ہیروئن کی کاشت سے جنگ میں شکست تک

موسیٰ غنی  ہفتہ 10 فروری 2018
طالبان کی حکومت نے افیون اور ہیروئن کی کاشت پر سخت پابندی عائد کردی تھی۔
فوٹو: انٹرنیٹ

طالبان کی حکومت نے افیون اور ہیروئن کی کاشت پر سخت پابندی عائد کردی تھی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

افغانستان میں امریکی جارحیت کے اٹھارہ سال ہونے کو ہیں لیکن امریکہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ نہ ان سے طالبان کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی افغانستان سے ہیروئن کی کاشت کو ختم کیا جاسکا، بلکہ افغانستان میں ہیروئن کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ القاعدہ کے نام پر افغانستان میں داخل ہونے والی سپر پاور آج منہ چھپانے پر مجبور ہیں۔ افغانستان کے پہاڑوں میں ہزاروں فوجیوں کی ہلاکت ہو یا غیر معمولی جنگ میں امریکی رسوائی، اس کی کڑی یہیں سے ملتی ہے جو سپر پاور ہیروئن کی کاشت ختم نہ کراسکے۔ جو اٹھارہ سال میں طالبان اور القاعدہ ختم نہ کرسکے کیا وہ سپر پاور کہلانے کے لائق ہیں بھی یا نہیں؟ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں داخل سوویت یونین ہو یا روس کی شکست اور اب امریکی خواب، یہ اسی طرح ہے جیسے بلی کے خواب میں چھیچھڑے۔

دنیا کی 85 فیصد ہیروئن کی کاشت آج بھی افغانستان میں ہوتی ہے، اس کو ختم نہ کرپانے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس میں مفاد ہے تو صرف امریکہ کا، کیوں کہ وہ اس کی کاشت کو پھیلانے کی اجازت دیتا ہے۔ ورنہ سابقہ افغان حکومت یا آپ اس کو طالبان کی حکومت کہیں تو اس نے افیون اور ہیروئن کی کاشت پر سخت پابندی عائد کردی تھی، جس کے باعث عالمی دنیا میں اس کی مانگ میں بے تحاشا اضافہ ہوا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں آپ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں، امریکہ ہی کے کارنامے نظر آتے ہیں۔ افغانستان میں ناکامی کا ملبہ جس طرح پاکستان پر ڈالا گیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ کل کے اتحادی آج ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی شکست کچھ اس انداز میں ہے۔

پہلا دور 1979 سے 1992 کا ہے۔ اس میں امریکی فوج خود افغانوں اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روسیوں سے لڑی۔ اگرچہ اس میں اس کے فوجیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس کا اسلحہ اور ٹریننگ کسی نہ کسی حوالے سے اس میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔ اس دور میں افغانوں نے ریکارڈ افیون کاشت کی اور پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ امریکہ، پاکستان اور ان کے اتحادیوں نے اس بات کی کوئی پروا نہیں کی۔ پاکستان میں اس سے پہلے ہیروئن کے عادی زیرو تھے، لیکن نوے تک ان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوچکی تھی۔ پوری دنیا کی ساٹھ فی صد سے زیادہ ہیروئن افغانستان میں پیدا ہوتی تھی۔ وہاں سے افیم بنتی اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اس کی درجنوں فیکٹریاں سرے عام قائم تھیں۔ ان میں متعدد فیکٹریاں حکمت یار کی ملکیت تھیں جو امریکا اور پاکستان دونوں کی ایجنسیوں کی آنکھ کا تارا تھا۔ یعنی اس دور میں افغان وار کو سب سے زیادہ مالی سہارا ہیروئن کی دولت سے ملا۔ اس کی طرف پوری دنیا نے آنکھیں بند ہی نہیں رکھیں بلکہ اس کی مکمل حوصلہ افزائی کی اور ہر سطح کے لوگوں نے اس سے اپنا اپنا حصہ بھی وصول کیا۔

دوسرا دور 1989 سے 2001 تک ہے۔ اس میں امریکہ روس کو شکست دلوانے کے بعد اپنا مقصد حاصل کرکے افغانوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اب خوفناک خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ اس دوران تمام متحارب گروپوں کی آمدنی کا نوے فیصد سے زیادہ انحصار ہیروئن کی کمائی پر تھا۔ اس کی پیداوار دو ہزار ٹن سالانہ ہو چکی تھی۔ یہ مقدار پہلے دور سے کئی گنا زیاد تھی۔ پھر جب طالبان کا دور آیا تو انھوں نے بھی اپنے پہلے دور تک یعنی سن 2000 تک اپنی قومی آمدنی کا کلیدی حصہ اسی کو قرار دیا، بعدازاں اس پر پابندی لگا دی جس کے باعث یہ پیداوار حیرت انگیز طور پر صرف ایک سو پچاسی ٹن رہ گئی؛ تاہم اس کے بدلے انھوں نے امریکہ اور دنیا سے معاوضہ بھی لیا۔

اس کے بعد تیسرا دور شروع ہوا۔ یہ 2001 سے 2016 کا دور ہے جس میں وار آن ٹیرر چلتی رہی۔ اس میں امریکا اور اتحادیوں کو اسی طرح ناکامی ہوئی جس طرح سوویت یونین کو ہوئی تھی۔ اس مرتبہ افغان طالبان کو کہیں سے کوئی سرمایہ ملنے کی توقع نہیں تھی، اس لیے انھوں نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہیروئن کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی۔ اگرچہ اس میں خاطر خواہ کمی ہوئی لیکن پھر بھی وہ اتنی ضرور تھی کہ طالبان اپنا خرچہ چلا سکتے۔ یوں یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ افغان جنگ میں افیون کی پیداوار اور ہیروئن کی پروڈکشن وہ مرکزی نکتہ ہے جسے امریکیوں نے بھلا دیا اور شکست کا داغ اپنے دامن میں لگانے کو تیار بیٹھے ہیں جس طرح کہ سوویت روس!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔