اردو ریڈیو کی دنیا

محمد اجمل طاہر  اتوار 11 فروری 2018
سب سے پہلی پبلک ریڈیو نشریات کا آغاز امریکی ریاست مشی گن سے 1920ء میں ہوا۔ فوٹو : فائل

سب سے پہلی پبلک ریڈیو نشریات کا آغاز امریکی ریاست مشی گن سے 1920ء میں ہوا۔ فوٹو : فائل

دورِ حاضر میں گلوبل ولیج بن جانے والی اس دنیا کے باسیوں کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ چینلز کی آمد سے کئی عشروں قبل کس طرح ریڈیو نے سرحدوں سے بے نیاز ہوکر دنیا کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔ سامعین کی انگلیاں گویا ریڈیو کی ناب پر نہیں بل کہ دنیا کی تہذیب پر ہوتی تھیں۔ معمولی سی جنبش ایک نئی دنیا کا بھید کھولتی تھی۔

19ویں صدی کے اواخر میں اپنے اپنے نظاموںکے ذریعے دنیا کو مسخر کرنے کی تگ و دو در اصل بہت سی تیکنیکی ایجادات کا باعث بنی۔ انہیں ایجادات میں اطالوی الیکٹریکل انجینئر مارکونی کا ریڈیو بھی شامل ہے۔ آواز کو برقی لہروں میں تبدیل کرنا اور پھر ان لہروں کی میلوں دور کسی دوسرے علاقے یا ملک میں دوبارہ آواز میں تبدیلی کا تجربہ ابتدائی طور پر تو پیغام رسانی کے لیے کیا گیا، مگر پھر اسے ماس کمیونیکیشن کے لیے استعمال کرنے کی ٹھانی گئی۔

ریڈیو نے تسخیر بہ ذریعہ پروپیگنڈا کے تصور کو حقیقت کا روپ دیا۔ سرحدوں سے آزاد کمیونیکیشن کی ابتداء دراصل ریڈیو نے ہی کی۔یہ وہ دور تھا جب دنیا پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے مالی منفعت کے ساتھ ساتھ جنگی محاذوں پر بھی ریڈیو نے بنیادی کردار نبھایا۔ ریڈیو ایک طاقت ور ترین پلیٹ فارم بن گیا جسے اختیار کرنا چارونا چار ہر ایک کی ضرورت تھی۔ انسانوں میں بہت کچھ اور بہت جلد جاننے کی خواہش ابتدا سے ہی پائی جاتی ہے۔ جنگوں کے ادوار میں اخبار وہ واحد ذریعہ تھا جس سے حالات کو جاننے میں مدد ملتی تھی، لیکن شوقِ تجسس نے لوگوں کو آناً فاناً ریڈیو کا دل دادہ کردیا۔

سب سے پہلی پبلک ریڈیو نشریات کا آغاز امریکی ریاست مشی گن سے 1920ء میں ہوا۔ اس کے بعد 1922ء میں مارکونی ریسرچ سینٹر نے برطانیہ سے پہلی عوامی انٹرٹینمینٹ نشریات کا اجراء کیا۔ مشہور زمانہ برطانوی ریڈیو چینل بی بی سی (برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن) نے اپنے ریڈیو سفر کا آغاز1927ء میں کیا۔ تاج برطانیہ نے کچھ ہی عرصے بعد 1932ء میں بڑے پیمانے تک زیادہ سے زیادہ ممالک تک رسائی کے لیے بی بی سی ریڈیو کی دیگر زبانوں میں سروسز شروع کیں۔ اردو کی اہمیت کے پیش نظر بی بی سی نے اردو میں بھی اپنی سروس کا آغاز کیا۔

جنگ عظیم دوم کے وقت کم از کم 3 اردو ریڈیو چینل موجود تھے، جن میں بی بی سی اردو سروس کے علاوہ آل انڈیا ریڈیو اور جرمن ریڈیو کی اردو سروس شامل تھی، جس کا آغاز ہٹلرکی حکومت نے برطانوی پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے کیا تھا۔ برطانیہ کی طرح اس وقت کے نازی جرمنی کی جانب سے اردو زبان میں نشریات پیش کرنا اردو زبان کی اہمیت کا اعتراف تھا۔ برلن سے نشر کی جانے والی نشریات برصغیر کے رہنے والوں میں بے حد مقبول تھیں۔

جسٹس حاذق الخیری اپنی تصنیف ’’جاگتے لمحے‘‘ میں لکھتے ہیں،’’1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوچکی تھی، آل انڈیا ریڈیو یا بی بی سی پر کوئی اعتبار نہیں کرتا تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ انگریز کا پروپیگنڈا ہے اور جنگ کی ساری خبریں جھوٹی ہیں۔ رات کو ریڈیو پر برلن ریڈیو بڑی کھڑکھڑاہٹ کے بعد لگتا تھا، اردو میں خبریں آتی تھیں جن کو سننے کے لیے گھر کے بزرگ ریڈیو گھیر کے بیٹھ جاتے تھے۔ ایک آدھ حلقے میں یہ تاثر بھی تھا کہ جرمنی انگریزوں کو ہندوستان سے نکال کر ہندوستان کو آزاد کردے گا۔‘‘ نازی جرمنی کی شکست کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوگیا، مگر اردو کی اہمیت کے پیش نظر دیوار برلن کے انہدام سے دو دہائی قبل مغربی جرمنی میں میں دوبارہ قائم ہونے والے ڈی ڈبلیو (ڈوئچے ویلے) ریڈیو نے اپنی اردو سروس کا آغاز 1964ء میں کیا۔

آل انڈیا ریڈیو سے صداکار مصطفی علی ہمدانی کے اعلان آزادی کے ساتھ الگ ہونے والا ریڈیو پاکستان اردو ریڈیو کی تاریخ میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ریڈیو پاکستان نے زیڈ اے بخاری اور ان جیسے دیگر نام ور ماہرین نشریات، ادیبوں اور شعراء کے طفیل طویل عرصے تک اپنے سننے والوں کے دلوں پر راج کیا۔ ریڈیو کی وجہ تخلیق (وار آف پروپیگنڈا) کے برعکس ریڈیو پاکستان نے معاشرے میں وہ تعمیر ی کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی۔

کئی دہائیوں قبل نشر ہونے والے تلقین شاہ اور اس جیسے دیگر پروگراموں نے ہمارے معاشرے پر وہ ان مٹ نقوش چھوڑے جنہیں وقت آج بھی دھندلا نہیں سکا۔ سیٹیلائٹ چینلز کی آمد سے پہلے تک کے ریڈیو ڈرامے، کرکٹ اور ہاکی میچز کا آنکھوں دیکھ حال اور فرمائشی گیتوں کے پروگرام سامعین کو ریڈیو تک کھینچ لاتے تھے۔ ریڈیو پاکستان نے اشفاق احمد، طارق عزیز، جمشید انصاری، خوش بخت شجاعت، قاضی واجد، ضیاء محی الدین، طلعت حسین جیسے بے شمار نام دیے اور ملک میں ادب ، فن اور صحافت کی مؤثر نرسری ثابت ہوا۔

ملک کی بہت سی قابل ذکر شخصیات آپ کو ایسی ملیں گی جو اس بات کا برملا اظہار کرتی ہیں کہ انہوں نے ریڈیو سے بہت کچھ سیکھا۔ ریڈیو پاکستان کے ہمارے معاشرے پر اثرات کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ کے وقت فوری معلومات تک رسائی کا یہی واحد ذریعہ تھا اور اس سے نشر ہونے والے صدر ایوب کے پیغام ، جنگی حالات اور ترانوں نے عوام کو دشمن کے خلاف سینہ سپر کیا، بہادری کے وہ کارنامے رقم ہوئے جنہیں آج بھی دنیا کی جنگی تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے نہ صرف قومی زبان اردو میں بے مثال پروگرام نشر کیے بل کہ اس کے ساتھ پاکستان کی بیشتر علاقائی زبانوں میں ریجنل مراکز سے نشریات کا اجزاء کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان کو کئی غیرملکی زبانوں میں بھی نشریات کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان صوت القرآن کے عنوان سے بھی ایک چینل طویل عرصہ سے نشر کر رہا ہے۔ پہلے میڈیم ویو اور آج کل ایف ایم سے علی الصبح شروع ہونے والے اسے چینل سے دن بھر دنیا بھر کے قراء کرام کی مسحور کن آوازوں میں تلاوت قرآن کریم بمعہ اردو ترجمہ سننے کو ملتی ہے۔

نوے کی دہائی کے اواخر تک بی بی سی ریڈیو نے بھی خوب سکہ جمائے رکھا۔ ہڑتالوں اور سیاسی رساکشی کے دور میں عوام کے پاس دو ہی ذرائع تھے اول اخبار اور اس کے ضمیمے اور دوم بی بی سی۔ رنگین ٹی وی کی موجودگی کے باوجود سرشام لوگ ریڈیو کے گرد جمع ہوجاتے کہ سیربین اور شب نامے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

شفیع نقی جامعی، رضا علی عابدی اور ماہ پارہ صفدر جیسی آوازیں آج بھی بھولے نہیں بھولتیں۔ غیرجانب داری کے تاثر کے باعث خبروں اور تجزیوں کے لیے عوام بی بی سی ریڈیو کی جانب دیکھتے تھے۔ کشمیر اور افغانستان سمیت دنیا بھر کی صورت حال جاننے کے لیے بھی بہت حد تک لوگ اسی چینل پر بھروسا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے اپنے عالمی ایجنڈے اور بجٹ کی وجہ سے بی بی سی کے نمائندے ہر ملک سے رپورٹنگ کرتے تھے جن میں بہت حد تک برطانوی خارجہ پالیسی کا اثر ہونے کے باوجود بھروسے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا۔

اردو ریڈیو کے سامعین پاکستان سمیت بھارت اور بنگلادیش تک بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم پھیلے ہوئے ہیں۔ اردو دانوں کی منڈیوں تک رسائی اور ان کے اذہان و قلوب کو مسخر کرنے کے لیے اس وقت دنیا بھر سے اردو ریڈیو سروسز نشر کی جاتی ہیں جواس بات کا ثبوت ہے کہ ہم دنیا کے لیے کتنے اہم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نت نئی دریافتوں کے باوجود اس وقت بھی دنیا کے کم ازکم 20 ایسے ممالک ہیں جہاں سے اردو ریڈیو کی لہریں ہماری فضاؤں میں منتقل ہوتی ہیں۔

ان میں بی بی سی لندن، ریڈیو پاکستان، آل انڈیا ریڈیو، صدائے روس، چائنا ریڈیو انٹرنیشنل، وائس آف امریکا، صدائے ترکی(ٹی آرٹی)، سعودی ریڈیو مکہ مکرمہ، ریڈیو قطر اردو سروس، ویٹیکن سٹی اردو ریڈیو سروس، ریڈیو قاہرہ اردو سروس، اردو ریڈیو سروس کویت، ریڈیو ہانگ کانگ اردو سروس، SBS ریڈیو آسٹریلیا اردو سروس، تہران ریڈیو اور HK ورلڈ جاپان اردو سروس شامل ہیں، ایچ کے ورلڈ جاپان ندائے ٹوکیو کے عنوان سے ایک اردو جریدہ بھی شائع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک کے ریڈیو جو اردو سروس کا تو اہتمام نہیں کرتے لیکن اردو زبان میں خبریں ضرور نشر کرتے ہیں، جیسے نیپال ریڈیو۔

ابتدا میں جو ریڈیو ایک کے کمرے کے سائز جتنا ہوا کرتا تھا، اب سکڑ کر مائیکرو سرکٹس کے کسی چھوٹے سے گوشے تک محدود ہوچکا ہے۔ ریڈیو تک رسائی بہت آسان ہے۔ جدید ریڈیو بہ آسانی موبائلز، گھڑیوں اور دیگر بہت سی ڈیوائسز میں دست یاب ہے۔ جدیدیت کا یہ سفر میڈیم ویو (MW) اور شارٹ و یو(SW) کی پُرشور دنیا سے آگے بڑھتے ہوئے ایف ایم کے سریلے جہان تک پہنچ چکا ہے۔ ایف ایم ٹرانسمیٹرز کی نشریات بہت دور تک تو نہیں سنی جاسکتیں لیکن ان کے صوتی معیار(Voice Quality) کی دنیا معترف ہے۔ پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں درجنوں ایف ایم چینلز نشر ہورہے ہیں، جب کہ دنیا کے بہت سے اردو ریڈو اب ایف ایم پر ہی نشر ہوتے ہیں۔

ترقی کے تیز ترین سفر میں اردو ریڈیو بھی پیچھے نہیں ہے۔ دور حاضر میں بدلتے تقاضوں کے پیش نظر اردو ریڈیو نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا چینل ہو جو انٹرنیٹ پر اپنا وجود نہ رکھتا ہو۔ کم و بیش تمام معتبر ریڈیو چینلز کی نمائندہ ویب سائٹس موجود ہیں۔ دنیا بھر سے نشر ہونے والے اردو ریڈیوز کو آپ انٹرنیٹ پر بھی سن سکتے جہاں براہ راست ہی نہیں ریکارڈڈ پروگرام بھی دست یاب ہیں۔ یہی نہیں اب ریڈیو کے ساتھ خط و کتاب بھی آسان ہوچکی ہے۔ کسی بھی خبر یا پروگرام پر آپ اپنی رائے (Feedback) بھی دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی ریڈیو کا اپنے سامعین سے رابطہ مضبوط کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

ریڈیو کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے کچھ ٹی وی چینلز بھی اپنے ریڈیو چینلز آپریٹ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اکثر نام ور نیوز چینلز اپنی ٹرانسمیشن ویب ریڈیو پر بھی نشر کرتے ہیں۔ ترقی اور جدت کے اس سفر میں بی بی سی، وائس آف امریکا اور ڈوئچے ویلے جیسے بین الاقوامی اردو ریڈیو چینلز اور ریڈیو پاکستان نے ویڈیو رپورٹنگ اور نیوز بلیٹنز کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے، جس سے سامعین کے ساتھ ساتھ ناظرین کی بھی بہت بڑی تعداد ریڈیو کے اس نئے چہرے سے روشناس ہورہی ہے، جن پر وہ تمام تر طلسماتی قوت گویائی رکھنے والی شخصیات نمودار ہوتی ہیں جنہیں اب تک صرف ریڈیو پر سنا جا سکتا تھا۔ گو کہ یہ سلسلہ پاکستانی سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز پر ایئر ٹائم حاصل کر کے کیا جارہا ہے، لیکن گمان غالب ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ماضی کے ریڈیو چینلز خود ٹی وی چینلز کی صورت میں جلوہ گر ہوں گے۔

ایک ایسے دور میں جب ٹی وی چینلز بھی اپنی ویور شپ بڑھانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں ریڈیو بالخصوص اردو ریڈیو کو اپنی بقاء کی جنگ نئے خطوط پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے طول و عرض سے تازہ بہ تازہ اور معتبر خبریں، ٹریفک اور موسم کی بدلتی صورت حال، ٹیکنالوجیکل نیوز، امور خانہ داری کی نئی جدتیں، مؤثر دینی راہ نمائی اور ایسے تعمیری مباحثے جن کا تعلق براہ راست عوامی مسائل سے ہو، وہ نئی جہتیں ہیں جن پر اگر کام کیا جائے تو ریڈیو ایک بار پھر معاشرے میں توجہ حاصل کر سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔