انتخابی دوراہے پر

محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ  جمعرات 28 مارچ 2013
03332257239@hotmail.com

[email protected]

بچپن میں پی ٹی وی پر ’’دوراہا‘‘ نامی ایک پاکستانی فلم دیکھی تھی۔ خوب صورت اداکاری اور عمدہ گانوں پر مبنی فلم تو دیکھ لی لیکن اس کے نام کے مطلب سے بے خبر تھے۔ ذرا بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ دوراہا ایک کشمکش کو کہتے ہیں۔ وہ کشمکش جب کسی کے سامنے دو راستے ہوں اور اسے ان میں سے کسی ایک کو چننا ہو۔ جماعت اسلامی بھی انتخابی دوراہے پر آ گئی ہے۔ اس کی قیادت کو نواز شریف اور عمران خان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔

جماعت اسلامی کی ایک خوبی اور ایک خامی بیان کرنے کے بعد دیکھیں گے کہ یہ پارٹی کس طرح چوراہے سے دوراہے پر آئی ہے۔ چار میں سے دو راستے پر آنے والی جماعت، پاکستان کی سب سے منظم سیاسی قوت ہے۔ ہر حلقے میں دفاتر اور مخلص و تربیت یافتہ کارکنان کی ٹیم کسی بھی حلیف کو اسمبلی میں پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگوں کی یہ پارٹی اپنی عمر کے آٹھویں عشرے میں داخل ہو گئی ہے۔

پارٹی میں انتخابی نظام، شورائیت اور دستوری تقاضوں کو نبھاتی یہ جماعت عجیب و غریب تاریخ رکھتی ہے۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، جعلی ڈگریوں، کرپشن اور دوہری شہریت سے پاک یہ پارٹی اب تک پاکستانیوں کی اکثریت کے دلوں پر دستک نہیں دے سکی ہے۔ یہی اس کی خامی ہے۔ ہر انتخابی حلقے میں دو سے بیس ہزار ووٹ کامیابی نہیں دلا سکتے۔ زبردست مقابلے کی صورت میں یہ جس کے ساتھ ہوں وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ یوں بکھرے ہوئے ووٹ بینک کے ساتھ جماعت کسی مقبول پارٹی کی اتحادی بننا چاہتی ہے۔ چند ہزار ووٹ، چند سو مخلص کارکنان اور چند درجن انتخابی دفاتر کے بدلے ہر دلعزیز پارٹیاں جماعت کو اپنے اندر سمونا چاہتی ہیں۔ جماعت کے انتخابی دوراہے پر گفتگو سے قبل ہم ان تین راستوں پر گفتگو کریں گے جن کے جدا جدا نقش قدم تاریخ کا حصہ ہیں۔ چوتھا راستہ بالکل نیا اور انوکھا ہو سکتا ہے یعنی عمران خان سے اتحاد۔

70ء کے انتخابات تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھے۔ کسی نے اپنی سیاسی قوت آزمائی نہیں تھی۔ یوں غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں نے حقیقت کی دنیا میں آنے میں مدد دی۔ اس تجربے کے بعد بیس برسوں تک جماعت نے اتحادی سیاست میں رہ کر اپنا مقام بنانے کی کوشش کی۔ 77ء میں بھٹو کے خلاف بننے والے نو جماعتی اتحاد میں جماعت کا حصہ پچیس فیصد تھا۔ سب سے زیادہ ووٹ کا اعزاز سید منور حسن کو حاصل رہا۔ جنرل ضیاء کے اقتدار کے بعد قومی اتحاد ٹوٹ گیا۔ 85ء کے غیر جماعتی انتخاب میں جماعت نے حصہ لیا لیکن یہاں کسی پارٹی کا کوئی نام نہ تھا صرف امیدوار تھے۔ بے نظیر کے مقابل بننے والے اتحاد سے جماعت نے 88ء میں حصہ لیا۔ آئی جے آئی کے پلیٹ فارم ہی سے سن 90ء میں شرکت کی۔ نواز شریف تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن جماعت اقتدار کے سر چشمے پر آ کر بھی حکومتی فیض سے سیراب نہ ہوئی۔

قاضی حسین احمد اور نواز شریف کی شخصیات ٹکرا گئیں۔ جماعت نے 93ء میں پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے تنہا پرواز کی۔ یہ تجربہ بھی سن 70ء کے انتخابات کی طرح ناکام رہا۔ بے نظیر بھٹو حکومت بنانے میں کامیاب رہیں۔ نواز شریف کی شکست کا الزام قاضی صاحب پر لگایا گیا۔ پچاس سے زائد حلقوں میں لیگ کے امیدوار چند ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ یہی ووٹ جماعت کے امیدواروں کو ملے۔ منور حسن صاحب نے کہا کہ اگر ہم اتنے ہی اہم ہیں کہ ہماری بدولت حکومت مل سکتی ہے یا حکومت جا سکتی ہے تو ہمیں اہمیت بھی اسی قدر دی جائے۔

تنہا پرواز اور اتحادی سیاست کے علاوہ جماعت نے تیسرا راستہ 97ء میں اختیار کیا۔ جماعت نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کے مایوس کارکنان باہر نہ نکلے اور دائیں بازو کے ووٹ نواز شریف لے گئے۔ یوں دو تہائی اکثریت سے وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ دو سال بعد مشرف اقتدار پر قابض ہو گئے۔ نئی صدی شروع ہو گئی۔ جماعت نے ایک بار پھر اتحادی سیاست میں بہتر نتیجہ دیکھا۔ مذہبی پارٹیوں کے اتحاد نے 2002ء میں دو چھوٹے صوبوں میں حکومت بنا لی۔ دیگر اتحادیوں کی طرح ایم ایم اے بھی آگے نہ چل سکا۔ مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کی خواہش کے درجے میں قاضی حسین اور فضل الرحمٰن میں بڑا فرق تھا۔ اس فرق نے راہیں تو جدا کر دی تھیں لیکن ایک اور واقعے کے سبب انتخابی فیصلے بھی جدا جدا ہوئے۔

نوازشریف کی میزبانی میں مشرف کے خلاف اجلاس نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کو نہ ماننے کا پہلے ہی اعلان کر دیا تھا۔ نواز شریف کی یقین دہانی پر جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور بلوچستان کی قوم پرست پارٹیاں ڈٹ گئیں۔ رائے ونڈ نے فیصلہ بدل کر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ یوں بائیکاٹ کرنے والی پارٹیاں میاں صاحب نواز شریف کا منہ تکتی رہ گئیں۔ اس طرح جماعت نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ تنہا پرواز، اتحادی سیاست اور بائیکاٹ کے بعد جماعت اب چوتھے راستے پر چلنے جا رہی ہے۔ راستہ تو چوتھا ہے لیکن دو شخصیات اور دو پارٹیوں کے درمیان کسی ایک کو چننے نے اسے جماعت کے لیے دوراہے کی حیثیت دے دی ہے۔

چوتھا راستہ کیا ہے؟ اپنے نام، اپنے جھنڈے اور اپنے نشان پر انتخاب لیکن سیاسی مفاہمت کے ساتھ۔ اب سوال یہ ہے کہ جماعت کس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرے؟ نواز شریف اور عمران خان۔ یہ بھی دو شخصیات اور دو پارٹیاں جن کے درمیان انتخاب کو ہم نے جماعت کا دوراہا قرار دیا ہے۔ ایک طرف شریف برادران سے خوشگوار اور تلخ یادیں ہیں تو دوسری طرف تحریک انصاف سے اب تک کسی تجربے سے نہیں گزرا گیا۔ تلخ یادوں کا دوہرایا جانا شاید اس دوراہے پر فیصلہ کرنے میں مفید ثابت ہو۔

قاضی حسین احمد 87ء میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے اور ایک سال بعد ان کا انتخابی اتحاد نواز شریف سے ہوا۔ آئی جے آئی میں دونوں کے پہلے دو سال اطمینان سے گزرے کہ وفاق میں بے نظیر اور پنجاب میں نواز شریف برسر اقتدار تھے۔ جب 90ء میں انھیں وزیر اعظم بننے کا موقع ملا تو تلخیاں بڑھتی گئیں۔ رائے ونڈ نے اتحاد کے لیے ’’عزیز آباد‘‘ اور ’’چارسدہ‘‘ کو چنا۔ منصورہ اقتدار سے باہر رہا اور مشاورت سے بھی دور۔ یہی تلخی 93ء میں اسلامک فرنٹ کے قیام اور تنہا پرواز کا سبب بنی۔ قاضی صاحب کا رائے ونڈ کے محلات کا پروپیگنڈہ تاریخ کا حصہ ہے۔ واجپائی کی پاکستان آمد پر جماعت کے مظاہرین پر تشدد کو جماعت کے کارکنان اب تک نہیں بھولے۔ آخر میں تلخی آخری انتخابات کے حوالے سے ہے۔ جب دوسروں کو بائیکاٹ کروا کر نواز شریف انتخابات میں کود پڑے۔

نواز شریف کے حوالے سے ایک طرف یہ تلخیاں ہیں تو دوسری طرف عمران خان کی باتیں۔ اسلامی انقلاب کے نعرے یعنی ’’اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں‘‘ ، انصاف، فلاحی معاشرہ، کرپشن سے دوری، پاکستانی کی دولت پاکستان میں۔ یہ نعرے جماعت کے کارکنان کے نعرے ہیں جو جدید انداز میں عمران کی زبان سے نکل رہے ہیں۔ یوں واقعی جماعت کی قیادت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف نواز شریف سے تلخیاں ہیں تو دوسری طرف عمران کی شیریں باتیں اور اجنبیت۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ واقعی جماعت اسلامی کی قیادت ایک دوراہے پر۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔