پاکستان میں 2لاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں، ماہرین طب

اسٹاف رپورٹر  بدھ 27 مارچ 2013
سرجری سے مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی میں سیمینار سے پروفیسر مسعود حمید ودیگر کا خطاب فوٹو : فائل

سرجری سے مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی میں سیمینار سے پروفیسر مسعود حمید ودیگر کا خطاب فوٹو : فائل

کراچی:  ماہرین طب نے کہا ہے کہ مرگی کا دورہ دماغ میں کیمیائی تبدیلی اوربرقی خلل کی وجہ سے پڑتا ہے۔

جو پورے جسم پر اثر انداز ہوتاہے، مختلف مریضوں میں یہ دورے مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں، پاکستان میں مرگی عموماً پیدائش کے عمل میں ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث لاحق ہوتا ہے، ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دولاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں جس میں سے 50 ہزارمریض علاج کرارہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں مرگی کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا ، اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اختر احمدکوگراں قدر خدمات پر پیشہ وارانہ حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان نے اس بیماری کی تحقیق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرگی کے مرض کو ا کثر جادو ٹونا یا مذہبی جنون سمجھا جاتا ہے ، مرگی کے مریضوں کوآسیب زدہ یا مجذوب کہا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے اس بیماری کے حوالے سے آگاہی کی کمی کے باعث بہت سے توہمات نے جنم لیا ہے جن میں مرگی کو ذہنی معذوری یا جادو سے تشبیہ دی جاتی ہے اور ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جن میں مرگی کے مریضوں کو باندھ دیا جاتا ہے یا زدوکوب کیا جاتا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ یہ مرض قابل علاج ہے اور عوام میں اس بیماری کے بارے میں مکمل آگاہی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس بیماری سے متعلق جو توہمات ہیں انھیں دور کیا جاسکے، اس موقع پر ڈائریکٹر پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر سیلم الیاس نے کہا کہ پاکستان میں مرگی کا پھیلاؤ ایک فیصد ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دولاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں جس میں سے 50 ہزار اس کا علاج کرارہے ہیں، مرگی کے علاج کے لیے کئی طریقہ کار موجود ہیں اور اس کے ستر فیصدکیسز کو مناسب تشخیص اور علاج کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، وہ مریض جن کا مرض دوائیوں کے ذریعے قابو میںنہ آئے۔

ان کے لیے سرجری کا طریقہ موجود ہے، سرجری کے ذریعے مرگی کے علاج کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اس عمل میں سرجری کے ذریعے دماغ کے ان حصوں کو نکال دیا جاتا ہے جو اکثر دوروں کا سبب بنتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔