے موضوع پر سیمینار میں شرکت کے لیے دہلی جانا ہوا، تو دہلی پریس کلب میں یہ سوال اٹھایا کہ جب تک آپ کی پولیس سمیت دیگر خفیہ ایجنسیاں ان دھماکوں کے پس پشت عناصر کا تعین نہیں کر چکی تھیں، میڈیا نے کن بنیادوں پر ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا؟ ان صحافیوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

چوتھا واقعہ لاڑکانہ کے قریب ایک گاؤں کا ہے، جہاں ایک خاتون میں HIV کی علامتوں کا انکشاف ہوا۔ ایک سندھی اخبار کے رپورٹر نے خاتون کے HIV پازیٹو ہونے کے ساتھ خاتون کا نام اور محلہ بھی خبر میں شامل کردیا جو شایع ہوگیا۔ علاقے کے لوگوں نے اس خاتون کو گاؤں بدر کردیا۔ کیونکہ HIV/AIDS کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ اس کی وجہ بدکاری ہے، جب کہ اس کے شوہر کی موت HIV/AIDS کے باعث ہوئی تھی۔ حالانکہ جدید تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ HIV/AIDS متاثرہ خون کی منتقلی کے باعث پھیلتا ہے۔ غیر ذمے دارانہ رپورٹنگ کا نقصان خاتون کو اٹھانا پڑا۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ میڈیا کا کام سنسنی پھیلانا نہیں، بلکہ عوام کو باخبر کرنا ہوتا ہے۔ عوام تک خبر پہنچانے کے لیے رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری کے کچھ مروجہ اصول ہیں، جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔ پہلا اصول: خبر کی درستی (Accuracy)کا یقین کرنا ہے۔ رپورٹر اور تجزیہ نگار کی کلیدی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ موصولہ خبر کی مختلف ذرایع سے تحقیق کرنے کے بعد اپنے ادارے کو بھیجیں یا اس پر تبصرہ کریں۔ ساتھ ہی خبر کو اپنی ذاتی خواہش، مفاد یا عصبیت کی بنیاد پر توڑنے مروڑنے اور من گھڑت تصورات شامل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

توازن (Balance): خبر کا متوازن ہونا ایک اور اہم شرط ہے۔ ایک متوازن خبر وہ ہوتی ہے، جو عقیدے، صنفی اور نسلی و لسانی امتیازات سے پاک ہو اور جس کی ایک سے زائد ذرایع سے تصدیق کی جا چکی ہو۔تناظر Context، خبر میں دی گئی معلومات اور اعداد و شمار درست اور حقائق کے مطابق ہونا چاہئیں۔ کسی علاقے کے بارے میں خبر دینے والے رپورٹر یا تجزیہ کرنے والے تجزیہ نگار کو اس مقامی، علاقائی یا بین الاقوامی معاملہ کے بارے میں مکمل معلومات ہونا چاہئیں۔ محض قیاس آرائی کی بنیاد پر کسی واقعہ پر سطحی رپورٹ یا غلط اعدادوشمار پر مبنی جائزہ کنفیوژن اور غلط فہمیوں کو پروان چڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

ہم یہ بات تسلسل کے ساتھ لکھتے رہے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا کے اعتبار کو تین باتوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ اول: ریٹنگ کی دوڑ، دوئم: صحافتی اقدار اور خبریت کی اہمیت (News Value) کے بارے میں معلومات نہ رکھنے والے افراد کی بطور نیوز ریڈر تقرری۔ جب کہ سیاسی تاریخ اور علاقائی ثقافتی اقدار سے عدم واقفیت رکھنے والے افراد کو حالات حاضرہ کے پروگراموں میں بطور میزبان ذمے داری تھما دی گئی ہے۔ سوئم: میزبانی کے فرائض انجام دینے والوں (اینکرز) کا خود کو عقل کل اور منصب عدل پر فروکش جج سمجھنا ہے۔ وہ مہمان سے سوال کرنے اور اس کا نقطہ نظر جاننے کے بجائے اس پر اپنی رائے تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر عدلیہ کی طرح اس کا ٹرائل شروع کردیتے ہیں۔

یہی کچھ معاملہ ان مہمانوں کا ہے، جنھیں سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگار قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملکی اور عالمی سیاسی منظرنامہ اور سیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھتا ہو اور زیر بحث کسی معاملہ کے بارے میں وسیع معلومات رکھتا ہو۔ اسی طرح Strategic Studies ایک علیحدہ مضمون ہے۔ اس کا ماہر ہی دفاعی تجزیہ نگار کہلانے کا حق رکھتا ہے۔

ایک اور خرابی جس کی مسلسل نشاندہی کی جاتی رہی ہے، مگر اس پر دھیان نہیں دیا جارہا، وہ یہ کہ ملک کی سیاسی، دفاعی اور معاشی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے افراد صرف لاہور اور اسلام آباد ہی میں نہیں بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی موجود ہیں۔ان کو بھی آگے آنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ خدا کرے کہ حالیہ واقعہ میڈیا منیجرز کی آنکھیں کھولنے کا باعث بن جائے اور وہ اپنی محدود سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر وسیع تر قومی مفاد میں سوچنے کے قابل ہوسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔